مجمع الزوائد ومنبع الفوائد
كتاب الفتن - أعاذنا الله منها— فتنوں کے بارے میں روایات ( اللہ تعالیٰ ہمیں ان سے محفوظ رکھے )
بَابُ حُرْمَةِ دِمَاءِ الْمُسْلِمِينَ وَأَمْوَالِهِمْ وَإِثْمِ مَنْ قَتَلَ مُسْلِمًا . باب: مسلمانوں کے خون ( یعنی جانوں ) اور ان کے اموال کی حرمت کا بیان اور جو شخص کسی مسلمان کو قتل کر دے ، اس کے گناہ کا بیان
وَعَنْ أَبِي عِمْرَانَ قَالَ : قُلْتُ لِجُنْدَبٍ : إِنِّي قَدْ بَايَعْتُ هَؤُلَاءِ - يَعْنِي ابْنَ الزُّبَيْرِ - وَإِنَّهُمْ يُرِيدُونَ أَنْ أَخْرُجَ مَعَهُمْ إِلَى الشَّامِ . فَقَالَ : أَمْسِكْ . فَقُلْتُ : إِنَّهُمْ يَأْبَوْنَ . قَالَ : افْتَدِ بِمَالِكَ . فَقُلْتُ : إِنَّهُمْ يَأْبَوْنَ إِلَّا أَنْ أَضْرِبَ مَعَهُمْ بِالسَّيْفِ . فَقَالَجُنْدَبٌ : حَدَّثَنِي فُلَانٌ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ : " يَجِيءُ الْمَقْتُولُ بِقَاتِلِهِ يَوْمَ الْقِيَامَةِ فَيَقُولُ : يَا رَبِّ سَلْ هَذَا فِيمَ قَتَلَنِي ؟ " . - قَالَ شُعْبَةُ : وَأَحْسَبُهُ قَالَ : - " عَلَى مَا قَتَلْتَهُ ؟ فَيَقُولُ : قَتَلْتُهُ عَلَى مُلْكِ فُلَانٍ " . قَالَ : فَقَالَ جُنْدَبٌ : فَاتَّقِهَا . رَوَاهُ أَحْمَدُ وَالطَّبَرَانِيُّ ، وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ . ¤ابوعمران بیان کرتے ہیں : میں نے سیدنا جندب رضی اللہ عنہ سے کہا: میں نے ان لوگوں کی ، یعنی سیدنا عبداللہ بن زبیر رضی اللہ عنہما کی بیعت کر لی ہے ، اور وہ لوگ یہ چاہتے ہیں کہ میں ان لوگوں کے ساتھ نکل کر شام کی طرف جاؤں ، تو انہوں ( یعنی سیدنا جندب رضی اللہ عنہ ) نے فرمایا : تم رک جاؤ ! میں نے کہا: وہ لوگ نہیں مانتے ہیں ، انہوں نے کہا: تم مال فدیہ کے طور پر دے دو ! میں نے کہا: وہ لوگ اس بات پر اصرار کر رہے ہیں کہ میں ان کے ساتھ تلوار لے کر حصہ لوں ، تو سیدنا جندب رضی اللہ عنہ نے فرمایا : مجھے فلاں شخص نے یہ بات بیان کی ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا ہے : ” قیامت کے دن مقتول اپنے قاتل کو لے کر آئے گا اور عرض کرے گا : اے میرے پروردگار ! اس شخص سے پوچھ ! کہ اس نے مجھے کیوں قتل کیا تھا ؟ شعبہ نامی راوی کہتے ہیں : میرا خیال ہے روایت میں یہ الفاظ بھی ہیں : اللہ تعالیٰ فرمائے گا : تم نے اسے کیوں قتل کیا تھا ؟ تو وہ عرض کرے گا : میں نے فلاں شخص کی حکومت کی خاطر اسے قتل کیا تھا ۔ “ راوی کہتے ہیں : تو سیدنا جندب رضی اللہ عنہ نے کہا: تم اس چیز سے بچ کے رہنا ۔
یہ روایت امام أحمد اور امام طبرانی نے نقل کی ہے اور اس کے رجال صحیح کے رجال ہیں ۔