مجمع الزوائد ومنبع الفوائد
كتاب الفتن - أعاذنا الله منها— فتنوں کے بارے میں روایات ( اللہ تعالیٰ ہمیں ان سے محفوظ رکھے )
بَابُ حُرْمَةِ دِمَاءِ الْمُسْلِمِينَ وَأَمْوَالِهِمْ وَإِثْمِ مَنْ قَتَلَ مُسْلِمًا . باب: مسلمانوں کے خون ( یعنی جانوں ) اور ان کے اموال کی حرمت کا بیان اور جو شخص کسی مسلمان کو قتل کر دے ، اس کے گناہ کا بیان
وَعَنْ جُنْدَبِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " مَنِ اسْتَطَاعَ أَنْ لَا يَحُولَ بَيْنَهُ وَبَيْنَ الْجَنَّةِ مِلْءُ كَفٍّ مِنْ دَمٍ يُهْرِيقُهُ كَأَنَّمَا يَذْبَحُ دَجَاجَةً كُلَّمَا يُعْرَضُ لِبَابٍ مِنْ أَبْوَابِ الْجَنَّةِ حَالَ بَيْنَهُ وَبَيْنَهُ ، وَمَنِ اسْتَطَاعَ مِنْكُمْ أَنْ لَا يَجْعَلَ فِي بَطْنِهِ إِلَّا طَيِّبًا فَإِنَّ أَوَّلَ مَا يُنْتِنُ مِنَ الْإِنْسَانِ بَطْنُهُ " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ وَالْكَبِيرِ ، وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ . ¤سیدنا جندب بن عبداللہ رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” جو شخص یہ کر سکتا ہو کہ اس کے اور جنت کے درمیان مٹھی بھر خون رکاوٹ نہ بنے ، جو ( خون ) اس نے بہایا ہو ، یوں جیسے وہ مرغی ذبح کرتا ہے ، تو ایسا شخص جب بھی جنت کے کسی دروازے پر آئے گا ، تو وہ خون اس کے اور جنت کے دروازے کے درمیان رکاوٹ بن جائے گا اور تم میں سے جو شخص یہ استطاعت رکھتا ہو ، اسے اپنے پیٹ میں پاکیزہ چیز داخل کرنی چاہیے ، کیونکہ انسان میں سے ، سب سے پہلے اس کا پیٹ بدبودار ہوتا ہے ۔ “
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط اور معجم کبیر میں نقل کی ہے اور اس کے رجال صحیح کے رجال ہیں ۔