مجمع الزوائد ومنبع الفوائد
كتاب الفتن - أعاذنا الله منها— فتنوں کے بارے میں روایات ( اللہ تعالیٰ ہمیں ان سے محفوظ رکھے )
بَابُ حُرْمَةِ دِمَاءِ الْمُسْلِمِينَ وَأَمْوَالِهِمْ وَإِثْمِ مَنْ قَتَلَ مُسْلِمًا . باب: مسلمانوں کے خون ( یعنی جانوں ) اور ان کے اموال کی حرمت کا بیان اور جو شخص کسی مسلمان کو قتل کر دے ، اس کے گناہ کا بیان
وَعَنْ عَامِرٍ الشَّعْبِيِّ قَالَ : لَمَّا قَاتَلَ مَرْوَانُ الضَّحَّاكَ بْنَ قَيْسٍ أَرْسَلَ إِلَى أَيْمَنَ بْنِ خُرَيْمٍ الْأَسَدِيِّ ، فَقَالَ : إِنَّا نُحِبُّ أَنْ تُقَاتِلَ مَعَنَا . فَقَالَ : إِنَّ أَبِي وَعَمِّي شَهِدَا بَدْرًا فَعَهِدَا إِلَيَّ أَنْ لَا أُقَاتِلَ أَحَدًا يَشْهَدُ أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ ، فَإِنْ جِئْتَنِي بِبَرَاءَةٍ مِنَ النَّارِ قَاتَلْتُ مَعَكَ . فَقَالَ : اذْهَبْ ، وَوَقَعَ فِيهِ وَسَبَّهُ ، فَأَنْشَأَ أَيْمَنُ يَقُولُ : ¤ وَلَسْتُ مُقَاتِلًا رَجُلًا يُصَلِّي عَلَى سُلْطَانِ آخَرَ مِنْ قُرَيْشٍ ¤ لَهُ سُلْطَانُهُ وَعَلَيَّ إِثْمِي ¤ مَعَاذَ اللَّهِ مِنْ جَهْلٍ وَطَيْشِ . ¤ أُقَاتِلُ مُسْلِمًا فِي غَيْرِ شَيْءٍ فَلَيْسَ بِنَافِعِي مَا عِشْتُ عَيْشِي ¤ رَوَاهُ أَبُو يَعْلَى وَالطَّبَرَانِيُّ بِنَحْوِهِ ، إِلَّا أَنَّهُ قَالَ : " وَلَسْتُ بِقَاتِلٍ رَجُلًا يُصَلِّي " . وَقَالَ : " مَعَاذَ اللَّهِ مِنْ فَشَلٍ وَطَيْشِ " . وَقَالَ : " أَأَقْتُلُ مُسْلِمًا فِي غَيْرِ جُرْمٍ " . ¤ وَرِجَالُ أَبِي يَعْلَى رِجَالُ الصَّحِيحِ ، غَيْرُ زَكَرِيَّا بْنِ يَحْيَى زَحْمَوَيْهِ وَهُوَ ثِقَةٌ . ¤عامر شعبی بیان کرتے ہیں : جب مروان نے ضحاک بن قیس سے جنگ کرنے کا ارادہ کیا ، تو اس نے سیدنا ایمن بن خریم اسدی رضی اللہ عنہ کو پیغام بھیجا اور یہ کہا: کیا آپ یہ بات پسند کریں گے کہ ہمارے ساتھ جنگ میں حصہ لیں ، انہوں نے جواب دیا : میرے والد اور میرے چچا کو غزوہ بدر میں شرکت کا شرف حاصل ہے ، اُن دونوں نے مجھے یہ تلقین کی تھی کہ میں ایسے کسی شخص کے ساتھ جنگ نہ کروں ، جو اس بات کی گواہی دیتا ہو کہ اللہ تعالیٰ کے علاوہ اور کوئی معبود نہیں ہے ، اگر تم میرے پاس جہنم سے بچ جانے کا ( کوئی حکم ) لے کر آتے ہو ، تو میں تمہارے ساتھ جنگ کر لوں گا ، اس نے کہا: آپ تشریف لے جائیں ، اس نے ان پر تنقید کی اور انہیں برا بھلا کہا: ، تو سیدنا ایمن بن خریم اسدی رضی اللہ عنہ نے یہ اشعار کہے : ” میں ایسے شخص کے ساتھ جنگ نہیں کروں گا ، جو نماز ادا کرتا ہو اور جنگ کا مقصد ، صرف قریش سے تعلق رکھنے والے ایک شخص کی حکمرانی ہو ، اسے تو اس کی حکمرانی مل جائے گی اور میرے ذمہ گناہ لازم آئے گا ، میں جہالت اور طیش سے اللہ کی پناہ مانگتا ہوں ، کیا میں کسی وجہ کے بغیر کسی مسلمان کے ساتھ جنگ کروں ، یہ چیز تو مجھے کوئی فائدہ نہیں دے گی ، خواہ میں جب تک بھی زندہ رہوں ۔ “
یہ روایت امام ابویعلیٰ نے نقل کی ہے ، امام طبرانی نے اس کی مانند نقل کی ہے ، تاہم انہوں نے یہ الفاظ نقل کے ہیں : ” میں ایسے کسی شخص کو قتل نہیں کروں گا ، جو نماز ادا کرتا ہو ۔ “ اور اس میں یہ الفاظ ہیں : ” پھسل جانے اور طیش سے اللہ کی پناہ ہے ۔ “ اور اس میں یہ الفاظ بھی ہیں : ” کیا میں کسی جرم کے بغیر ، کسی مسلمان کو قتل کر دوں ۔ “
یہ روایت امام ابویعلیٰ نے نقل کی ہے اور اس کے رجال صحیح کے رجال ہیں ، صرف زکریا بن یحیی زحمویہ کا معاملہ مختلف ہے اور وہ ثقہ ہے ۔