مجمع الزوائد ومنبع الفوائد
كتاب الفتن - أعاذنا الله منها— فتنوں کے بارے میں روایات ( اللہ تعالیٰ ہمیں ان سے محفوظ رکھے )
بَابُ حُرْمَةِ دِمَاءِ الْمُسْلِمِينَ وَأَمْوَالِهِمْ وَإِثْمِ مَنْ قَتَلَ مُسْلِمًا . باب: مسلمانوں کے خون ( یعنی جانوں ) اور ان کے اموال کی حرمت کا بیان اور جو شخص کسی مسلمان کو قتل کر دے ، اس کے گناہ کا بیان
وَعَنِ الْحَسَنِ عَنْ جُنْدَبٍ قَالَ : جَلَسْتُ إِلَيْهِ فِي إِمَارَةِ الْمُصْعَبِ ، فَقَالَ : إِنَّ هَؤُلَاءِ الْقَوْمَ قَدْ وَلَغُوا فِي دِمَائِهِمْ وَتَحَالَفُوا عَلَى الدُّنْيَا وَتَطَاوَلُوا فِي الْبِنَاءِ ، وَإِنِّي أُقْسِمُ بِاللَّهِ ، لَا يَأْتِي عَلَيْكُمْ إِلَّا يَسِيرٌ حَتَّى يَكُونَ الْجَمَلُ الضَّابِطُ وَالْحَبْلَانِ الْقَتَبُ أَحَبَّ إِلَى أَحَدِكُمْ مِنَ الدَّسْكَرَةِ الْعَظِيمَةِ . فَذَكَرَ نَحْوَهُ . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ ، وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ . ¤حسن بصری ، سیدنا جندب رضی اللہ عنہ کے بارے میں یہ بات بیان کرتے ہیں : میں مصعب کی حکومت کے زمانے میں اُن کے پاس بیٹھا ہوا تھا ، انہوں نے فرمایا : یہ لوگ قتل و غارت گری کر رہے ہیں اور دنیا کے بارے میں ایک دوسرے کا ساتھ دے رہے ہیں ، بلند عمارتیں تعمیر کر رہے ہیں ، میں اللہ کی قسم اٹھا کر یہ کہتا ہوں کہ تھوڑے عرصے ہی بعد تم پر وہ زمانہ آ جائے گا کہ جب ایک مضبوط اونٹ اور اس کی چادریں اور پالان کی لکڑیاں تم میں سے کسی ایک شخص کے نزدیک ، بڑے گھر سے زیادہ محبوب ہوں گی ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ “ اس کے بعد راوی نے حسب سابق روایت ذکر کی ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے اور اس کے رجال صحیح کے رجال ہیں ۔