مجمع الزوائد ومنبع الفوائد
كتاب الفتن - أعاذنا الله منها— فتنوں کے بارے میں روایات ( اللہ تعالیٰ ہمیں ان سے محفوظ رکھے )
بَابُ حُرْمَةِ دِمَاءِ الْمُسْلِمِينَ وَأَمْوَالِهِمْ وَإِثْمِ مَنْ قَتَلَ مُسْلِمًا . باب: مسلمانوں کے خون ( یعنی جانوں ) اور ان کے اموال کی حرمت کا بیان اور جو شخص کسی مسلمان کو قتل کر دے ، اس کے گناہ کا بیان
وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " لَا يَقْتُلُ الْقَاتِلُ حِينَ يَقْتُلُ وَهُوَ مُؤْمِنٌ ، وَلَا يَزْنِي الزَّانِي حِينَ يَزْنِي وَهُوَ مُؤْمِنٌ ، وَلَا يَشْرَبُ الْخَمْرَ حِينَ يَشْرَبُهَا وَهُوَ مُؤْمِنٌ ، وَلَا يَخْتَلِسُ خِلْسَةً وَهُوَ مُؤْمِنٌ ، يَخْتَلِعُ مِنْهُ الْإِيمَانَ كَمَا يَخْلَعُ سِرْبَالَهُ ، فَإِذَا رَجَعَ إِلَى الْإِيمَانِ رَجَعَ إِلَيْهِ ، وَإِذَا رَجَعَ رَجَعَ إِلَيْهِ الْإِيمَانُ " . قُلْتُ : هُوَ فِي الصَّحِيحِ بِاخْتِصَارٍ . ¤ رَوَاهُ الْبَزَّارُ ، وَفِيهِ مُبَارَكُ بْنُ حَسَّانَ ، وَثَّقَهُ ابْنُ مَعِينٍ وَغَيْرُهُ ، وَضَعَّفَهُ أَبُو دَاوُدَ وَغَيْرُهُ ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ ثِقَاتٌ . ¤سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” قتل کرنے والا شخص قتل کرتے ہوئے مومن نہیں ہوتا ، زنا کرنے والا شخص زنا کرتے ہوئے مومن نہیں ہوتا ، شراب پینے والا شخص شراب پیتے ہوئے مومن نہیں ہوتا ، کوئی چیز اچکنے والا شخص اس چیز کو اچکتے ہوئے مومن نہیں ہوتا ، اس سے ایمان یوں الگ ہو جاتا ہے ، جس طرح آدمی اپنی قمیص کو اُتارتا ہے ، جب وہ ایمان کی طرف رجوع کرتا ہے ، تو ایمان بھی اس کی طرف لوٹ آتا ہے ، جب وہ رجوع کرتا ہے ، تو ایمان بھی اس کی طرف لوٹ آتا ہے ۔ “ ( علامہ ہیثمی فرماتے ہیں ) میں یہ کہتا ہوں : یہ روایت صحیح میں اختصار کے ساتھ منقول ہے ۔
یہ روایت امام بزار نے نقل کی ہے اس کی سند میں ایک راوی مبارک بن حسان ہے ، جسے یحیی بن معین اور دیگر حضرات نے ثقہ قرار دیا ہے ، امام ابوداؤد اور دیگر حضرات نے اسے ضعیف کہا: ہے ، اس روایت کے بقیہ رجال ثقہ ہیں ۔