مجمع الزوائد ومنبع الفوائد
كتاب الفتن - أعاذنا الله منها— فتنوں کے بارے میں روایات ( اللہ تعالیٰ ہمیں ان سے محفوظ رکھے )
بَابُ حُرْمَةِ دِمَاءِ الْمُسْلِمِينَ وَأَمْوَالِهِمْ وَإِثْمِ مَنْ قَتَلَ مُسْلِمًا . باب: مسلمانوں کے خون ( یعنی جانوں ) اور ان کے اموال کی حرمت کا بیان اور جو شخص کسی مسلمان کو قتل کر دے ، اس کے گناہ کا بیان
حدیث نمبر: 12318
وَعَنِ ابْنِ سِيرِينَ قَالَ : لَمَّا قِيلَ لِسَعْدِ بْنِ أَبِي وَقَّاصٍ : أَلَا تُقَاتِلُ ، إِنَّكَ مِنْ أَهْلِ الشُّورَى ، وَأَنْتَ أَحَقُّ بِهَذَا الْأَمْرِ مِنْ غَيْرِكَ ؟ قَالَ : لَا أُقَاتِلُ حَتَّى يَأْتُونِي بِسَيْفٍ لَهُ عَيْنَانِ وَلِسَانٍ وَشَفَتَانِ يَعْرِفُ الْمُؤْمِنَ مِنَ الْكَافِرِ ، فَقَدْ جَاهَدْتُ وَأَنَا أَعْرِفُ الْجِهَادَ . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ ، وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ . ¤محمد محی الدین
ابن سیرین بیان کرتے ہیں : جب سیدنا سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ سے یہ کہا: گیا : آپ جنگ میں حصہ کیوں نہیں لیتے ؟ آپ اہل شوریٰ میں سے ہیں اور آپ کسی اور کے مقابلے میں اس معاملے کے زیادہ حق دار ہیں ، تو انہوں نے فرمایا : میں اس وقت تک جنگ میں حصہ نہیں لوں گا ، جب تک وہ لوگ میرے پاس ایسی تلوار لے کر نہیں آتے ، جس کی دو آنکھیں ہوں ، ایک زبان ہو ، دو ہونٹ ہوں اور وہ کافر کے مقابلے میں مومن کو پہچان سکتی ہو ، اگر ایسا ہو گا تو میں جنگ میں حصہ لوں گا ، کیونکہ مجھے جہاد کا پتہ ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے اور اس کے رجال صحیح کے رجال ہیں ۔