مجمع الزوائد ومنبع الفوائد
كتاب الفتن - أعاذنا الله منها— فتنوں کے بارے میں روایات ( اللہ تعالیٰ ہمیں ان سے محفوظ رکھے )
بَابُ حُرْمَةِ دِمَاءِ الْمُسْلِمِينَ وَأَمْوَالِهِمْ وَإِثْمِ مَنْ قَتَلَ مُسْلِمًا . باب: مسلمانوں کے خون ( یعنی جانوں ) اور ان کے اموال کی حرمت کا بیان اور جو شخص کسی مسلمان کو قتل کر دے ، اس کے گناہ کا بیان
وَعَنْ عَبْدِ الْمَلِكِ بْنِ مَرْوَانَ قَالَ : كُنْتُ أُجَالِسُ بَرِيرَةَ بِالْمَدِينَةِ قَبْلَ أَنْ أَلِيَ هَذَا الْأَمْرَ ، فَكَانَتْ تَقُولُ : يَا عَبْدَ الْمَلِكِ ، إِنِّي لَأَرَى فِيكَ خِصَالًا وَخَلِيقٌ أَنْ تَلِيَ هَذِهِ الْأُمَّةَ ، فَإِنْ وَلَيْتَهُ فَاحْذَرِ الدِّمَاءَ ، فَإِنِّي سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَقُولُ : " إِنَّ الرَّجُلَ لَيَدْفَعُ عَنْ بَابِ الْجَنَّةِ أَنْ يَنْظُرَ إِلَيْهَا عَلَى مَحْجَمَةٍ مِنْ دَمٍ يُرِيقُهُ مِنْ مُسْلِمٍ بِغَيْرِ حَقٍّ " . رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ ، وَفِيهِ عَبْدُ الْخَالِقِ بْنُ زَيْدِ بْنِ وَاقِدٍ وَهُوَ ضَعِيفٌ . ¤عبدالملک بن مروان بیان کرتے ہیں : میں اس حکومتی عہدے کا نگران بننے سے پہلے مدینہ منورہ میں سیدہ بریرہ رضی اللہ عنہا کی خدمت میں بیٹھا کرتا تھا ، وہ یہ فرماتی تھیں : اے عبدالملک ! میں تمہارے بارے میں یہ سمجھتی ہوں کہ تمہارے اندر یہ خصوصیات اور صلاحیتیں پائی جاتیں کہ تم اس اُمت کی حکومت کے نگران بنو ، اگر تم اس کے نگران بن گئے ، تو تم خون بہانے سے بچنا ، کیونکہ میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے : ” ایک شخص کو جنت کے دوازے سے پیچھے کر دیا جائے گا کہ وہ جنت کی طرف دیکھے ، اُس کی وجہ وہ خون ہو گا ، جو اس نے کسی مسلمان کا ناحق طور پر بہایا ہو گا ۔ “
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے اس کی سند میں ایک راوی عبدالخالق بن زید بن واقد ہے اور وہ ضعیف ہے ۔