مجمع الزوائد ومنبع الفوائد
كتاب الفتن - أعاذنا الله منها— فتنوں کے بارے میں روایات ( اللہ تعالیٰ ہمیں ان سے محفوظ رکھے )
بَابُ حُرْمَةِ دِمَاءِ الْمُسْلِمِينَ وَأَمْوَالِهِمْ وَإِثْمِ مَنْ قَتَلَ مُسْلِمًا . باب: مسلمانوں کے خون ( یعنی جانوں ) اور ان کے اموال کی حرمت کا بیان اور جو شخص کسی مسلمان کو قتل کر دے ، اس کے گناہ کا بیان
وَعَنْ حُمَيْدِ بْنِ هِلَالٍ قَالَ : لَمَّا هَاجَتِ الْفِتْنَةُ قَالَ عِمْرَانُ بْنُ حُصَيْنٍ لِحُجَيْرِ بْنِ الرَّبِيعِ الْعَدَوِيِّ : اذْهَبْ إِلَى قَوْمِكَ فَانْهَهُمْ عَنِ الْفِتْنَةِ . قَالَ : إِنِّي لَمَغْمُوزٌ فِيهِمْ وَمَا أَطَاعَ . قَالَ : فَأَبْلَغَهُمْ عَنِّي وَانْهَهُمْ عَنْهَا . ¤ قَالَ : وَسَمِعْتُ عِمْرَانَ يُقْسِمُ بِاللَّهِ : لَأَنْ أَكُونَ عَبْدًا حَبَشِيًّا أَسْوَدَ فِي أَعْنُزٍ حَصَبَاتٍ فِي رَأْسِ جَبَلٍ أَرْعَاهُنَّ حَتَّى يُدْرِكَنِي أَجَلِي أَحَبُّ إِلَيَّ أَنْ أَرْمِيَ أَحَدَ الصَّفَّيْنِ بِسَهْمٍ أَخْطَأْتُ أَمْ أَصَبْتُ . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ ، وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ . ¤حمید بن ہلال بیان کرتے ہیں : جب فتنہ پھیل گیا تو سیدنا عمران بن حصین رضی اللہ عنہ نے حجیر بن ربیع عدوی سے فرمایا : تم اپنی قوم کی طرف جاؤ اور انہیں فتنے میں حصہ لینے سے منع کرو ، انہوں نے کہا: مجھے ان کے درمیان نمایاں حیثیت حاصل نہیں ہے اور میری بات نہیں مانی جاتی ، تو سیدنا عمران رضی اللہ عنہ نے فرمایا : تم انہیں میری طرف سے یہ پیغام دو اور انہیں اس سے منع کر دو ، راوی کہتے ہیں : میں نے سیدنا عمران رضی اللہ عنہ کو سنا : انہوں نے اللہ کی قسم اٹھا کر یہ کہا: کہ اگر میں ایک سیاہ فام حبشی غلام ہوؤں اور بکریوں میں رہ کر پہاڑ کی چوٹی پر ان کو چراتا رہوں ، یہاں تک کہ میری موت مجھ تک آ جائے ، تو یہ میرے نزدیک اس سے زیادہ محبوب ہو گا کہ میں نے کسی جنگ میں کسی ایک فریق کی طرف سے تیر مارا ہو ، خواہ وہ نشانے تک پہنچا ہو یا نہ پہنچا ہو ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے اور اس کے رجال صحیح کے رجال ہیں ۔