مجمع الزوائد ومنبع الفوائد
كتاب الفتن - أعاذنا الله منها— فتنوں کے بارے میں روایات ( اللہ تعالیٰ ہمیں ان سے محفوظ رکھے )
بَابُ حُرْمَةِ دِمَاءِ الْمُسْلِمِينَ وَأَمْوَالِهِمْ وَإِثْمِ مَنْ قَتَلَ مُسْلِمًا . باب: مسلمانوں کے خون ( یعنی جانوں ) اور ان کے اموال کی حرمت کا بیان اور جو شخص کسی مسلمان کو قتل کر دے ، اس کے گناہ کا بیان
حدیث نمبر: 12291
وَعَنِ الْبَرَاءِ وَزَيْدِ بْنِ أَرْقَمَ قَالَا : سَمِعْنَا رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَقُولُ : " إِنَّ دِمَاءَكُمْ وَأَمْوَالَكُمْ عَلَيْكُمْ حَرَامٌ كَحُرْمَةِ يَوْمِكُمْ هَذَا فِي شَهْرِكُمْ هَذَا فِي بَلَدِكُمْ هَذَا " . رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ ، وَفِيهِ مُوسَى بْنُ عُثْمَانَ الْحَضْرَمِيُّ وَهُوَ مَتْرُوكٌ . قُلْتُ : وَقَدْ تَقَدَّمَتْ أَحَادِيثُ فِي الْحَجِّ وَالدِّيَاتِ . ¤محمد محی الدین
سیدنا براء رضی اللہ عنہ اور سیدنا زید بن ارقم رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : ہم نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا بے : ” بے شک تمہاری جانیں اور تمہارے اموال ایک دوسرے کے لئے اسی طرح قابل احترام ہیں ، جس طرح تمہارے اس دن کی ، تمہارے اس مہینے میں ، تمہارے اس شہر میں حرمت ہے ۔ “
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی موسیٰ بن عثمان حضرمی ہے اور وہ متروک ہے ۔ ( علامہ ہیثمی فرماتے ہیں ) میں یہ کہتا ہوں : اس سے پہلے کتاب الحج اور کتاب الدیات میں اس نوعیت کی احادیث گزر چکی ہیں ۔