کتب حدیث ›
مجمع الزوائد ومنبع الفوائد › ابواب
› باب: مسلمانوں کے خون ( یعنی جانوں ) اور ان کے اموال کی حرمت کا بیان اور جو شخص کسی مسلمان کو قتل کر دے ، اس کے گناہ کا بیان
حدیث نمبر: 12284
عَنْ عُقْبَةَ بْنِ خَالِدٍ اللَّيْثِيِّ قَالَ : بَعَثَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - سَرِيَّةً فَغَارَتْ عَلَى قَوْمٍ ، فَشَدَّ رَجُلٌ مِنَ الْقَوْمِ فَاتَّبَعَهُ رَجُلٌ مِنَ السَّرِيَّةِ وَمَعَهُ السَّيْفُ شَاهِرُهُ ، فَقَالَ إِنْسَانٌ مِنَ الْقَوْمِ : إِنِّي مُسْلِمٌ إِنِّي مُسْلِمٌ . فَلَمْ يَنْظُرْ فِيمَا قَالَ فَضَرَبَهُ فَقَتَلَهُ . قَالَ : فَنُمِّيَ الْحَدِيثُ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَقَالَ فِيهِ قَوْلًا شَدِيدًا ، فَبَلَغَ الْقَاتِلَ . قَالَ : فَبَيْنَا رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَخْطُبُ إِذْ قَالَ الْقَاتِلُ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، وَاللَّهِ مَا قَالَ الَّذِي قَالَهُ إِلَّا تَعَوُّذًا مِنَ الْقَتْلِ . فَأَعْرَضَ عَنْهُ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - وَعَنْ مَنْ قِبَلَهُ مِنَ النَّاسِ وَأَخَذَ فِي خُطْبَتِهِ . قَالَ : ثُمَّ عَادَ فَقَالَ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، مَا قَالَ الَّذِي قَالَ إِلَّا تَعَوُّذًا مِنَ الْقَتْلِ . فَأَعْرَضَ عَنْهُ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - وَعَنْ مَنْ قِبَلَهُ مِنَ النَّاسِ . فَلَمْ يَصْبِرْ أَنْ قَالَ فِي الثَّالِثَةِ ، فَأَقْبِلْ عَلَيْهِ تَعْرِفِ الْمَسَاءَةَ فِي وَجْهِهِ ، فَقَالَ : " إِنَّ اللَّهَ - عَزَّ وَجَلَّ - أَبَى عَلَيَّ أَنْ أَقْتُلَ مُؤْمِنًا " ثَلَاثَ مَرَّاتٍ . رَوَاهُ أَبُو يَعْلَى وَأَحْمَدُ بِاخْتِصَارٍ ، إِلَّا أَنَّهُ قَالَ : عُقْبَةُ بْنُ مَالِكٍ بَدَلَ عُقْبَةَ بْنِ خَالِدٍ ، وَالطَّبَرَانِيُّ بِطُولِهِ وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ غَيْرَ بِشْرِ بْنِ عَاصِمٍ اللَّيْثِيِّ وَهُوَ ثِقَةٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا عقبہ بن خالد لیثی رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک جنگی مہم بھیجی ، ان لوگوں نے دشمن پر حملہ کیا ، دشمن میں سے ایک شخص بھاگا ، مہم کے افراد میں سے ایک شخص اس کے پیچھے گیا ، اس کے پاس تلوار تھی ، جو اس نے لہرائی ہوئی تھی ، دشمن سے تعلق رکھنے والے شخص نے کہا: میں مسلمان ہوں ، میں مسلمن ہوں ، لیکن پیچھے جانے والے نے اس کی بات پر توجہ نہیں دی اور اس پر حملہ کر کے اسے قتل کر دیا ، جب یہ بات نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو بتائی گئی ، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس بارے میں سخت ناراضگی کا اظہار کیا ، قتل کرنے والے شخص کو اس بات کی اطلاع ملی ، راوی بیان کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم خطبہ دے رہے تھے ، اسی دوران قتل کرنے والا شخص بولا: یا رسول اللہ ! اللہ کی قسم ! اس شخص نے جو بات کہی تھی ، وہ صرف قتل سے بچنے کے لئے کہی تھی ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس شخص سے اور اس طرف کے لوگوں سے منہ پھیر لیا اور اپنا خطبہ جاری رکھا ، راوی بیان کرتے ہیں : پھر اس شخص نے دوبارہ کھڑے ہو کر عرض کی : یا رسول اللہ ! اس شخص نے جو بات کہی تھی وہ صرف قتل سے بچنے کے لئے کہی تھی ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس شخص سے اور اس کی طرف موجود لوگوں سے منہ پھیر لیا ، اس شخص سے صبر نہیں ہوا ، یہاں تک کہ تیسری مرتبہ اس نے یہ بات کی ، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم اس کی طرف متوجہ ہوئے ، آپ کے چہرے سے ناراضگی کا اظہار ہو رہا تھا ، آپ نے ارشاد فرمایا : ” اللہ تعالیٰ نے مجھے اس چیز کی اجازت نہیں دی ہے کہ میں کسی مومن کو قتل کروں “ یہ بات آپ نے تین مرتبہ ارشاد فرمائی ۔
یہ روایت امام ابویعلیٰ نے نقل کی ہے امام أحمد نے اسے اختصار کے ساتھ نقل کیا ہے ، تاہم انہوں نے سیدنا عقبہ بن خالد رضی اللہ عنہ کی بجائے لفظ ” عقبہ بن مالک “ نقل کیا ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے طویل روایت کے طور پر نقل کی ہے اور اس کے رجال ثقہ ہیں صرف بشر بن عابس لیثی کا معاملہ مختلف ہے اور وہ ثقہ ہے ۔
یہ روایت امام ابویعلیٰ نے نقل کی ہے امام أحمد نے اسے اختصار کے ساتھ نقل کیا ہے ، تاہم انہوں نے سیدنا عقبہ بن خالد رضی اللہ عنہ کی بجائے لفظ ” عقبہ بن مالک “ نقل کیا ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے طویل روایت کے طور پر نقل کی ہے اور اس کے رجال ثقہ ہیں صرف بشر بن عابس لیثی کا معاملہ مختلف ہے اور وہ ثقہ ہے ۔
حدیث نمبر: 12285
وَعَنْ جُنْدَبِ بْنِ سُفْيَانَ قَالَ : إِنِّي لَعِنْدَ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - إِذْ جَاءَهُ بَشِيرٌ مِنْ سَرِيَّةٍ بَعَثَهَا ، فَأَخْبَرَهُ بِنَصْرِ اللَّهِ الَّذِي نَصَرَ سَرِيَّتَهُ وَبِفَتْحِ اللَّهِ الَّذِي فَتَحَ لَهُمْ . قَالَ : فَذَكَرَ نَحْوَ حَدِيثٍ تَقَدَّمَ لِجُنْدَبِ بْنِ سُفْيَانَ وَزَادَ : فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - عِنْدَ ذَلِكَ : " سَيَكُونُ بَعْدِي فِتَنٌ كَقِطَعِ اللَّيْلِ الْمُظْلِمِ تَصْدِمُ كَصَدْمِ الْحَمَاةِ وَفُحُولِ الثِّيرَانِ ، يُصْبِحُ الرَّجُلُ فِيهَا مُسْلِمًا وَيُمْسِي كَافِرًا ، وَيُمْسِي فِيهَا مُسْلِمًا وَيُصْبِحُ كَافِرًا " . فَقَالَ رَجُلٌ مِنَ الْمُسْلِمِينَ : فَكَيْفَ نَصْنَعُ عِنْدَ ذَلِكَ يَا رَسُولَ اللَّهِ ؟ قَالَ : " ادْخُلُوا بُيُوتَكُمْ وَأَخْمِلُوا ذِكْرَكُمْ " . فَقَالَ رَجُلٌ مِنَ الْمُسْلِمِينَ : أَفَرَأَيْتَ إِنْ دَخَلَ عَلَى أَحَدِنَا فِي بَيْتِهِ ؟ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " فَلْيُمْسِكْ بِيَدِهِ ، وَلْيَكُنْ عَبْدَ اللَّهِ الْمَقْتُولَ ، وَلَا يَكُنْ عَبْدَ اللَّهِ الْقَاتِلَ ، فَإِنَّ الرَّجُلَ يَكُونُ فِي قُبَّةِ الْإِسْلَامِ فَيَأْكُلُ مَالَ أَخِيهِ وَيَسْفِكُ دَمَهُ وَيَعْصِي رَبَّهُ وَيَكْفُرُ بِخَالِقِهِ وَتَجِبُ لَهُ جَهَنَّمُ " . رَوَاهُ أَبُو يَعْلَى ، وَفِيهِ عَبْدُ الْحَمِيدِ بْنُ بَهْرَامَ وَشَهْرُ بْنُ حَوْشَبٍ وَقَدْ وُثِّقَا وَفِيهِمَا ضَعْفٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا جندب بن سفیان رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس موجود تھا ، اسی دوران ایک مہم کا خوشخبری سنانے والا شخص آیا ، جس مہم کو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے بھیجا تھا ، اس نے آپ کو بتایا کہ اللہ تعالیٰ کی مدد شامل حال ہوئی اور اس لشکر کی مدد ہو گئی اور اللہ تعالیٰ نے ان لوگوں کو فتح نصیب کی ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ اس کے بعد راوی نے اس کی مانند حدیث نقل کی ہے ، جو سیدنا جندب بن سفیان رضی اللہ عنہ کے حوالے سے پہلے گزر چکی ہے اور اس میں یہ الفاظ ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس وقت یہ ارشاد فرمایا : ” عنقریب میرے بعد ایسے فتنے ہوں گے ، جو تاریک رات کے ٹکڑوں کی مانند ہوں گے ، ان میں آدمی صبح کے وقت مسلمان ہو گا اور شام کے وقت کافر ہو چکا ہو گا ، یا شام کو مسلمان ہو گا اور صبح کے وقت کافر ہو چکا ہو گا ، مسلمانوں میں سے ایک شخص نے عرض کی : یا رسول اللہ ! اُس وقت ہمیں کیا کرنا چاہیے ؟ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : تم اپنے گھروں میں داخل ہو جانا اور چھپ جانا ، حاضرین میں سے ایک صاحب نے عرض کی : اس بارے میں آپ کی کیا رائے ہے ؟ کہ اگر ہم میں سے کسی ایک کے گھر میں وہ شخص داخل ہو جاتا ہے ، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : اس ( اپنے گھر میں موجود ) شخص کو اپنا ہاتھ روک کے رکھنا چاہیے ، اور اللہ کا مقتول بندہ بننا چاہیے ، اللہ کا قاتل بندہ نہیں بننا چاہیے ، کیونکہ آدمی اسلام کے قبہ میں ہوتا ہے ، پھر وہ اپنے بھائی کا مال کھاتا ہے اور اس کا خون بہاتا ہے ، اپنے پروردگار کی نافرمانی کرتا ہے ، اپنے خالق کا کفر کرتا ہے ، تو اُس کے لئے جہنم واجب ہو جاتی ہے ۔ “
