❮
❯
حدیث نمبر: 12223
وَعَنْ عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ أَنَّ النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ : " سَتُغَرْبَلُونَ حَتَّى تَصِيرُوا فِي حُثَالَةٍ مِنَ النَّاسِ مَرِجَتْ عُهُودُهُمْ وَخَرِبَتْ أَمَانَتُهُمْ " . فَقَالَ قَائِلُنَا : فَكَيْفَ بِنَا يَا رَسُولَ اللَّهِ ؟ قَالَ : " تَعْمَلُونَ بِمَا تَعْرِفُونَ ، وَتَتْرُكُونَ مَا تُنْكِرُونَ ، وَتَقُولُونَ : أَحَدٌ أَحَدٌ انْصُرْنَا عَلَى مَنْ ظَلَمَنَا وَاكْفِنَا مَنْ بَغَانَا " . رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ ، وَفِيهِ مَنْ لَمْ أَعْرِفْهُمْ .
محمد محی الدین

سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں : ” عنقریب تمہیں آزمایا جاتا رہے گا ، یہاں تک کہ تم ردّی لوگوں میں رہ جاؤ گے ، جن کے عہد ایک دوسرے میں داخل ہو چکے ہوں گے اور ان کی امانتیں خراب ہو چکی ہوں گی ، ہم میں سے کسی نے عرض کی : یا رسول اللہ پھر ہمیں کیا کرنا چاہیے ؟ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : تم وہ عمل کرنا جسے تم نیکی سمجھو اور اس چیز کو ترک کر دینا جسے تم منکر سمجھو اور تم یہ کہنا : اے یکتا ! اے یکتا ! اس شخص کے خلاف ہماری مدد فرما ، جس نے ہم پر ظلم کیا ہے اور اس شخص کے مقابلے میں ہمارے لئے کافی ہو جا ، جس نے ہم سے سرکشی کی ہے ۔ “
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے اور اس کی سند میں ایسا راوی ہے جس سے میں واقف نہیں ہوں ۔

حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الفتن - أعاذنا الله منها / حدیث: 12223
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ ضعیف
تخریج حدیث «أخرجه المعجم الأوسط للطبراني برقم: 6248»