مجمع الزوائد ومنبع الفوائد
كتاب الفتن - أعاذنا الله منها— فتنوں کے بارے میں روایات ( اللہ تعالیٰ ہمیں ان سے محفوظ رکھے )
بَابُ حُرْمَةِ دِمَاءِ الْمُسْلِمِينَ وَأَمْوَالِهِمْ وَإِثْمِ مَنْ قَتَلَ مُسْلِمًا . باب: مسلمانوں کے خون ( یعنی جانوں ) اور ان کے اموال کی حرمت کا بیان اور جو شخص کسی مسلمان کو قتل کر دے ، اس کے گناہ کا بیان
وَعَنْ عَبْدِ اللَّهِ - يَعْنِي ابْنَ مَسْعُودٍ - يَرْفَعُهُ قَالَ : " لَا يُعْجِبُكَ رَحْبُ الذِّرَاعَيْنِ بِالدَّمِ فَإِنَّ لَهُ عِنْدَ اللَّهِ قَاتِلًا لَا يَمُوتُ ، وَلَا يُعْجِبُكَ امْرُؤٌ كَسَبَ مَالًا مِنْ حَرَامٍ ، فَإِنْ أَنْفَقَ مِنْهُ لَمْ يُتَقَبَّلْ مِنْهُ ، وَإِنْ أَمْسَكَ لَمْ يُبَارَكْ لَهُ فِيهِ ، وَإِنْ مَاتَ وَتَرَكَهُ كَانَ زَادَهُ إِلَى النَّارِ " . رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ ، وَفِيهِ النَّضْرَ بْنُ حُمَيْدٍ وَهُوَ مَتْرُوكٌ . ¤سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ مرفوع حدیث کے طور پر یہ بات نقل کرتے ہیں : ( نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا ہے : ) ” کسی شخص کے ہاتھوں کا خون سے رنگا جانا تمہیں اچھا نہ لگے کیونکہ اللہ تعالیٰ کی بارگاہ میں اس کے لئے ایک ایسا قتل کرنے والا ( عذاب کا فرشتہ ) ہو گا ، جسے موت نہیں آئے گی اور تمہیں کوئی ایسا شخص اچھا نہ لگے ، جس نے حرام طور پر کوئی مال کمایا ہو ، کیونکہ اگر وہ اس مال میں سے خرچ کرے گا ، تو وہ اس کی طرف سے قبول نہیں ہو گا ، اگر وہ اس مال کو روک کے رکھے گا ، تو اس کے لئے اس مال میں برکت نہیں رکھی جائے گی ، اور اگر وہ مر جائے گا اور اس مال کو چھوڑ جائے گا ، تو وہ مال جہنم تک جانے کے لئے اس کا زاد راہ ہو گا ۔ “
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی نضر بن حمید ہے اور وہ ضعیف ہے ۔