یہ روایت امام ابویعلیٰ نے نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی عبدالحمید بن بہرام ہے اور ایک راوی شہر بن حوشب ہے ان دونوں کی توثیق کی گئی ہے اور ان دونوں میں ضعف پایا جاتا ہے ۔
یہ روایت امام ابویعلیٰ نے نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی عبدالحمید بن بہرام ہے اور ایک راوی شہر بن حوشب ہے ان دونوں کی توثیق کی گئی ہے اور ان دونوں میں ضعف پایا جاتا ہے ۔
حدیث نمبر: 12286
وَعَنْ أَبِي عِمْرَانَ قَالَ : قُلْتُ لِجُنْدَبٍ : إِنِّي قَدْ بَايَعْتُ هَؤُلَاءِ - يَعْنِي ابْنَ الزُّبَيْرِ - وَإِنَّهُمْ يُرِيدُونَ أَنْ أَخْرُجَ مَعَهُمْ إِلَى الشَّامِ . فَقَالَ : أَمْسِكْ . فَقُلْتُ : إِنَّهُمْ يَأْبَوْنَ . قَالَ : افْتَدِ بِمَالِكَ . فَقُلْتُ : إِنَّهُمْ يَأْبَوْنَ إِلَّا أَنْ أَضْرِبَ مَعَهُمْ بِالسَّيْفِ . فَقَالَجُنْدَبٌ : حَدَّثَنِي فُلَانٌ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ : " يَجِيءُ الْمَقْتُولُ بِقَاتِلِهِ يَوْمَ الْقِيَامَةِ فَيَقُولُ : يَا رَبِّ سَلْ هَذَا فِيمَ قَتَلَنِي ؟ " . - قَالَ شُعْبَةُ : وَأَحْسَبُهُ قَالَ : - " عَلَى مَا قَتَلْتَهُ ؟ فَيَقُولُ : قَتَلْتُهُ عَلَى مُلْكِ فُلَانٍ " . قَالَ : فَقَالَ جُنْدَبٌ : فَاتَّقِهَا . رَوَاهُ أَحْمَدُ وَالطَّبَرَانِيُّ ، وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ . ¤
محمد محی الدین
ابوعمران بیان کرتے ہیں : میں نے سیدنا جندب رضی اللہ عنہ سے کہا: میں نے ان لوگوں کی ، یعنی سیدنا عبداللہ بن زبیر رضی اللہ عنہما کی بیعت کر لی ہے ، اور وہ لوگ یہ چاہتے ہیں کہ میں ان لوگوں کے ساتھ نکل کر شام کی طرف جاؤں ، تو انہوں ( یعنی سیدنا جندب رضی اللہ عنہ ) نے فرمایا : تم رک جاؤ ! میں نے کہا: وہ لوگ نہیں مانتے ہیں ، انہوں نے کہا: تم مال فدیہ کے طور پر دے دو ! میں نے کہا: وہ لوگ اس بات پر اصرار کر رہے ہیں کہ میں ان کے ساتھ تلوار لے کر حصہ لوں ، تو سیدنا جندب رضی اللہ عنہ نے فرمایا : مجھے فلاں شخص نے یہ بات بیان کی ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا ہے : ” قیامت کے دن مقتول اپنے قاتل کو لے کر آئے گا اور عرض کرے گا : اے میرے پروردگار ! اس شخص سے پوچھ ! کہ اس نے مجھے کیوں قتل کیا تھا ؟ شعبہ نامی راوی کہتے ہیں : میرا خیال ہے روایت میں یہ الفاظ بھی ہیں : اللہ تعالیٰ فرمائے گا : تم نے اسے کیوں قتل کیا تھا ؟ تو وہ عرض کرے گا : میں نے فلاں شخص کی حکومت کی خاطر اسے قتل کیا تھا ۔ “ راوی کہتے ہیں : تو سیدنا جندب رضی اللہ عنہ نے کہا: تم اس چیز سے بچ کے رہنا ۔
یہ روایت امام أحمد اور امام طبرانی نے نقل کی ہے اور اس کے رجال صحیح کے رجال ہیں ۔
یہ روایت امام أحمد اور امام طبرانی نے نقل کی ہے اور اس کے رجال صحیح کے رجال ہیں ۔
حدیث نمبر: 12287
وَعَنْ عُبَادَةَ بْنِ قُرْصٍ أَنَّ رَجُلًا مِنَ الْمُسْلِمِينَ حَمَلَ عَلَى رَجُلٍ مِنَ الْكُفَّارِ فَطَعَنَهُ بِالرُّمْحِ ، فَالْتَفَتَ إِلَيْهِ فَقَالَ : إِنِّي مُسْلِمٌ ، فَقَتَلَهُ . فَذُكِرَ ذَلِكَ لِرَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَقَالَ : " أَقَتَلْتَهُ بَعْدَ أَنْ قَالَ : إِنِّي مُسْلِمٌ ؟ " . فَقُلْتُ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، إِنِّي طَعَنْتُهُ بِالرُّمْحِ . فَأَعْرَضَ عَنِّي وَقَالَ : " أَبَى أَبَى عَلَيَّ فِيمَنْ قَتَلَ مُسْلِمًا " . رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ ، وَفِيهِ عَدِيُّ بْنُ الْفَضْلِ التَّيْمِيُّ وَهُوَ مَتْرُوكٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا عبادہ بن قرص رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : مسلمانوں میں سے ایک شخص نے کفار سے تعلق رکھنے والے ایک شخص پر حملہ کیا ، اس نے اسے نیزہ مارا تو دوسرے شخص نے مڑ کر اس کی طرف دیکھا اور بولا: میں مسلمان ہوں ، لیکن پہلے شخص نے اسے قتل کر دیا ، اس بات کا تذکرہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے کیا گیا ، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : کیا اس کے یہ کہنے کے بعد کہ میں مسلمان ہوں ، تم نے اسے قتل کر دیا ؟ اس شخص نے عرض کی : یا رسول اللہ ! میں نے اسے نیزہ مارا تھا ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھ سے منہ پھیر لیا ، آپ نے ارشاد فرمایا : مجھے اس بات کی اجازت نہیں دی گئی کہ کوئی شخص کسی مسلمان کو قتل کر دے ۔ “
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی عدی بن فضل تیمی ہے اور وہ متروک ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی عدی بن فضل تیمی ہے اور وہ متروک ہے ۔
حدیث نمبر: 12288
وَعَنِ الْحَسَنِ قَالَ : لَمَّا مَاتَ دَفَنَهُ قَوْمُهُ فَلَفَظَتْهُ الْأَرْضُ ، ثُمَّ دَفَنُوهُ فَلَفَظَتْهُ الْأَرْضُ ، ثَلَاثَ مَرَّاتٍ ، فَأَلْقَوْهُ بَيْنَ ضَوْجَيْ جَبَلٍ ، وَرَمَوْا عَلَيْهِ الْحِجَارَةَ ، فَأَكَلَتْهُ السِّبَاعُ . قَالَ ابْنُ أَبِي الزِّنَادِ : بَلَغَنِي أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - لَمَّا أَخْبَرَ أَنَّ الْأَرْضَ لَفَظَتْهُ قَالَ : " أَمَا إِنَّ الْأَرْضَ تَقْبَلُ مَنْ هُوَ شَرُّ مِنْهُ ، وَلَكِنَّ اللَّهَ أَرَادَ أَنْ يُرِيَكُمْ عِظَمَ الدَّمِ عِنْدَهُ " . قُلْتُ : رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي تَرْجَمَةِ ضُمَيْرَةَ عَقِبَ قِصَّةِ مُحَلِّمِ بْنِ جَثَّامَةَ ، وَإِسْنَادُهُ مُنْقَطِعٌ . ¤
محمد محی الدین
حسن بیان کرتے ہیں : اس قتل کرنے والے شخص کا جب انتقال ہوا اور اس کی قوم کے افراد نے اسے دفن کیا ، تو زمین نے اُسے باہر پھینک دیا ، انہوں نے دوبارہ اسے دفن کیا ، تو زمین نے اسے باہر پھینک دیا ، ایسا تین مرتبہ ہوا ، تو ان لوگوں نے اسے پہاڑ کے درمیان میں ڈال دیا اور اس پر پتھر پھینک دیے ، پھر درندوں نے اُسے کھا لیا ۔ ابن ابوزناد بیان کرتے ہیں : مجھ تک
یہ روایت پہنچی ہے کہ جب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو اس بات کی اطلاع ملی کہ زمین نے اسے باہر پھینک دیا ہے ، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” زمین اُس شخص کو بھی قبول کر لیتی ہے ، جو اس سے زیادہ برا ہو ، لیکن اللہ تعالیٰ نے یہ ارادہ کیا کہ وہ اپنی بارگاہ میں خون کی اہمیت تمہیں دکھا دے ۔ “ ( علامہ ہیثمی فرماتے ہیں ) میں یہ کہتا ہوں :
