مجمع الزوائد ومنبع الفوائد
كتاب الفتن - أعاذنا الله منها— فتنوں کے بارے میں روایات ( اللہ تعالیٰ ہمیں ان سے محفوظ رکھے )
بَابُ حُرْمَةِ دِمَاءِ الْمُسْلِمِينَ وَأَمْوَالِهِمْ وَإِثْمِ مَنْ قَتَلَ مُسْلِمًا . باب: مسلمانوں کے خون ( یعنی جانوں ) اور ان کے اموال کی حرمت کا بیان اور جو شخص کسی مسلمان کو قتل کر دے ، اس کے گناہ کا بیان
حدیث نمبر: 12316
وَعَنِ ابْنِ مَسْعُودٍ قَالَ : إِذَا وَقَعَ النَّاسُ فِي الْفِتْنَةِ فَقَالُوا : اخْرُجْ ، لَكَ بِالنَّاسِ أُسْوَةٌ فَقُلْ : لَا أُسْوَةَ لِي بِالشَّرِّ . رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ ، وَفِيهِ خَدِيجُ بْنُ مُعَاوِيَةَ ، وَثَّقَهُ أَحْمَدُ وَغَيْرُهُ ، وَضَعَّفَهُ جَمَاعَةٌ . ¤محمد محی الدین
سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں : جب لوگ فتنے میں واقع ہو جائیں گے ، تو یہ کہیں گے : تم لوگوں کے لئے کوئی نمونہ نکالو ! تو تم یہ کہنا : برائی میں میرے لیے کوئی نمونہ نہیں ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی خدیج بن معاویہ ہے ، جسے امام أحمد اور دیگر حضرات نے ثقہ قرار دیا ہے اور ایک جماعت نے اسے ضعیف کہا: ہے ۔