حدیث نمبر: 12285
وَعَنْ جُنْدَبِ بْنِ سُفْيَانَ قَالَ : إِنِّي لَعِنْدَ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - إِذْ جَاءَهُ بَشِيرٌ مِنْ سَرِيَّةٍ بَعَثَهَا ، فَأَخْبَرَهُ بِنَصْرِ اللَّهِ الَّذِي نَصَرَ سَرِيَّتَهُ وَبِفَتْحِ اللَّهِ الَّذِي فَتَحَ لَهُمْ . قَالَ : فَذَكَرَ نَحْوَ حَدِيثٍ تَقَدَّمَ لِجُنْدَبِ بْنِ سُفْيَانَ وَزَادَ : فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - عِنْدَ ذَلِكَ : " سَيَكُونُ بَعْدِي فِتَنٌ كَقِطَعِ اللَّيْلِ الْمُظْلِمِ تَصْدِمُ كَصَدْمِ الْحَمَاةِ وَفُحُولِ الثِّيرَانِ ، يُصْبِحُ الرَّجُلُ فِيهَا مُسْلِمًا وَيُمْسِي كَافِرًا ، وَيُمْسِي فِيهَا مُسْلِمًا وَيُصْبِحُ كَافِرًا " . فَقَالَ رَجُلٌ مِنَ الْمُسْلِمِينَ : فَكَيْفَ نَصْنَعُ عِنْدَ ذَلِكَ يَا رَسُولَ اللَّهِ ؟ قَالَ : " ادْخُلُوا بُيُوتَكُمْ وَأَخْمِلُوا ذِكْرَكُمْ " . فَقَالَ رَجُلٌ مِنَ الْمُسْلِمِينَ : أَفَرَأَيْتَ إِنْ دَخَلَ عَلَى أَحَدِنَا فِي بَيْتِهِ ؟ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " فَلْيُمْسِكْ بِيَدِهِ ، وَلْيَكُنْ عَبْدَ اللَّهِ الْمَقْتُولَ ، وَلَا يَكُنْ عَبْدَ اللَّهِ الْقَاتِلَ ، فَإِنَّ الرَّجُلَ يَكُونُ فِي قُبَّةِ الْإِسْلَامِ فَيَأْكُلُ مَالَ أَخِيهِ وَيَسْفِكُ دَمَهُ وَيَعْصِي رَبَّهُ وَيَكْفُرُ بِخَالِقِهِ وَتَجِبُ لَهُ جَهَنَّمُ " . رَوَاهُ أَبُو يَعْلَى ، وَفِيهِ عَبْدُ الْحَمِيدِ بْنُ بَهْرَامَ وَشَهْرُ بْنُ حَوْشَبٍ وَقَدْ وُثِّقَا وَفِيهِمَا ضَعْفٌ . ¤
محمد محی الدین

سیدنا جندب بن سفیان رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس موجود تھا ، اسی دوران ایک مہم کا خوشخبری سنانے والا شخص آیا ، جس مہم کو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے بھیجا تھا ، اس نے آپ کو بتایا کہ اللہ تعالیٰ کی مدد شامل حال ہوئی اور اس لشکر کی مدد ہو گئی اور اللہ تعالیٰ نے ان لوگوں کو فتح نصیب کی ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ اس کے بعد راوی نے اس کی مانند حدیث نقل کی ہے ، جو سیدنا جندب بن سفیان رضی اللہ عنہ کے حوالے سے پہلے گزر چکی ہے اور اس میں یہ الفاظ ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس وقت یہ ارشاد فرمایا : ” عنقریب میرے بعد ایسے فتنے ہوں گے ، جو تاریک رات کے ٹکڑوں کی مانند ہوں گے ، ان میں آدمی صبح کے وقت مسلمان ہو گا اور شام کے وقت کافر ہو چکا ہو گا ، یا شام کو مسلمان ہو گا اور صبح کے وقت کافر ہو چکا ہو گا ، مسلمانوں میں سے ایک شخص نے عرض کی : یا رسول اللہ ! اُس وقت ہمیں کیا کرنا چاہیے ؟ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : تم اپنے گھروں میں داخل ہو جانا اور چھپ جانا ، حاضرین میں سے ایک صاحب نے عرض کی : اس بارے میں آپ کی کیا رائے ہے ؟ کہ اگر ہم میں سے کسی ایک کے گھر میں وہ شخص داخل ہو جاتا ہے ، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : اس ( اپنے گھر میں موجود ) شخص کو اپنا ہاتھ روک کے رکھنا چاہیے ، اور اللہ کا مقتول بندہ بننا چاہیے ، اللہ کا قاتل بندہ نہیں بننا چاہیے ، کیونکہ آدمی اسلام کے قبہ میں ہوتا ہے ، پھر وہ اپنے بھائی کا مال کھاتا ہے اور اس کا خون بہاتا ہے ، اپنے پروردگار کی نافرمانی کرتا ہے ، اپنے خالق کا کفر کرتا ہے ، تو اُس کے لئے جہنم واجب ہو جاتی ہے ۔ “
یہ روایت امام ابویعلیٰ نے نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی عبدالحمید بن بہرام ہے اور ایک راوی شہر بن حوشب ہے ان دونوں کی توثیق کی گئی ہے اور ان دونوں میں ضعف پایا جاتا ہے ۔

حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الفتن - أعاذنا الله منها / حدیث: 12285
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ حسن