یہ روایت امام طبرانی نے ضمیرہ کے حالات میں محلم بن جثامہ کے واقعہ کے بعد نقل کی ہے اور اس کی سند منقطع ہے ۔
یہ روایت پہنچی ہے کہ جب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو اس بات کی اطلاع ملی کہ زمین نے اسے باہر پھینک دیا ہے ، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” زمین اُس شخص کو بھی قبول کر لیتی ہے ، جو اس سے زیادہ برا ہو ، لیکن اللہ تعالیٰ نے یہ ارادہ کیا کہ وہ اپنی بارگاہ میں خون کی اہمیت تمہیں دکھا دے ۔ “ ( علامہ ہیثمی فرماتے ہیں ) میں یہ کہتا ہوں :
یہ روایت امام طبرانی نے ضمیرہ کے حالات میں محلم بن جثامہ کے واقعہ کے بعد نقل کی ہے اور اس کی سند منقطع ہے ۔
حدیث نمبر: 12289
وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ وَأَبِي سَعِيدٍ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - خَطَبَ فَقَالَ : " أَيُّ يَوْمٍ هَذَا ؟ " . قَالُوا : يَوْمٌ حَرَامٌ . قَالَ : " فَإِنَّ دِمَاءَكُمْ وَأَمْوَالَكُمْ عَلَيْكُمْ حَرَامٌ كَحُرْمَةِ يَوْمِكُمْ هَذَا فِي شَهْرِكُمْ هَذَا فِي بَلَدِكُمْ هَذَا " . قُلْتُ : حَدِيثُ أَبِي سَعِيدٍ رَوَاهُ ابْنُ مَاجَهْ . رَوَاهُ الْبَزَّارُ ، وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ اور سیدنا ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے خطبہ دیتے ہوئے دریافت کیا : یہ کون سا دن ہے ؟ لوگوں نے عرض کی : یہ حرمت والا دن ہے ، آپ نے ارشاد فرمایا : تمہاری جانیں ، تمہارے اموال ، ایک دوسرے کے لئے اسی طرح قابل احترام ہیں ، جس طرح تمہارے اس دن کی ، تمہارے اس مہینے میں ، تمہارے اس شہر میں حرمت ہے ۔ “ ( علامہ ہیثمی فرماتے ہیں ) میں یہ کہتا ہوں سیدنا ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ کی نقل کردہ حدیث کو امام ابن ماجہ نے بھی روایت کیا ہے ۔
یہ روایت امام بزار نے نقل کی ہے اور اس کے رجال صحیح کے رجال ہیں ۔
یہ روایت امام بزار نے نقل کی ہے اور اس کے رجال صحیح کے رجال ہیں ۔
حدیث نمبر: 12290
وَعَنْ عَمَّارِ بْنِ يَاسِرٍ قَالَ : خَطَبَنَا رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَقَالَ : " أَيُّ يَوْمٍ هَذَا ؟ " . قُلْنَا : يَوْمُ النَّحْرِ . قَالَ : " أَيُّ شَهْرٍ هَذَا ؟ " . قُلْنَا : ذُو الْحِجَّةِ شَهْرٌ حَرَامٌ . قَالَ : " فَأَيُّ بَلَدٍ هَذَا ؟ " . قُلْنَا : بَلَدٌ حَرَامٌ . قَالَ : " فَإِنَّ دِمَاءَكُمْ وَأَمْوَالَكُمْ وَأَعْرَاضَكُمْ عَلَيْكُمْ حَرَامٌ كَحُرْمَةِ يَوْمِكُمْ هَذَا فِي شَهْرِكُمْ هَذَا فِي بَلَدِكُمْ هَذَا ، أَلَا [ هَلْ ] يُبَلِّغِ الشَّاهِدُ الْغَائِبَ ؟ " . رَوَاهُ أَبُو يَعْلَى وَالطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ ، وَفِيهِ عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ عَمْرِو بْنِ جَبَلَةَ وَهُوَ مَتْرُوكٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا عمار بن یاسر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں خطبہ دیتے ہوئے دریافت کیا : یہ کون سا دن ہے ؟ ہم نے عرض کی : یہ قربانی کا دن ہے ، آپ نے دریافت کیا : یہ کون سا مہینہ ہے ؟ ہم نے عرض کی : یہ ذوالحج کا حرمت والا مہینہ ہے ، آپ نے دریافت کیا : یہ کون سا شہر ہے ؟ ہم نے عرض کی : یہ حرمت والا شہر ہے ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : تو تمہاری جانیں ، تمہارے اموال اور تمہاری عزتیں ایک دوسرے کے لئے اُسی طرح قابل احترام ہیں ، جس طرح یہ دن تمہارے لے قابل احترام ہے ، جو تمہارے اس مہینے میں ، تمہارے اس شہر میں ہے ، خبردار ! موجود افراد غیر موجود لوگوں تک تبلیغ کر دیں ۔ “
یہ روایت امام ابویعلیٰ نے ، امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی عبدالرحمن بن عمرو بن جبلہ ہے اور وہ متروک ہے ۔
یہ روایت امام ابویعلیٰ نے ، امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی عبدالرحمن بن عمرو بن جبلہ ہے اور وہ متروک ہے ۔
حدیث نمبر: 12291
وَعَنِ الْبَرَاءِ وَزَيْدِ بْنِ أَرْقَمَ قَالَا : سَمِعْنَا رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَقُولُ : " إِنَّ دِمَاءَكُمْ وَأَمْوَالَكُمْ عَلَيْكُمْ حَرَامٌ كَحُرْمَةِ يَوْمِكُمْ هَذَا فِي شَهْرِكُمْ هَذَا فِي بَلَدِكُمْ هَذَا " . رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ ، وَفِيهِ مُوسَى بْنُ عُثْمَانَ الْحَضْرَمِيُّ وَهُوَ مَتْرُوكٌ . قُلْتُ : وَقَدْ تَقَدَّمَتْ أَحَادِيثُ فِي الْحَجِّ وَالدِّيَاتِ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا براء رضی اللہ عنہ اور سیدنا زید بن ارقم رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : ہم نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا بے : ” بے شک تمہاری جانیں اور تمہارے اموال ایک دوسرے کے لئے اسی طرح قابل احترام ہیں ، جس طرح تمہارے اس دن کی ، تمہارے اس مہینے میں ، تمہارے اس شہر میں حرمت ہے ۔ “
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی موسیٰ بن عثمان حضرمی ہے اور وہ متروک ہے ۔ ( علامہ ہیثمی فرماتے ہیں ) میں یہ کہتا ہوں : اس سے پہلے کتاب الحج اور کتاب الدیات میں اس نوعیت کی احادیث گزر چکی ہیں ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی موسیٰ بن عثمان حضرمی ہے اور وہ متروک ہے ۔ ( علامہ ہیثمی فرماتے ہیں ) میں یہ کہتا ہوں : اس سے پہلے کتاب الحج اور کتاب الدیات میں اس نوعیت کی احادیث گزر چکی ہیں ۔
حدیث نمبر: 12292
وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " لَا يَقْتُلُ الْقَاتِلُ حِينَ يَقْتُلُ وَهُوَ مُؤْمِنٌ ، وَلَا يَزْنِي الزَّانِي حِينَ يَزْنِي وَهُوَ مُؤْمِنٌ ، وَلَا يَشْرَبُ الْخَمْرَ حِينَ يَشْرَبُهَا وَهُوَ مُؤْمِنٌ ، وَلَا يَخْتَلِسُ خِلْسَةً وَهُوَ مُؤْمِنٌ ، يَخْتَلِعُ مِنْهُ الْإِيمَانَ كَمَا يَخْلَعُ سِرْبَالَهُ ، فَإِذَا رَجَعَ إِلَى الْإِيمَانِ رَجَعَ إِلَيْهِ ، وَإِذَا رَجَعَ رَجَعَ إِلَيْهِ الْإِيمَانُ " . قُلْتُ : هُوَ فِي الصَّحِيحِ بِاخْتِصَارٍ . ¤ رَوَاهُ الْبَزَّارُ ، وَفِيهِ مُبَارَكُ بْنُ حَسَّانَ ، وَثَّقَهُ ابْنُ مَعِينٍ وَغَيْرُهُ ، وَضَعَّفَهُ أَبُو دَاوُدَ وَغَيْرُهُ ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ ثِقَاتٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” قتل کرنے والا شخص قتل کرتے ہوئے مومن نہیں ہوتا ، زنا کرنے والا شخص زنا کرتے ہوئے مومن نہیں ہوتا ، شراب پینے والا شخص شراب پیتے ہوئے مومن نہیں ہوتا ، کوئی چیز اچکنے والا شخص اس چیز کو اچکتے ہوئے مومن نہیں ہوتا ، اس سے ایمان یوں الگ ہو جاتا ہے ، جس طرح آدمی اپنی قمیص کو اُتارتا ہے ، جب وہ ایمان کی طرف رجوع کرتا ہے ، تو ایمان بھی اس کی طرف لوٹ آتا ہے ، جب وہ رجوع کرتا ہے ، تو ایمان بھی اس کی طرف لوٹ آتا ہے ۔ “ ( علامہ ہیثمی فرماتے ہیں ) میں یہ کہتا ہوں :
یہ روایت صحیح میں اختصار کے ساتھ منقول ہے ۔
یہ روایت امام بزار نے نقل کی ہے اس کی سند میں ایک راوی مبارک بن حسان ہے ، جسے یحیی بن معین اور دیگر حضرات نے ثقہ قرار دیا ہے ، امام ابوداؤد اور دیگر حضرات نے اسے ضعیف کہا: ہے ، اس روایت کے بقیہ رجال ثقہ ہیں ۔
یہ روایت صحیح میں اختصار کے ساتھ منقول ہے ۔
