مجمع الزوائد ومنبع الفوائد
كتاب الفتن - أعاذنا الله منها— فتنوں کے بارے میں روایات ( اللہ تعالیٰ ہمیں ان سے محفوظ رکھے )
بَابُ حُرْمَةِ دِمَاءِ الْمُسْلِمِينَ وَأَمْوَالِهِمْ وَإِثْمِ مَنْ قَتَلَ مُسْلِمًا . باب: مسلمانوں کے خون ( یعنی جانوں ) اور ان کے اموال کی حرمت کا بیان اور جو شخص کسی مسلمان کو قتل کر دے ، اس کے گناہ کا بیان
وَعَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ : قُتِلَ قَتِيلٌ عَلَى عَهْدِ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - لَا يُعْلَمُ قَاتِلُهُ ، فَصَعِدَ مِنْبَرَهُ فَقَالَ : " يَا أَيُّهَا النَّاسُ ، أَيُقْتَلُ قَتِيلٌ وَأَنَا بَيْنَ أَظْهُرِكُمْ لَا يُعْلَمُ مَنْ قَتَلَهُ ؟ لَوْ أَنَّ أَهْلَ السَّمَاءِ وَالْأَرْضِ اجْتَمَعُوا عَلَى قَتْلِ مُسْلِمٍ لَعَذَّبَهُمُ اللَّهُ بِلَا عَدَدٍ وَلَا حِسَابٍ " . رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ ، وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ غَيْرَ عَطَاءِ بْنِ أَبِي مُسْلِمٍ ، وَثَّقَهُ ابْنُ حِبَّانَ وَضَعَّفَهُ جَمَاعَةٌ . ¤سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانہ اقدس میں ایک شخص قتل ہو گیا ، جس کے قاتل کا پتہ نہیں چل سکا ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم منبر پر چڑھے آپ نے ارشاد فرمایا : ” اے لوگو ! کیا ایک شخص قتل ہو گیا ہے ؟ جبکہ میں تمہارے درمیان موجود ہوں ، اور اس کے قتل کرنے والے کا پتہ نہیں چل سکا ؟ اگر آسمان والے اور زمین والے سب اکٹھے ہو کر کسی مسلمان کو قتل کر دیں ، تو اللہ تعالیٰ کسی گنتی اور حساب کے بغیر ان سب کو عذاب دے گا ۔ “
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے اور اس کے رجال صحیح کے رجال ہیں ، صرف عطاء بن ابومسلم کا معاملہ مختلف ہے ، ابن حبان نے اسے ثقہ قرار دیا ہے اور ایک جماعت نے اسے ضعیف کہا: ہے ۔