مجمع الزوائد ومنبع الفوائد
كتاب الفتن - أعاذنا الله منها— فتنوں کے بارے میں روایات ( اللہ تعالیٰ ہمیں ان سے محفوظ رکھے )
بَابُ حُرْمَةِ دِمَاءِ الْمُسْلِمِينَ وَأَمْوَالِهِمْ وَإِثْمِ مَنْ قَتَلَ مُسْلِمًا . باب: مسلمانوں کے خون ( یعنی جانوں ) اور ان کے اموال کی حرمت کا بیان اور جو شخص کسی مسلمان کو قتل کر دے ، اس کے گناہ کا بیان
وَعَنْ عَمَّارِ بْنِ يَاسِرٍ قَالَ : خَطَبَنَا رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَقَالَ : " أَيُّ يَوْمٍ هَذَا ؟ " . قُلْنَا : يَوْمُ النَّحْرِ . قَالَ : " أَيُّ شَهْرٍ هَذَا ؟ " . قُلْنَا : ذُو الْحِجَّةِ شَهْرٌ حَرَامٌ . قَالَ : " فَأَيُّ بَلَدٍ هَذَا ؟ " . قُلْنَا : بَلَدٌ حَرَامٌ . قَالَ : " فَإِنَّ دِمَاءَكُمْ وَأَمْوَالَكُمْ وَأَعْرَاضَكُمْ عَلَيْكُمْ حَرَامٌ كَحُرْمَةِ يَوْمِكُمْ هَذَا فِي شَهْرِكُمْ هَذَا فِي بَلَدِكُمْ هَذَا ، أَلَا [ هَلْ ] يُبَلِّغِ الشَّاهِدُ الْغَائِبَ ؟ " . رَوَاهُ أَبُو يَعْلَى وَالطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ ، وَفِيهِ عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ عَمْرِو بْنِ جَبَلَةَ وَهُوَ مَتْرُوكٌ . ¤سیدنا عمار بن یاسر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں خطبہ دیتے ہوئے دریافت کیا : یہ کون سا دن ہے ؟ ہم نے عرض کی : یہ قربانی کا دن ہے ، آپ نے دریافت کیا : یہ کون سا مہینہ ہے ؟ ہم نے عرض کی : یہ ذوالحج کا حرمت والا مہینہ ہے ، آپ نے دریافت کیا : یہ کون سا شہر ہے ؟ ہم نے عرض کی : یہ حرمت والا شہر ہے ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : تو تمہاری جانیں ، تمہارے اموال اور تمہاری عزتیں ایک دوسرے کے لئے اُسی طرح قابل احترام ہیں ، جس طرح یہ دن تمہارے لے قابل احترام ہے ، جو تمہارے اس مہینے میں ، تمہارے اس شہر میں ہے ، خبردار ! موجود افراد غیر موجود لوگوں تک تبلیغ کر دیں ۔ “
یہ روایت امام ابویعلیٰ نے ، امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی عبدالرحمن بن عمرو بن جبلہ ہے اور وہ متروک ہے ۔