یہ روایت امام بزار نے نقل کی ہے اس کی سند میں ایک راوی مبارک بن حسان ہے ، جسے یحیی بن معین اور دیگر حضرات نے ثقہ قرار دیا ہے ، امام ابوداؤد اور دیگر حضرات نے اسے ضعیف کہا: ہے ، اس روایت کے بقیہ رجال ثقہ ہیں ۔
حدیث نمبر: 12293
وَعَنْ عَبْدِ اللَّهِ - يَعْنِي ابْنَ مَسْعُودٍ - أَنَّ النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ : " لَا تَرْجِعُوا بَعْدِي كُفَّارًا يَضْرِبُ بَعْضُكُمْ رِقَابَ بَعْضٍ " . رَوَاهُ أَحْمَدُ وَأَبُو يَعْلَى وَالْبَزَّارُ وَالطَّبَرَانِيُّ ، وَرِجَالُهُمْ رِجَالُ الصَّحِيحِ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں : ” میرے بعد کافر نہ ہو جانا کہ ایک دوسرے کی گردنیں اڑانے لگو ۔ “
یہ روایت امام أحمد ، امام ابویعلیٰ ، امام بزار اور امام طبرانی نے نقل کی ہے اور ان کے رجال صحیح کے رجال ہیں ۔
یہ روایت امام أحمد ، امام ابویعلیٰ ، امام بزار اور امام طبرانی نے نقل کی ہے اور ان کے رجال صحیح کے رجال ہیں ۔
حدیث نمبر: 12294
وَعَنِ الصُّنَابِحِيِّ قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " إِنِّي مُكَاثِرٌ بِكُمُ الْأُمَمَ ، فَلَا تَرْجِعُنَّ بَعْدِي كُفَّارًا يَضْرِبُ بَعْضُكُمْ رِقَابَ بَعْضٍ " . قُلْتُ : رَوَاهُ ابْنُ مَاجَهْ بِاخْتِصَارٍ . ¤ رَوَاهُ أَحْمَدُ وَأَبُو يَعْلَى ، وَفِيهِ مُجَالِدُ بْنُ سَعِيدٍ وَفِيهِ خِلَافٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا صنابحی رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” میں دوسری اُمتوں کے سامنے تمہاری کثرت پر فخر کا اظہار کروں گا ، تو تم میرے بعد دوبارہ کافر نہ ہو جانا کہ ایک دوسرے کی گردنیں مارنے لگو ۔ “ ( علامہ ہیثمی فرماتے ہیں ) میں یہ کہتا ہوں
یہ روایت امام ابن ماجہ نے اختصار کے ساتھ نقل کی ہے ۔
یہ روایت امام أحمد اور امام ابویعلیٰ نے نقل کی ہے ، اس روایت کی سند میں ایک راوی مجالد بن سعید ہے اور اس میں اختلاف پایا جاتا ہے ۔
یہ روایت امام ابن ماجہ نے اختصار کے ساتھ نقل کی ہے ۔
یہ روایت امام أحمد اور امام ابویعلیٰ نے نقل کی ہے ، اس روایت کی سند میں ایک راوی مجالد بن سعید ہے اور اس میں اختلاف پایا جاتا ہے ۔
حدیث نمبر: 12295
وَعَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " إِنَّكُمُ الْيَوْمَ عَلَى دِينٍ ، وَإِنِّي مُكَاثِرٌ بِكُمُ الْأُمَمَ ، فَلَا تَمْشُوا بَعْدِي الْقَهْقَرَى " . رَوَاهُ أَحْمَدُ وَأَبُو يَعْلَى وَالطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ ، وَفِيهِ مُجَالِدٌ وَفِيهِ خِلَافٌ ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ ثِقَاتٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما روایت کرتے ہیں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” تم لوگ آج دین پر قائم ہو اور میں تمہاری کثرت پر دیگر امتوں کے سامنے فخر کا اظہار کروں گا تم میرے بعد الٹے قدموں پلٹ نہ جانا ۔ “
یہ روایت امام أحمد ، امام ابویعلیٰ نے اور امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے اس کی سند میں ایک راوی مجالد ہے اور اس کے بارے میں اختلاف پایا جاتا ہے اس روایت کے بقیہ رجال ثقہ ہیں ۔
یہ روایت امام أحمد ، امام ابویعلیٰ نے اور امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے اس کی سند میں ایک راوی مجالد ہے اور اس کے بارے میں اختلاف پایا جاتا ہے اس روایت کے بقیہ رجال ثقہ ہیں ۔
حدیث نمبر: 12296
وَعَنْ أَنَسٍ عَنِ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - أَنَّهُ قَالَ لَأَصْحَابِهِ : " لَا أَعْرِفَنَّكُمْ تَرْجِعُونَ بَعْدِي كُفَّارًا يَضْرِبُ بَعْضُكُمْ رِقَابَ بَعْضٍ " . رَوَاهُ الْبَزَّارُ وَأَبُو يَعْلَى ، وَفِيهِ مُبَارَكُ بْنُ سُحَيْمٍ وَهُوَ مَتْرُوكٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا انس رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے اصحاب سے ارشاد فرمایا : ” میں ( قیامت کے دن ) تم لوگوں کو ایسی حالت میں ہرگز نہ پاؤں کہ تم میرے بعد کافر ہو گئے تھے اور ایک دوسرے کی گردنیں مارنے لگے تھے ۔ “
یہ روایت امام بزار اور امام ابویعلیٰ نے نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی مبارک بن سحیم ہے اور وہ متروک ہے ۔
یہ روایت امام بزار اور امام ابویعلیٰ نے نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی مبارک بن سحیم ہے اور وہ متروک ہے ۔
حدیث نمبر: 12297
وَعَنْ أُسَامَةَ بْنِ زَيْدٍ قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " لَا تَرْجِعُوا بَعْدِي كُفَّارًا يَضْرِبُ بَعْضُكُمْ رِقَابَ بَعْضٍ " . رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ ، وَفِيهِ مَنْ لَمْ أَعْرِفْهُ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا اسامہ بن زید رضی اللہ عنہما روایت کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” تم میرے بعد دوبارہ کافر نہ ہو جانا کہ ایک دوسرے کی گردنیں اڑانے لگو ۔ “
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے اور اس کی سند میں ایسا راوی ہے ، جس سے میں واقف نہیں ہوں ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے اور اس کی سند میں ایسا راوی ہے ، جس سے میں واقف نہیں ہوں ۔
حدیث نمبر: 12298
وَعَنْ عُبَادَةَ بْنِ الصَّامِتِ عَنِ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ : " كُلُّ ذَنْبٍ عَسَى اللَّهُ أَنْ يَغْفِرَهُ إِلَّا مَنْ مَاتَ مُشْرِكًا أَوْ قَتَلَ مُؤْمِنًا مُتَعَمِّدًا " . ¤ رَوَاهُ الْبَزَّارُ ، وَرِجَالُهُ ثِقَاتٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا عبادہ بن صامت رضی اللہ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں : ” قیامت کے دن اللہ تعالیٰ ہر گناہ معاف کر دے گا ، البتہ اس شخص کا معاملہ مختلف ہے ، جو مشرک ہونے کے عالم میں مرا ہو ، یا جس نے کسی مؤمن کو جان بوجھ کر قتل کیا ہو ۔ “
یہ روایت امام بزار نے نقل کی ہے اور اس کے رجال ثقہ ہیں ۔
یہ روایت امام بزار نے نقل کی ہے اور اس کے رجال ثقہ ہیں ۔
حدیث نمبر: 12299
وَعَنْ عَامِرٍ الشَّعْبِيِّ قَالَ : لَمَّا قَاتَلَ مَرْوَانُ الضَّحَّاكَ بْنَ قَيْسٍ أَرْسَلَ إِلَى أَيْمَنَ بْنِ خُرَيْمٍ الْأَسَدِيِّ ، فَقَالَ : إِنَّا نُحِبُّ أَنْ تُقَاتِلَ مَعَنَا . فَقَالَ : إِنَّ أَبِي وَعَمِّي شَهِدَا بَدْرًا فَعَهِدَا إِلَيَّ أَنْ لَا أُقَاتِلَ أَحَدًا يَشْهَدُ أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ ، فَإِنْ جِئْتَنِي بِبَرَاءَةٍ مِنَ النَّارِ قَاتَلْتُ مَعَكَ . فَقَالَ : اذْهَبْ ، وَوَقَعَ فِيهِ وَسَبَّهُ ، فَأَنْشَأَ أَيْمَنُ يَقُولُ : ¤ وَلَسْتُ مُقَاتِلًا رَجُلًا يُصَلِّي عَلَى سُلْطَانِ آخَرَ مِنْ قُرَيْشٍ ¤ لَهُ سُلْطَانُهُ وَعَلَيَّ إِثْمِي ¤ مَعَاذَ اللَّهِ مِنْ جَهْلٍ وَطَيْشِ . ¤ أُقَاتِلُ مُسْلِمًا فِي غَيْرِ شَيْءٍ فَلَيْسَ بِنَافِعِي مَا عِشْتُ عَيْشِي ¤ رَوَاهُ أَبُو يَعْلَى وَالطَّبَرَانِيُّ بِنَحْوِهِ ، إِلَّا أَنَّهُ قَالَ : " وَلَسْتُ بِقَاتِلٍ رَجُلًا يُصَلِّي " . وَقَالَ : " مَعَاذَ اللَّهِ مِنْ فَشَلٍ وَطَيْشِ " . وَقَالَ : " أَأَقْتُلُ مُسْلِمًا فِي غَيْرِ جُرْمٍ " . ¤ وَرِجَالُ أَبِي يَعْلَى رِجَالُ الصَّحِيحِ ، غَيْرُ زَكَرِيَّا بْنِ يَحْيَى زَحْمَوَيْهِ وَهُوَ ثِقَةٌ . ¤
