مجمع الزوائد ومنبع الفوائد
كتاب الفتن - أعاذنا الله منها— فتنوں کے بارے میں روایات ( اللہ تعالیٰ ہمیں ان سے محفوظ رکھے )
بَابٌ فِيمَنْ سَنَّ الْقَتْلَ . باب: اس شخص کا بیان ، جس نے قتل کا طریقہ ایجاد کیا تھا
عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " أَشْقَى النَّاسِ ثَلَاثَةٌ : عَاقِرُ نَاقَةِ ثَمُودَ ، وَابْنُ آدَمَ الَّذِي قَتَلَ أَخَاهُ ، مَا سَفَكَ عَلَى الْأَرْضِ مِنْ دَمٍ إِلَّا لَحِقَهُ مِنْهُ لِأَنَّهُ أَوَّلُ مَنْ سَنَّ الْقَتْلَ " . قُلْتُ : وَأَسْقَطَ الثَّالِثَ ، وَالظَّاهِرُ أَنَّهُ قَاتِلُ عَلِيِّ بْنِ أَبِي طَالِبٍ كَمَا وَرَدَ . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ ، وَفِيهِ حَكِيمُ بْنُ جُبَيْرٍ وَهُوَ مَتْرُوكٌ ، وَضَعَّفَهُ الْجُمْهُورُ ، وَقَالَ أَبُو زُرْعَةَ : مَحَلُّهُ الصِّدْقُ إِنْ شَاءَ اللَّهُ ، وَابْنُ إِسْحَاقَ مُدَلِّسٌ . ¤سیدنا عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” ( اولاد آدم میں ) سب سے زیادہ بدنصیب لوگ تین ہیں ، قوم ثمود کی اوٹنی کے پاؤں کاٹنے والا شخص ، سیدنا آدم علیہ السلام کا وہ بیٹا ، جس نے اپنے بھائی کو قتل کیا تھا ، روئے زمین پر جو بھی خون بہایا جائے گا ، اُس میں اسے حصہ ملے گا ، کیونکہ سب سے پہلے اس نے قتل کے طریقے کا آغاز کیا تھا ۔ “ ( علامہ ہیثمی فرماتے ہیں : ) میں یہ کہتا ہوں : راوی نے تیسرے فرد کا ذکر نہیں کیا ، لیکن بظاہر یہ لگتا ہے کہ وہ تیسرا فرد ، سیدنا علی بن ابوطالب رضی اللہ عنہ کا قاتل ہے ، جیسا کہ دیگر روایات میں یہ بات مذکور ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی حکیم بن جبیر ہے اور وہ متروک ہے ، جمہور نے اسے ضعیف قرار دیا ہے ، ابوزرعہ کہتے ہیں : اس کا عمل صدق ہو گا ، اگر اللہ نے چاہا اور ایک راوی ابن اسحاق ہے اور وہ مدلس ہے ۔