مجمع الزوائد ومنبع الفوائد
كتاب الفتن - أعاذنا الله منها— فتنوں کے بارے میں روایات ( اللہ تعالیٰ ہمیں ان سے محفوظ رکھے )
بَابٌ فِي أَيَّامِ الصَّبْرِ وَفِيمَنْ يَتَمَسَّكُ بِدِينِهِ فِي الْفِتَنِ . باب: صبر والے دنوں کا بیان اور اس شخص کا بیان جو فتنوں کے دوران اپنے دین کو مضبوطی سے تھامے رکھتا ہے
وَعَنْ أُمِّ سَلَمَةَ أَنَّهَا سَمِعَتْ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَقُولُ : " لَيَأْتِيَّنَ عَلَى النَّاسِ زَمَانٌ يُكَذَّبُ فِيهِ الصَّادِقُ ، وَيُصَدَّقُ فِيهِ الْكَاذِبُ ، وَيُخَوَّنُ فِيهِ الْأَمِينُ ، وَيُؤْتَمَنُ فِيهِ الْخَائِنُ ، وَيَشْهَدُ الْمَرْءُ وَإِنْ لَمْ يُسْتَشْهَدْ ، وَيَحْلِفُ الْمَرْءُ وَإِنْ لَمْ يُسْتَحْلَفْ ، وَيَكُونُ أَسْعَدَ النَّاسِ بِالدُّنْيَا لُكَعُ بْنُ لُكَعٍ لَا يُؤْمِنُ بِاللَّهِ وَرَسُولِهِ " . رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ وَالْكَبِيرِ ، وَفِيهِ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ صَالِحٍ كَاتِبُ اللَّيْثِ ، وَهُوَ ضَعِيفٌ وَقَدْ وُثِّقَ . ¤سیدہ ام سلمہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں : انہوں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے : ” لوگوں پر ایسا زمانہ ضرور آئے گا ، جس میں سچے کو جھوٹا قرار ضرور دیا جائے گا اور جھوٹے کی تصدیق کی جائے گی ، جس میں امین کو خائن قرار دیا جائے گا اور خائن کو امین بنا دیا جائے گا ، آدمی گواہی دے گا حالانکہ اس سے گواہی نہیں مانگی گئی ہو گی ، آدمی حلف اٹھاے گا ، حالانکہ اس سے حلف نہیں مانگا گیا ہو گا ، اور دنیا میں سب سے زیادہ سعادت مند ( یعنی دنیاوی اعتبار سے سب سے زیادہ صاحب حیثیت ) وہ شخص ہو گا ، جو خود بے وقوف ہو گا اور بے وقوف کا بچہ ہو گا ، وہ اللہ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم پر ایمان نہیں رکھتا ہو گا ۔ “
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں اور معجم کبیر میں نقل کی ہے اس کی سند میں ایک راوی عبداللہ بن صالح ہے ، جو لیث کا کاتب ہے اور وہ ضعیف ہے ، ویسے اس کی توثیق کی گئی ہے ۔