محمد محی الدین
عامر شعبی بیان کرتے ہیں : جب مروان نے ضحاک بن قیس سے جنگ کرنے کا ارادہ کیا ، تو اس نے سیدنا ایمن بن خریم اسدی رضی اللہ عنہ کو پیغام بھیجا اور یہ کہا: کیا آپ یہ بات پسند کریں گے کہ ہمارے ساتھ جنگ میں حصہ لیں ، انہوں نے جواب دیا : میرے والد اور میرے چچا کو غزوہ بدر میں شرکت کا شرف حاصل ہے ، اُن دونوں نے مجھے یہ تلقین کی تھی کہ میں ایسے کسی شخص کے ساتھ جنگ نہ کروں ، جو اس بات کی گواہی دیتا ہو کہ اللہ تعالیٰ کے علاوہ اور کوئی معبود نہیں ہے ، اگر تم میرے پاس جہنم سے بچ جانے کا ( کوئی حکم ) لے کر آتے ہو ، تو میں تمہارے ساتھ جنگ کر لوں گا ، اس نے کہا: آپ تشریف لے جائیں ، اس نے ان پر تنقید کی اور انہیں برا بھلا کہا: ، تو سیدنا ایمن بن خریم اسدی رضی اللہ عنہ نے یہ اشعار کہے : ” میں ایسے شخص کے ساتھ جنگ نہیں کروں گا ، جو نماز ادا کرتا ہو اور جنگ کا مقصد ، صرف قریش سے تعلق رکھنے والے ایک شخص کی حکمرانی ہو ، اسے تو اس کی حکمرانی مل جائے گی اور میرے ذمہ گناہ لازم آئے گا ، میں جہالت اور طیش سے اللہ کی پناہ مانگتا ہوں ، کیا میں کسی وجہ کے بغیر کسی مسلمان کے ساتھ جنگ کروں ، یہ چیز تو مجھے کوئی فائدہ نہیں دے گی ، خواہ میں جب تک بھی زندہ رہوں ۔ “
یہ روایت امام ابویعلیٰ نے نقل کی ہے ، امام طبرانی نے اس کی مانند نقل کی ہے ، تاہم انہوں نے یہ الفاظ نقل کے ہیں : ” میں ایسے کسی شخص کو قتل نہیں کروں گا ، جو نماز ادا کرتا ہو ۔ “ اور اس میں یہ الفاظ ہیں : ” پھسل جانے اور طیش سے اللہ کی پناہ ہے ۔ “ اور اس میں یہ الفاظ بھی ہیں : ” کیا میں کسی جرم کے بغیر ، کسی مسلمان کو قتل کر دوں ۔ “
یہ روایت امام ابویعلیٰ نے نقل کی ہے اور اس کے رجال صحیح کے رجال ہیں ، صرف زکریا بن یحیی زحمویہ کا معاملہ مختلف ہے اور وہ ثقہ ہے ۔
یہ روایت امام ابویعلیٰ نے نقل کی ہے ، امام طبرانی نے اس کی مانند نقل کی ہے ، تاہم انہوں نے یہ الفاظ نقل کے ہیں : ” میں ایسے کسی شخص کو قتل نہیں کروں گا ، جو نماز ادا کرتا ہو ۔ “ اور اس میں یہ الفاظ ہیں : ” پھسل جانے اور طیش سے اللہ کی پناہ ہے ۔ “ اور اس میں یہ الفاظ بھی ہیں : ” کیا میں کسی جرم کے بغیر ، کسی مسلمان کو قتل کر دوں ۔ “
یہ روایت امام ابویعلیٰ نے نقل کی ہے اور اس کے رجال صحیح کے رجال ہیں ، صرف زکریا بن یحیی زحمویہ کا معاملہ مختلف ہے اور وہ ثقہ ہے ۔
حدیث نمبر: 12300
وَعَنْ أَبِي سَعِيدٍ قَالَ : قُتِلَ قَتِيلٌ عَلَى عَهْدِ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَصَعِدَ النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - خَطِيبًا فَقَالَ : " أَمَا تَعْلَمُونَ مَنْ قَتَلَ هَذَا الْقَتِيلَ بَيْنَ أَظْهُرِكُمْ ؟ " ثَلَاثَ مَرَّاتٍ . قَالُوا : اللَّهُمَّ لَا . فَقَالَ : " وَالَّذِي نَفْسُ مُحَمَّدٍ بِيَدِهِ ، لَوْ أَنَّ أَهْلَ السَّمَاوَاتِ وَأَهْلَ الْأَرْضِ اجْتَمَعُوا عَلَى قَتْلِ مُؤْمِنٍ أَدْخَلَهُمُ اللَّهُ جَمِيعًا جَهَنَّمَ ، وَلَا يُبْغِضُنَا أَهْلَ الْبَيْتِ أَحَدٌ إِلَّا كَبَّهُ اللَّهُ فِي النَّارِ " . ¤ رَوَاهُ الْبَزَّارُ ، وَفِيهِ دَاوُدُ بْنُ عَبْدِ الْحَمِيدِ وَغَيْرُهُ مِنَ الضُّعَفَاءِ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانہ اقدس میں ایک شخص قتل ہو گیا ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم خطبہ دینے کے لئے ( منبر پر ) چڑھے آپ نے ارشاد فرمایا : کیا تم لوگ یہ بات نہیں جانتے ہو کہ تمہارے درمیان اس مقتول کو کس نے قتل کیا ہے ، یہ بات آپ نے تین مرتبہ دریافت کی ، تو لوگوں نے یہی کہا: کہ اللہ جانتا ہے ، ہم نہیں جانتے ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” اس ذات کی قسم ! جس کے دست قدرت میں محمد کی جان ہے ، اگر تمام آسمان والے اور تمام زمین والے کسی مومن کو قتل کرنے پر اکٹھے ہو جائیں ، تو اللہ تعالیٰ ان سب کو جہنم میں داخل کر دے گا ، اور ہم اہل بیت سے جو بھی شخص بغض رکھے گا ، اللہ تعالیٰ اسے اوندھے منہ جہنم میں ڈال دے گا ۔ “
یہ روایت امام بزار نے نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی داؤد بن عبدالحمید ہے اور اس کے علاوہ دیگر ضعیف راوی ہیں ۔
یہ روایت امام بزار نے نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی داؤد بن عبدالحمید ہے اور اس کے علاوہ دیگر ضعیف راوی ہیں ۔
حدیث نمبر: 12301
وَعَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ : قُتِلَ قَتِيلٌ عَلَى عَهْدِ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - لَا يُعْلَمُ قَاتِلُهُ ، فَصَعِدَ مِنْبَرَهُ فَقَالَ : " يَا أَيُّهَا النَّاسُ ، أَيُقْتَلُ قَتِيلٌ وَأَنَا بَيْنَ أَظْهُرِكُمْ لَا يُعْلَمُ مَنْ قَتَلَهُ ؟ لَوْ أَنَّ أَهْلَ السَّمَاءِ وَالْأَرْضِ اجْتَمَعُوا عَلَى قَتْلِ مُسْلِمٍ لَعَذَّبَهُمُ اللَّهُ بِلَا عَدَدٍ وَلَا حِسَابٍ " . رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ ، وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ غَيْرَ عَطَاءِ بْنِ أَبِي مُسْلِمٍ ، وَثَّقَهُ ابْنُ حِبَّانَ وَضَعَّفَهُ جَمَاعَةٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانہ اقدس میں ایک شخص قتل ہو گیا ، جس کے قاتل کا پتہ نہیں چل سکا ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم منبر پر چڑھے آپ نے ارشاد فرمایا : ” اے لوگو ! کیا ایک شخص قتل ہو گیا ہے ؟ جبکہ میں تمہارے درمیان موجود ہوں ، اور اس کے قتل کرنے والے کا پتہ نہیں چل سکا ؟ اگر آسمان والے اور زمین والے سب اکٹھے ہو کر کسی مسلمان کو قتل کر دیں ، تو اللہ تعالیٰ کسی گنتی اور حساب کے بغیر ان سب کو عذاب دے گا ۔ “
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے اور اس کے رجال صحیح کے رجال ہیں ، صرف عطاء بن ابومسلم کا معاملہ مختلف ہے ، ابن حبان نے اسے ثقہ قرار دیا ہے اور ایک جماعت نے اسے ضعیف کہا: ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے اور اس کے رجال صحیح کے رجال ہیں ، صرف عطاء بن ابومسلم کا معاملہ مختلف ہے ، ابن حبان نے اسے ثقہ قرار دیا ہے اور ایک جماعت نے اسے ضعیف کہا: ہے ۔
حدیث نمبر: 12302
وَعَنْ أَبِي بَكْرَةَ عَنِ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ : " لَوْ أَنَّ أَهْلَ السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضِ اجْتَمَعُوا عَلَى قَتْلِ مُسْلِمٍ لَكَبَّهُمُ اللَّهُ جَمِيعًا عَلَى وُجُوهِهِمْ فِي النَّارِ " . رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الصَّغِيرِ ، وَفِيهِ جِسْرُ بْنُ فَرْقَدٍ وَهُوَ ضَعِيفٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا ابوبکره رضی اللہ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں : ” اگر تمام آسمان اور زمین والے کسی مسلمان کے قتل پر اکٹھے ہو جائیں ، تو اللہ تعالیٰ ان سب کو ان کے چہروں کے بل جہنم میں ڈال دے گا ۔ “
یہ روایت امام طبرانی نے معجم صغیر میں نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی جسر بن فرقد ہے اور وہ ضعیف ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم صغیر میں نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی جسر بن فرقد ہے اور وہ ضعیف ہے ۔
حدیث نمبر: 12303
وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ عَنِ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ : " لَوِ اجْتَمَعَ أَهْلُ السَّمَاءِ وَالْأَرْضِ عَلَى قَتْلِ مُؤْمِنٍ لَكَبَّهُمُ اللَّهُ فِي النَّارِ " . رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ ، وَفِيهِ أَبُو حَمْزَةَ الْأَعْوَرُ وَهُوَ مَتْرُوكٌ ، وَقَالَ أَبُو حَاتِمٍ : يَكْتُبُ حَدِيثَهُ ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ رِجَالُ الصَّحِيحِ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں : ” اگر تمام آسمان والے اور زمین والے کسی مومن کے قتل پر اکٹھے ہو جائیں ، تو اللہ تعالیٰ انہیں جہنم میں ڈال دے گا ۔ “
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی ابوحمزہ اعور ہے اور وہ متروک ہے ، ابوحاتم کہتے ہیں : اس کی حدیث کو نوٹ کیا جائے گا ، اس روایت کے بقیہ رجال صحیح کے رجال ہیں ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی ابوحمزہ اعور ہے اور وہ متروک ہے ، ابوحاتم کہتے ہیں : اس کی حدیث کو نوٹ کیا جائے گا ، اس روایت کے بقیہ رجال صحیح کے رجال ہیں ۔
حدیث نمبر: 12304
وَعَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ قَالَ : سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَقُولُ : " إِذَا مَشَى الرَّجُلُ إِلَى الرَّجُلِ فَقَتَلَهُ فَالْمَقْتُولُ فِي الْجَنَّةِ وَالْقَاتِلُ فِي النَّارِ " . رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ ، وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں : میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے : ” جب کوئی شخص چل کر دوسرے شخص کے پاس جائے اور اسے قتل کر دے ، تو مقتول جنت میں جائے گا اور قاتل جہنم میں جائے گا ۔ “
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے اور اس کے رجال صحیح کے رجال ہیں ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے اور اس کے رجال صحیح کے رجال ہیں ۔
حدیث نمبر: 12305
وَعَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَسْعُودٍ عَنْ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ : " يَجِيءُ الْمَقْتُولُ آخِذًا قَاتِلَهُ وَأَوْدَاجُهُ تَشْخَبُ دَمًا عِنْدَ ذِي الْعِزَّةِ فَيَقُولُ : يَا رَبِّ ، سَلْ هَذَا فِيمَ قَتَلَنِي ؟ فَيَقُولُ : فِيمَ قَتَلْتَهُ ؟ قَالَ : قَتَلْتُهُ لِتَكُونَ الْعِزَّةُ لِفُلَانٍ . قِيلَ : هِيَ لِلَّهِ " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ ، وَفِيهِ الْفَيْضُ بْنُ وَثِيقٍ وَهُوَ كَذَّابٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں : ” ( قیامت کے دن ) مقتول آئے گا ، اُس نے اپنے قاتل کو پکڑا ہوا ہو گا اور اس کی رگوں سے خون نکل رہا ہو گا ، وہ رب العزت کی بارگاہ میں آئے گا اور عرض کرے گا : اے میرے پروردگار ! تو اس سے پوچھ ! کہ اس نے مجھے کیوں قتل کیا تھا ؟ اللہ تعالیٰ اس شخص سے فرمائے گا : تم نے اسے کیوں قتل کیا تھا ؟ تو قاتل جواب دے گا : میں نے اس لئے اسے قتل کیا تھا تاکہ غلبہ فلاں شخص کو مل جائے ، تو اس سے کہا: جائے گا : غلبہ تو اللہ تعالیٰ کے لئے مخصوص ہے ۔ “
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی فیض بن وثیق ہے اور وہ کذاب ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی فیض بن وثیق ہے اور وہ کذاب ہے ۔
حدیث نمبر: 12306
وَعَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ أَنَّهُ سَأَلَهُ سَائِلٌ فَقَالَ : يَا أَبَا الْعَبَّاسِ ، هَلْ لِلْقَاتِلِ مِنْ تَوْبَةٍ ؟ قَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ كَالْمُتَعَجِّبِ مِنْ شَأْنِهِ : مَاذَا تَقُولُ ؟ فَأَعَادَ عَلَيْهِ مَسْأَلَتَهُ . فَقَالَ : مَاذَا تَقُولُ ؟ مَرَّتَيْنِ أَوْ ثَلَاثًا . قَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ : سَمِعْتُ نَبِيَّكُمْ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَقُولُ : " يَأْتِي الْمَقْتُولُ مُتَعَلِّقًا رَأْسُهُ بِإِحْدَى يَدَيْهِ مُلَبِّبًا قَاتِلَهُ بِالْيَدِ الْأُخْرَى تَشْخَبُ أَوْدَاجُهُ دَمًا حَتَّى يَأْتِيَ بِهِ الْعَرْشَ ، فَيَقُولُ الْمَقْتُولُ لِرَبِّ الْعَالَمِينَ : هَذَا قَتَلَنِي . فَيَقُولُ اللَّهُ لِلْقَاتِلِ : تَعِسْتَ . وَيَذْهَبُ بِهِ إِلَى النَّارِ " . ¤ قُلْتُ : رَوَاهُ التِّرْمِذِيُّ بِاخْتِصَارِ آخِرِهِ . رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ ، وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کے بارے میں یہ بات منقول ہے : ایک شخص نے ان سے سوال کیا اور کہا: اے ابوعباس ! کیا قاتل کے لئے توبہ کی گنجائش ہے ؟ سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما نے حیرانگی کا اظہار کرتے ہوئے فرمایا : تم نے کیا کہا: ؟ اس شخص نے اپنے سوال کو دہرایا ، تو سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما نے پھر یہ کہا: تم نے کیا کہا: ؟ یہ مکالمہ دو یا شاید تین مرتبہ ہوا ، پھر سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما نے فرمایا : میں نے تمہارے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے : ” ( قیامت کے دن ) مقتول آئے گا ، اس نے ایک ہاتھ میں اپنا سر پکڑا ہوا ہو گا اور دوسرے ہاتھ میں اس نے قاتل پکڑا ہوا ہو گا ، اس کی رگوں سے خون بہہ رہا ہو گا ، یہاں تک کہ وہ اسے ساتھ لے کر عرش کے پاس آئے گا ، پھر مقتول تمام جہانوں کے پروردگار کی بارگاہ میں عرض کرے گا کہ اس نے مجھے قتل کیا تھا ، تو اللہ تعالیٰ قاتل سے فرمائے گا : تم برباد ہو گئے ! پھر اس قاتل کو جہنم کی طرف لے جایا جائے گا ۔ “ ( علامہ ہیثمی فرماتے ہیں ) میں یہ کہتا ہوں :
یہ روایت امام ترمذی نے آخری حصے کے اختصار کے ساتھ نقل کی ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے اور اس کے رجال صحیح کے رجال ہیں ۔
یہ روایت امام ترمذی نے آخری حصے کے اختصار کے ساتھ نقل کی ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے اور اس کے رجال صحیح کے رجال ہیں ۔
حدیث نمبر: 12307
وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ عَنِ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ : " لَا حَرَجَ إِلَّا فِي قَتْلِ مُسْلِمٍ " ثَلَاثَ مَرَّاتٍ . رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ ، وَفِيهِ لَيْثُ بْنُ أَبِي سُلَيْمٍ وَهُوَ مُدَلِّسٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں : ” کوئی حرج نہیں ہے ، البتہ مسلمان کے قتل کا معاملہ مختلف ہے ۔ “ یہ بات آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے تین مرتبہ ارشاد فرمائی ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے اور اس کی سند میں ایک راوی لیث بن ابوسلیم ہے اور وہ مدلس ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے اور اس کی سند میں ایک راوی لیث بن ابوسلیم ہے اور وہ مدلس ہے ۔
حدیث نمبر: 12308
