مجمع الزوائد ومنبع الفوائد
كتاب الفتن - أعاذنا الله منها— فتنوں کے بارے میں روایات ( اللہ تعالیٰ ہمیں ان سے محفوظ رکھے )
بَابُ حُرْمَةِ دِمَاءِ الْمُسْلِمِينَ وَأَمْوَالِهِمْ وَإِثْمِ مَنْ قَتَلَ مُسْلِمًا . باب: مسلمانوں کے خون ( یعنی جانوں ) اور ان کے اموال کی حرمت کا بیان اور جو شخص کسی مسلمان کو قتل کر دے ، اس کے گناہ کا بیان
عَنْ عُقْبَةَ بْنِ خَالِدٍ اللَّيْثِيِّ قَالَ : بَعَثَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - سَرِيَّةً فَغَارَتْ عَلَى قَوْمٍ ، فَشَدَّ رَجُلٌ مِنَ الْقَوْمِ فَاتَّبَعَهُ رَجُلٌ مِنَ السَّرِيَّةِ وَمَعَهُ السَّيْفُ شَاهِرُهُ ، فَقَالَ إِنْسَانٌ مِنَ الْقَوْمِ : إِنِّي مُسْلِمٌ إِنِّي مُسْلِمٌ . فَلَمْ يَنْظُرْ فِيمَا قَالَ فَضَرَبَهُ فَقَتَلَهُ . قَالَ : فَنُمِّيَ الْحَدِيثُ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَقَالَ فِيهِ قَوْلًا شَدِيدًا ، فَبَلَغَ الْقَاتِلَ . قَالَ : فَبَيْنَا رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَخْطُبُ إِذْ قَالَ الْقَاتِلُ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، وَاللَّهِ مَا قَالَ الَّذِي قَالَهُ إِلَّا تَعَوُّذًا مِنَ الْقَتْلِ . فَأَعْرَضَ عَنْهُ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - وَعَنْ مَنْ قِبَلَهُ مِنَ النَّاسِ وَأَخَذَ فِي خُطْبَتِهِ . قَالَ : ثُمَّ عَادَ فَقَالَ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، مَا قَالَ الَّذِي قَالَ إِلَّا تَعَوُّذًا مِنَ الْقَتْلِ . فَأَعْرَضَ عَنْهُ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - وَعَنْ مَنْ قِبَلَهُ مِنَ النَّاسِ . فَلَمْ يَصْبِرْ أَنْ قَالَ فِي الثَّالِثَةِ ، فَأَقْبِلْ عَلَيْهِ تَعْرِفِ الْمَسَاءَةَ فِي وَجْهِهِ ، فَقَالَ : " إِنَّ اللَّهَ - عَزَّ وَجَلَّ - أَبَى عَلَيَّ أَنْ أَقْتُلَ مُؤْمِنًا " ثَلَاثَ مَرَّاتٍ . رَوَاهُ أَبُو يَعْلَى وَأَحْمَدُ بِاخْتِصَارٍ ، إِلَّا أَنَّهُ قَالَ : عُقْبَةُ بْنُ مَالِكٍ بَدَلَ عُقْبَةَ بْنِ خَالِدٍ ، وَالطَّبَرَانِيُّ بِطُولِهِ وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ غَيْرَ بِشْرِ بْنِ عَاصِمٍ اللَّيْثِيِّ وَهُوَ ثِقَةٌ . ¤سیدنا عقبہ بن خالد لیثی رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک جنگی مہم بھیجی ، ان لوگوں نے دشمن پر حملہ کیا ، دشمن میں سے ایک شخص بھاگا ، مہم کے افراد میں سے ایک شخص اس کے پیچھے گیا ، اس کے پاس تلوار تھی ، جو اس نے لہرائی ہوئی تھی ، دشمن سے تعلق رکھنے والے شخص نے کہا: میں مسلمان ہوں ، میں مسلمن ہوں ، لیکن پیچھے جانے والے نے اس کی بات پر توجہ نہیں دی اور اس پر حملہ کر کے اسے قتل کر دیا ، جب یہ بات نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو بتائی گئی ، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس بارے میں سخت ناراضگی کا اظہار کیا ، قتل کرنے والے شخص کو اس بات کی اطلاع ملی ، راوی بیان کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم خطبہ دے رہے تھے ، اسی دوران قتل کرنے والا شخص بولا: یا رسول اللہ ! اللہ کی قسم ! اس شخص نے جو بات کہی تھی ، وہ صرف قتل سے بچنے کے لئے کہی تھی ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس شخص سے اور اس طرف کے لوگوں سے منہ پھیر لیا اور اپنا خطبہ جاری رکھا ، راوی بیان کرتے ہیں : پھر اس شخص نے دوبارہ کھڑے ہو کر عرض کی : یا رسول اللہ ! اس شخص نے جو بات کہی تھی وہ صرف قتل سے بچنے کے لئے کہی تھی ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس شخص سے اور اس کی طرف موجود لوگوں سے منہ پھیر لیا ، اس شخص سے صبر نہیں ہوا ، یہاں تک کہ تیسری مرتبہ اس نے یہ بات کی ، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم اس کی طرف متوجہ ہوئے ، آپ کے چہرے سے ناراضگی کا اظہار ہو رہا تھا ، آپ نے ارشاد فرمایا : ” اللہ تعالیٰ نے مجھے اس چیز کی اجازت نہیں دی ہے کہ میں کسی مومن کو قتل کروں “ یہ بات آپ نے تین مرتبہ ارشاد فرمائی ۔
یہ روایت امام ابویعلیٰ نے نقل کی ہے امام أحمد نے اسے اختصار کے ساتھ نقل کیا ہے ، تاہم انہوں نے سیدنا عقبہ بن خالد رضی اللہ عنہ کی بجائے لفظ ” عقبہ بن مالک “ نقل کیا ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے طویل روایت کے طور پر نقل کی ہے اور اس کے رجال ثقہ ہیں صرف بشر بن عابس لیثی کا معاملہ مختلف ہے اور وہ ثقہ ہے ۔