مجمع الزوائد ومنبع الفوائد
كتاب الفتن - أعاذنا الله منها— فتنوں کے بارے میں روایات ( اللہ تعالیٰ ہمیں ان سے محفوظ رکھے )
بَابُ حُرْمَةِ دِمَاءِ الْمُسْلِمِينَ وَأَمْوَالِهِمْ وَإِثْمِ مَنْ قَتَلَ مُسْلِمًا . باب: مسلمانوں کے خون ( یعنی جانوں ) اور ان کے اموال کی حرمت کا بیان اور جو شخص کسی مسلمان کو قتل کر دے ، اس کے گناہ کا بیان
حدیث نمبر: 12315
وَعَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " مَنْ شَرَكَ فِي دَمٍ حَرَامٍ بِشَطْرِ كَلِمَةٍ جَاءَ يَوْمَ الْقِيَامَةِ مَكْتُوبٌ بَيْنَ عَيْنَيْهِ آيِسٌ مِنْ رَحْمَةِ اللَّهِ " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ ، وَفِيهِ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ خِرَاشٍ ، ضَعَّفَهُ الْبُخَارِيُّ وَجَمَاعَةٌ ، وَوَثَّقَهُ ابْنُ حِبَّانَ وَقَالَ : رُبَّمَا أَخْطَأَ ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ ثِقَاتٌ . ¤محمد محی الدین
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما روایت کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” جو شخص نصف کلمے کے ہمراہ ، کسی ناحق قتل میں حصہ دار ہوا ہو ، جب وہ قیامت کے دن آئے گا ، تو اس کی دونوں آنکھوں کے درمیان یہ لکھا ہوا ہو گا : یہ اللہ کی رحمت سے مایوس ہے ۔ “
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی عبداللہ بن خراش ہے ، جسے امام بخاری رحمہ اللہ اور ایک جماعت نے ضعیف قرار دیا ہے ، جبکہ ابن حبان نے اسے ثقہ کہا: ہے ، وہ فرماتے ہیں : یہ بعض اوقات غلطی کر جاتا ہے ، اس روایت کے بقیہ رجال ثقہ ہیں ۔