وَعَنْ جُنْدَبِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " مَنِ اسْتَطَاعَ أَنْ لَا يَحُولَ بَيْنَهُ وَبَيْنَ الْجَنَّةِ مِلْءُ كَفٍّ مِنْ دَمٍ يُهْرِيقُهُ كَأَنَّمَا يَذْبَحُ دَجَاجَةً كُلَّمَا يُعْرَضُ لِبَابٍ مِنْ أَبْوَابِ الْجَنَّةِ حَالَ بَيْنَهُ وَبَيْنَهُ ، وَمَنِ اسْتَطَاعَ مِنْكُمْ أَنْ لَا يَجْعَلَ فِي بَطْنِهِ إِلَّا طَيِّبًا فَإِنَّ أَوَّلَ مَا يُنْتِنُ مِنَ الْإِنْسَانِ بَطْنُهُ " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ وَالْكَبِيرِ ، وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا جندب بن عبداللہ رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” جو شخص یہ کر سکتا ہو کہ اس کے اور جنت کے درمیان مٹھی بھر خون رکاوٹ نہ بنے ، جو ( خون ) اس نے بہایا ہو ، یوں جیسے وہ مرغی ذبح کرتا ہے ، تو ایسا شخص جب بھی جنت کے کسی دروازے پر آئے گا ، تو وہ خون اس کے اور جنت کے دروازے کے درمیان رکاوٹ بن جائے گا اور تم میں سے جو شخص یہ استطاعت رکھتا ہو ، اسے اپنے پیٹ میں پاکیزہ چیز داخل کرنی چاہیے ، کیونکہ انسان میں سے ، سب سے پہلے اس کا پیٹ بدبودار ہوتا ہے ۔ “
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط اور معجم کبیر میں نقل کی ہے اور اس کے رجال صحیح کے رجال ہیں ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط اور معجم کبیر میں نقل کی ہے اور اس کے رجال صحیح کے رجال ہیں ۔
حدیث نمبر: 12309
وَعَنِ الْحَسَنِ عَنْ جُنْدَبٍ قَالَ : جَلَسْتُ إِلَيْهِ فِي إِمَارَةِ الْمُصْعَبِ ، فَقَالَ : إِنَّ هَؤُلَاءِ الْقَوْمَ قَدْ وَلَغُوا فِي دِمَائِهِمْ وَتَحَالَفُوا عَلَى الدُّنْيَا وَتَطَاوَلُوا فِي الْبِنَاءِ ، وَإِنِّي أُقْسِمُ بِاللَّهِ ، لَا يَأْتِي عَلَيْكُمْ إِلَّا يَسِيرٌ حَتَّى يَكُونَ الْجَمَلُ الضَّابِطُ وَالْحَبْلَانِ الْقَتَبُ أَحَبَّ إِلَى أَحَدِكُمْ مِنَ الدَّسْكَرَةِ الْعَظِيمَةِ . فَذَكَرَ نَحْوَهُ . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ ، وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ . ¤
محمد محی الدین
حسن بصری ، سیدنا جندب رضی اللہ عنہ کے بارے میں یہ بات بیان کرتے ہیں : میں مصعب کی حکومت کے زمانے میں اُن کے پاس بیٹھا ہوا تھا ، انہوں نے فرمایا : یہ لوگ قتل و غارت گری کر رہے ہیں اور دنیا کے بارے میں ایک دوسرے کا ساتھ دے رہے ہیں ، بلند عمارتیں تعمیر کر رہے ہیں ، میں اللہ کی قسم اٹھا کر یہ کہتا ہوں کہ تھوڑے عرصے ہی بعد تم پر وہ زمانہ آ جائے گا کہ جب ایک مضبوط اونٹ اور اس کی چادریں اور پالان کی لکڑیاں تم میں سے کسی ایک شخص کے نزدیک ، بڑے گھر سے زیادہ محبوب ہوں گی ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ “ اس کے بعد راوی نے حسب سابق روایت ذکر کی ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے اور اس کے رجال صحیح کے رجال ہیں ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے اور اس کے رجال صحیح کے رجال ہیں ۔
حدیث نمبر: 12310
وَعَنْ عَبْدِ الْمَلِكِ بْنِ مَرْوَانَ قَالَ : كُنْتُ أُجَالِسُ بَرِيرَةَ بِالْمَدِينَةِ قَبْلَ أَنْ أَلِيَ هَذَا الْأَمْرَ ، فَكَانَتْ تَقُولُ : يَا عَبْدَ الْمَلِكِ ، إِنِّي لَأَرَى فِيكَ خِصَالًا وَخَلِيقٌ أَنْ تَلِيَ هَذِهِ الْأُمَّةَ ، فَإِنْ وَلَيْتَهُ فَاحْذَرِ الدِّمَاءَ ، فَإِنِّي سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَقُولُ : " إِنَّ الرَّجُلَ لَيَدْفَعُ عَنْ بَابِ الْجَنَّةِ أَنْ يَنْظُرَ إِلَيْهَا عَلَى مَحْجَمَةٍ مِنْ دَمٍ يُرِيقُهُ مِنْ مُسْلِمٍ بِغَيْرِ حَقٍّ " . رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ ، وَفِيهِ عَبْدُ الْخَالِقِ بْنُ زَيْدِ بْنِ وَاقِدٍ وَهُوَ ضَعِيفٌ . ¤
محمد محی الدین
عبدالملک بن مروان بیان کرتے ہیں : میں اس حکومتی عہدے کا نگران بننے سے پہلے مدینہ منورہ میں سیدہ بریرہ رضی اللہ عنہا کی خدمت میں بیٹھا کرتا تھا ، وہ یہ فرماتی تھیں : اے عبدالملک ! میں تمہارے بارے میں یہ سمجھتی ہوں کہ تمہارے اندر یہ خصوصیات اور صلاحیتیں پائی جاتیں کہ تم اس اُمت کی حکومت کے نگران بنو ، اگر تم اس کے نگران بن گئے ، تو تم خون بہانے سے بچنا ، کیونکہ میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے : ” ایک شخص کو جنت کے دوازے سے پیچھے کر دیا جائے گا کہ وہ جنت کی طرف دیکھے ، اُس کی وجہ وہ خون ہو گا ، جو اس نے کسی مسلمان کا ناحق طور پر بہایا ہو گا ۔ “
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے اس کی سند میں ایک راوی عبدالخالق بن زید بن واقد ہے اور وہ ضعیف ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے اس کی سند میں ایک راوی عبدالخالق بن زید بن واقد ہے اور وہ ضعیف ہے ۔
حدیث نمبر: 12311
وَعَنْ أَبِي أُمَامَةَ عَنِ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ : " إِنَّ اللَّهَ - عَزَّ وَجَلَّ - لَمْ يُحِلَّ فِي الْفِتْنَةِ شَيْئًا حَرَّمَهُ قَبْلَ ذَلِكَ ، مَا بَالُ أَحَدِكُمْ يَأْتِي أَخَاهُ فَيُسَلِّمُ عَلَيْهِ ثُمَّ يَجِيءُ بَعْدَ ذَلِكَ فَيَقْتُلُهُ ؟ " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ ، وَفِيهِ عَبْدُ الْمَلِكِ بْنُ مُحَمَّدٍ الصَّنْعَانِيُّ ، وَثَّقَهُ أَيُّوبُ بْنُ سُلَيْمَانَ وَغَيْرُهُ وَفِيهِ ضَعْفٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا ابوامامہ رضی اللہ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں : ” بے شک اللہ تعالیٰ نے فتنے کے دوران کسی ایسی چیز کو حلال قرار نہیں دیا ، جسے اس نے اس سے پہلے حرام قرار دیا ہو ، تم میں سے کسی ایک شخص کا کیا معاملہ ہے ؟ کہ وہ اپنے بھائی کے پاس آ کر اسے سلام کرے گا ، پھر اس کے بعد جب وہ اس کے پاس آئے گا تو اُسے قتل کر دے گا ۔ “
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے اس کی سند میں ایک راوی عبدالملک بن محمد صنعانی ہے ، جسے ایوب بن سلیمان اور دیگر حضرات نے ثقہ قرار دیا ہے اور اس میں ضعف پایا جاتا ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے اس کی سند میں ایک راوی عبدالملک بن محمد صنعانی ہے ، جسے ایوب بن سلیمان اور دیگر حضرات نے ثقہ قرار دیا ہے اور اس میں ضعف پایا جاتا ہے ۔
حدیث نمبر: 12312
وَعَنْ عَبْدِ اللَّهِ - يَعْنِي ابْنَ مَسْعُودٍ - قَالَ : لَا يَزَالُ الرَّجُلُ فِي فُسْحَةٍ مِنْ دِينِهِ مَا لَمْ يُصِبْ دَمًا حَرَامًا ، فَإِذَا أَصَابَ دَمًا حَرَامًا نُزِعَ مِنْهُ الْحَيَاءُ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں : انسان اپنے دین کے بارے میں مسلسل گنجائش میں رہتا ہے ، جب تک اس نے حرام طور پر کسی قتل کا ارتکاب نہ کیا ہو ، جب وہ حرام طور پر قتل کا ارتکاب کر دے ، تو اس سے حیاء الگ کر دی جاتی ہے ۔
حدیث نمبر: 12313
وَفِي رِوَايَةٍ : لَا يَزَالُ الْعِبَادُ فِي فُسْحَةٍ مِنْ سِتْرِ اللَّهِ - عَزَّ وَجَلَّ - مَا أَقَامُوا الْعِبَادَةَ وَلَمْ يُهْرِقُوا دَمًا حَرَامًا . ¤ وَإِسْنَادُ الْأَوَّلِ رِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ ، إِلَّا أَنَّ إِبْرَاهِيمَ لَمْ يَسْمَعْ مِنِ ابْنِ مَسْعُودٍ . ¤
محمد محی الدین
ایک روایت میں یہ الفاظ ہیں : ” بندے اللہ تعالیٰ کے پردے میں مسلسل رہتے ہیں ، جب تک وہ عبادت کرتے رہتے ہیں اور انہوں نے حرام طور پر خون نہیں بہایا ہوتا ہے ۔ “ پہلی روایت کی سند کے رجال صحیح کے رجال ہیں ، البتہ ابراہیم نامی راوی نے سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے سماع نہیں کیا ہے ۔
حدیث نمبر: 12314
