مجمع الزوائد ومنبع الفوائد
كتاب الفتن - أعاذنا الله منها— فتنوں کے بارے میں روایات ( اللہ تعالیٰ ہمیں ان سے محفوظ رکھے )
بَابُ حُرْمَةِ دِمَاءِ الْمُسْلِمِينَ وَأَمْوَالِهِمْ وَإِثْمِ مَنْ قَتَلَ مُسْلِمًا . باب: مسلمانوں کے خون ( یعنی جانوں ) اور ان کے اموال کی حرمت کا بیان اور جو شخص کسی مسلمان کو قتل کر دے ، اس کے گناہ کا بیان
وَعَنْ أَبِي سَعِيدٍ قَالَ : قُتِلَ قَتِيلٌ عَلَى عَهْدِ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَصَعِدَ النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - خَطِيبًا فَقَالَ : " أَمَا تَعْلَمُونَ مَنْ قَتَلَ هَذَا الْقَتِيلَ بَيْنَ أَظْهُرِكُمْ ؟ " ثَلَاثَ مَرَّاتٍ . قَالُوا : اللَّهُمَّ لَا . فَقَالَ : " وَالَّذِي نَفْسُ مُحَمَّدٍ بِيَدِهِ ، لَوْ أَنَّ أَهْلَ السَّمَاوَاتِ وَأَهْلَ الْأَرْضِ اجْتَمَعُوا عَلَى قَتْلِ مُؤْمِنٍ أَدْخَلَهُمُ اللَّهُ جَمِيعًا جَهَنَّمَ ، وَلَا يُبْغِضُنَا أَهْلَ الْبَيْتِ أَحَدٌ إِلَّا كَبَّهُ اللَّهُ فِي النَّارِ " . ¤ رَوَاهُ الْبَزَّارُ ، وَفِيهِ دَاوُدُ بْنُ عَبْدِ الْحَمِيدِ وَغَيْرُهُ مِنَ الضُّعَفَاءِ . ¤سیدنا ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانہ اقدس میں ایک شخص قتل ہو گیا ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم خطبہ دینے کے لئے ( منبر پر ) چڑھے آپ نے ارشاد فرمایا : کیا تم لوگ یہ بات نہیں جانتے ہو کہ تمہارے درمیان اس مقتول کو کس نے قتل کیا ہے ، یہ بات آپ نے تین مرتبہ دریافت کی ، تو لوگوں نے یہی کہا: کہ اللہ جانتا ہے ، ہم نہیں جانتے ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” اس ذات کی قسم ! جس کے دست قدرت میں محمد کی جان ہے ، اگر تمام آسمان والے اور تمام زمین والے کسی مومن کو قتل کرنے پر اکٹھے ہو جائیں ، تو اللہ تعالیٰ ان سب کو جہنم میں داخل کر دے گا ، اور ہم اہل بیت سے جو بھی شخص بغض رکھے گا ، اللہ تعالیٰ اسے اوندھے منہ جہنم میں ڈال دے گا ۔ “
یہ روایت امام بزار نے نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی داؤد بن عبدالحمید ہے اور اس کے علاوہ دیگر ضعیف راوی ہیں ۔