مجمع الزوائد ومنبع الفوائد
كتاب الفتن - أعاذنا الله منها— فتنوں کے بارے میں روایات ( اللہ تعالیٰ ہمیں ان سے محفوظ رکھے )
بَابٌ فِي أَيَّامِ الصَّبْرِ وَفِيمَنْ يَتَمَسَّكُ بِدِينِهِ فِي الْفِتَنِ . باب: صبر والے دنوں کا بیان اور اس شخص کا بیان جو فتنوں کے دوران اپنے دین کو مضبوطی سے تھامے رکھتا ہے
وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ عَنِ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - وَعَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَسْعُودٍ قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " سَيَكُونُ بَعْدِي أَثْرَةٌ وَأُمُورٌ تُنْكِرُونَهَا " . قَالُوا : فَمَا تَأْمُرُ مَنْ أَدْرَكَ ذَلِكَ يَا رَسُولَ اللَّهِ ؟ قَالَ : " تُؤَدُّونَ الْحَقَّ الَّذِي عَلَيْكُمْ ، وَتَسْأَلُونَ اللَّهَ الَّذِي لَكُمْ " . قُلْتُ : حَدِيثُ ابْنِ مَسْعُودٍ فِي الصَّحِيحِ . رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ وَالصَّغِيرِ ، وَفِيهِ أَحْمَدُ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ الْوَاسِطِيُّ وَلَمْ أَعْرِفْهُ ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ ثِقَاتٌ . ¤سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں : سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” عنقریب میرے بعد ترجیحی سلوک ہو گا اور کچھ اور امور ہوں گے ، جنہیں تم منکر قرار دو گے ، لوگوں نے عرض کی : یا رسول اللہ ! جو شخص اس صورت حال کو پاتا ہے ، آپ اسے کیا حکم دیتے ہیں ؟ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” تم اس حق کو ادا کرنا جو تمہارے ذمہ لازم ہے اور جو تمہارا حق ہے ، وہ اللہ تعالیٰ سے مانگنا ۔ “ ( علامہ ہیثمی فرماتے ہیں ) میں یہ کہتا ہوں : سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کی نقل کردہ حدیث صحیح میں مذکور ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط اور معجم صغیر میں نقل کی ہے اس کی سند میں ایک راوی أحمد بن عبدالعزیز واسطی ہے اور میں اس سے واقف نہیں ہوں ، اس روایت کے بقیہ رجال ثقہ ہیں ۔