وَعَنْ عَبْدِ اللَّهِ - يَعْنِي ابْنَ مَسْعُودٍ - يَرْفَعُهُ قَالَ : " لَا يُعْجِبُكَ رَحْبُ الذِّرَاعَيْنِ بِالدَّمِ فَإِنَّ لَهُ عِنْدَ اللَّهِ قَاتِلًا لَا يَمُوتُ ، وَلَا يُعْجِبُكَ امْرُؤٌ كَسَبَ مَالًا مِنْ حَرَامٍ ، فَإِنْ أَنْفَقَ مِنْهُ لَمْ يُتَقَبَّلْ مِنْهُ ، وَإِنْ أَمْسَكَ لَمْ يُبَارَكْ لَهُ فِيهِ ، وَإِنْ مَاتَ وَتَرَكَهُ كَانَ زَادَهُ إِلَى النَّارِ " . رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ ، وَفِيهِ النَّضْرَ بْنُ حُمَيْدٍ وَهُوَ مَتْرُوكٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ مرفوع حدیث کے طور پر یہ بات نقل کرتے ہیں : ( نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا ہے : ) ” کسی شخص کے ہاتھوں کا خون سے رنگا جانا تمہیں اچھا نہ لگے کیونکہ اللہ تعالیٰ کی بارگاہ میں اس کے لئے ایک ایسا قتل کرنے والا ( عذاب کا فرشتہ ) ہو گا ، جسے موت نہیں آئے گی اور تمہیں کوئی ایسا شخص اچھا نہ لگے ، جس نے حرام طور پر کوئی مال کمایا ہو ، کیونکہ اگر وہ اس مال میں سے خرچ کرے گا ، تو وہ اس کی طرف سے قبول نہیں ہو گا ، اگر وہ اس مال کو روک کے رکھے گا ، تو اس کے لئے اس مال میں برکت نہیں رکھی جائے گی ، اور اگر وہ مر جائے گا اور اس مال کو چھوڑ جائے گا ، تو وہ مال جہنم تک جانے کے لئے اس کا زاد راہ ہو گا ۔ “
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی نضر بن حمید ہے اور وہ ضعیف ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی نضر بن حمید ہے اور وہ ضعیف ہے ۔
حدیث نمبر: 12315
وَعَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " مَنْ شَرَكَ فِي دَمٍ حَرَامٍ بِشَطْرِ كَلِمَةٍ جَاءَ يَوْمَ الْقِيَامَةِ مَكْتُوبٌ بَيْنَ عَيْنَيْهِ آيِسٌ مِنْ رَحْمَةِ اللَّهِ " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ ، وَفِيهِ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ خِرَاشٍ ، ضَعَّفَهُ الْبُخَارِيُّ وَجَمَاعَةٌ ، وَوَثَّقَهُ ابْنُ حِبَّانَ وَقَالَ : رُبَّمَا أَخْطَأَ ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ ثِقَاتٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما روایت کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” جو شخص نصف کلمے کے ہمراہ ، کسی ناحق قتل میں حصہ دار ہوا ہو ، جب وہ قیامت کے دن آئے گا ، تو اس کی دونوں آنکھوں کے درمیان یہ لکھا ہوا ہو گا : یہ اللہ کی رحمت سے مایوس ہے ۔ “
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی عبداللہ بن خراش ہے ، جسے امام بخاری رحمہ اللہ اور ایک جماعت نے ضعیف قرار دیا ہے ، جبکہ ابن حبان نے اسے ثقہ کہا: ہے ، وہ فرماتے ہیں : یہ بعض اوقات غلطی کر جاتا ہے ، اس روایت کے بقیہ رجال ثقہ ہیں ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی عبداللہ بن خراش ہے ، جسے امام بخاری رحمہ اللہ اور ایک جماعت نے ضعیف قرار دیا ہے ، جبکہ ابن حبان نے اسے ثقہ کہا: ہے ، وہ فرماتے ہیں : یہ بعض اوقات غلطی کر جاتا ہے ، اس روایت کے بقیہ رجال ثقہ ہیں ۔
حدیث نمبر: 12316
وَعَنِ ابْنِ مَسْعُودٍ قَالَ : إِذَا وَقَعَ النَّاسُ فِي الْفِتْنَةِ فَقَالُوا : اخْرُجْ ، لَكَ بِالنَّاسِ أُسْوَةٌ فَقُلْ : لَا أُسْوَةَ لِي بِالشَّرِّ . رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ ، وَفِيهِ خَدِيجُ بْنُ مُعَاوِيَةَ ، وَثَّقَهُ أَحْمَدُ وَغَيْرُهُ ، وَضَعَّفَهُ جَمَاعَةٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں : جب لوگ فتنے میں واقع ہو جائیں گے ، تو یہ کہیں گے : تم لوگوں کے لئے کوئی نمونہ نکالو ! تو تم یہ کہنا : برائی میں میرے لیے کوئی نمونہ نہیں ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی خدیج بن معاویہ ہے ، جسے امام أحمد اور دیگر حضرات نے ثقہ قرار دیا ہے اور ایک جماعت نے اسے ضعیف کہا: ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی خدیج بن معاویہ ہے ، جسے امام أحمد اور دیگر حضرات نے ثقہ قرار دیا ہے اور ایک جماعت نے اسے ضعیف کہا: ہے ۔
حدیث نمبر: 12317
وَعَنْ حُمَيْدِ بْنِ هِلَالٍ قَالَ : لَمَّا هَاجَتِ الْفِتْنَةُ قَالَ عِمْرَانُ بْنُ حُصَيْنٍ لِحُجَيْرِ بْنِ الرَّبِيعِ الْعَدَوِيِّ : اذْهَبْ إِلَى قَوْمِكَ فَانْهَهُمْ عَنِ الْفِتْنَةِ . قَالَ : إِنِّي لَمَغْمُوزٌ فِيهِمْ وَمَا أَطَاعَ . قَالَ : فَأَبْلَغَهُمْ عَنِّي وَانْهَهُمْ عَنْهَا . ¤ قَالَ : وَسَمِعْتُ عِمْرَانَ يُقْسِمُ بِاللَّهِ : لَأَنْ أَكُونَ عَبْدًا حَبَشِيًّا أَسْوَدَ فِي أَعْنُزٍ حَصَبَاتٍ فِي رَأْسِ جَبَلٍ أَرْعَاهُنَّ حَتَّى يُدْرِكَنِي أَجَلِي أَحَبُّ إِلَيَّ أَنْ أَرْمِيَ أَحَدَ الصَّفَّيْنِ بِسَهْمٍ أَخْطَأْتُ أَمْ أَصَبْتُ . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ ، وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ . ¤
محمد محی الدین
حمید بن ہلال بیان کرتے ہیں : جب فتنہ پھیل گیا تو سیدنا عمران بن حصین رضی اللہ عنہ نے حجیر بن ربیع عدوی سے فرمایا : تم اپنی قوم کی طرف جاؤ اور انہیں فتنے میں حصہ لینے سے منع کرو ، انہوں نے کہا: مجھے ان کے درمیان نمایاں حیثیت حاصل نہیں ہے اور میری بات نہیں مانی جاتی ، تو سیدنا عمران رضی اللہ عنہ نے فرمایا : تم انہیں میری طرف سے یہ پیغام دو اور انہیں اس سے منع کر دو ، راوی کہتے ہیں : میں نے سیدنا عمران رضی اللہ عنہ کو سنا : انہوں نے اللہ کی قسم اٹھا کر یہ کہا: کہ اگر میں ایک سیاہ فام حبشی غلام ہوؤں اور بکریوں میں رہ کر پہاڑ کی چوٹی پر ان کو چراتا رہوں ، یہاں تک کہ میری موت مجھ تک آ جائے ، تو یہ میرے نزدیک اس سے زیادہ محبوب ہو گا کہ میں نے کسی جنگ میں کسی ایک فریق کی طرف سے تیر مارا ہو ، خواہ وہ نشانے تک پہنچا ہو یا نہ پہنچا ہو ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے اور اس کے رجال صحیح کے رجال ہیں ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے اور اس کے رجال صحیح کے رجال ہیں ۔
حدیث نمبر: 12318
وَعَنِ ابْنِ سِيرِينَ قَالَ : لَمَّا قِيلَ لِسَعْدِ بْنِ أَبِي وَقَّاصٍ : أَلَا تُقَاتِلُ ، إِنَّكَ مِنْ أَهْلِ الشُّورَى ، وَأَنْتَ أَحَقُّ بِهَذَا الْأَمْرِ مِنْ غَيْرِكَ ؟ قَالَ : لَا أُقَاتِلُ حَتَّى يَأْتُونِي بِسَيْفٍ لَهُ عَيْنَانِ وَلِسَانٍ وَشَفَتَانِ يَعْرِفُ الْمُؤْمِنَ مِنَ الْكَافِرِ ، فَقَدْ جَاهَدْتُ وَأَنَا أَعْرِفُ الْجِهَادَ . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ ، وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ . ¤
محمد محی الدین
ابن سیرین بیان کرتے ہیں : جب سیدنا سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ سے یہ کہا: گیا : آپ جنگ میں حصہ کیوں نہیں لیتے ؟ آپ اہل شوریٰ میں سے ہیں اور آپ کسی اور کے مقابلے میں اس معاملے کے زیادہ حق دار ہیں ، تو انہوں نے فرمایا : میں اس وقت تک جنگ میں حصہ نہیں لوں گا ، جب تک وہ لوگ میرے پاس ایسی تلوار لے کر نہیں آتے ، جس کی دو آنکھیں ہوں ، ایک زبان ہو ، دو ہونٹ ہوں اور وہ کافر کے مقابلے میں مومن کو پہچان سکتی ہو ، اگر ایسا ہو گا تو میں جنگ میں حصہ لوں گا ، کیونکہ مجھے جہاد کا پتہ ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے اور اس کے رجال صحیح کے رجال ہیں ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے اور اس کے رجال صحیح کے رجال ہیں ۔