حدیث نمبر: 12309
وَعَنِ الْحَسَنِ عَنْ جُنْدَبٍ قَالَ : جَلَسْتُ إِلَيْهِ فِي إِمَارَةِ الْمُصْعَبِ ، فَقَالَ : إِنَّ هَؤُلَاءِ الْقَوْمَ قَدْ وَلَغُوا فِي دِمَائِهِمْ وَتَحَالَفُوا عَلَى الدُّنْيَا وَتَطَاوَلُوا فِي الْبِنَاءِ ، وَإِنِّي أُقْسِمُ بِاللَّهِ ، لَا يَأْتِي عَلَيْكُمْ إِلَّا يَسِيرٌ حَتَّى يَكُونَ الْجَمَلُ الضَّابِطُ وَالْحَبْلَانِ الْقَتَبُ أَحَبَّ إِلَى أَحَدِكُمْ مِنَ الدَّسْكَرَةِ الْعَظِيمَةِ . فَذَكَرَ نَحْوَهُ . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ ، وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ . ¤
محمد محی الدین

حسن بصری ، سیدنا جندب رضی اللہ عنہ کے بارے میں یہ بات بیان کرتے ہیں : میں مصعب کی حکومت کے زمانے میں اُن کے پاس بیٹھا ہوا تھا ، انہوں نے فرمایا : یہ لوگ قتل و غارت گری کر رہے ہیں اور دنیا کے بارے میں ایک دوسرے کا ساتھ دے رہے ہیں ، بلند عمارتیں تعمیر کر رہے ہیں ، میں اللہ کی قسم اٹھا کر یہ کہتا ہوں کہ تھوڑے عرصے ہی بعد تم پر وہ زمانہ آ جائے گا کہ جب ایک مضبوط اونٹ اور اس کی چادریں اور پالان کی لکڑیاں تم میں سے کسی ایک شخص کے نزدیک ، بڑے گھر سے زیادہ محبوب ہوں گی ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ “ اس کے بعد راوی نے حسب سابق روایت ذکر کی ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے اور اس کے رجال صحیح کے رجال ہیں ۔

حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الفتن - أعاذنا الله منها / حدیث: 12309
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ صحیح
تخریج حدیث «اخرجه الطبراني فى المعجم الكبير (1660)»