مجمع الزوائد ومنبع الفوائد
كتاب الفتن - أعاذنا الله منها— فتنوں کے بارے میں روایات ( اللہ تعالیٰ ہمیں ان سے محفوظ رکھے )
بَابُ حُرْمَةِ دِمَاءِ الْمُسْلِمِينَ وَأَمْوَالِهِمْ وَإِثْمِ مَنْ قَتَلَ مُسْلِمًا . باب: مسلمانوں کے خون ( یعنی جانوں ) اور ان کے اموال کی حرمت کا بیان اور جو شخص کسی مسلمان کو قتل کر دے ، اس کے گناہ کا بیان
حدیث نمبر: 12311
وَعَنْ أَبِي أُمَامَةَ عَنِ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ : " إِنَّ اللَّهَ - عَزَّ وَجَلَّ - لَمْ يُحِلَّ فِي الْفِتْنَةِ شَيْئًا حَرَّمَهُ قَبْلَ ذَلِكَ ، مَا بَالُ أَحَدِكُمْ يَأْتِي أَخَاهُ فَيُسَلِّمُ عَلَيْهِ ثُمَّ يَجِيءُ بَعْدَ ذَلِكَ فَيَقْتُلُهُ ؟ " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ ، وَفِيهِ عَبْدُ الْمَلِكِ بْنُ مُحَمَّدٍ الصَّنْعَانِيُّ ، وَثَّقَهُ أَيُّوبُ بْنُ سُلَيْمَانَ وَغَيْرُهُ وَفِيهِ ضَعْفٌ . ¤محمد محی الدین
سیدنا ابوامامہ رضی اللہ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں : ” بے شک اللہ تعالیٰ نے فتنے کے دوران کسی ایسی چیز کو حلال قرار نہیں دیا ، جسے اس نے اس سے پہلے حرام قرار دیا ہو ، تم میں سے کسی ایک شخص کا کیا معاملہ ہے ؟ کہ وہ اپنے بھائی کے پاس آ کر اسے سلام کرے گا ، پھر اس کے بعد جب وہ اس کے پاس آئے گا تو اُسے قتل کر دے گا ۔ “
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے اس کی سند میں ایک راوی عبدالملک بن محمد صنعانی ہے ، جسے ایوب بن سلیمان اور دیگر حضرات نے ثقہ قرار دیا ہے اور اس میں ضعف پایا جاتا ہے ۔