مجمع الزوائد ومنبع الفوائد
كتاب الفتن - أعاذنا الله منها— فتنوں کے بارے میں روایات ( اللہ تعالیٰ ہمیں ان سے محفوظ رکھے )
بَابٌ فِي أَيَّامِ الصَّبْرِ وَفِيمَنْ يَتَمَسَّكُ بِدِينِهِ فِي الْفِتَنِ . باب: صبر والے دنوں کا بیان اور اس شخص کا بیان جو فتنوں کے دوران اپنے دین کو مضبوطی سے تھامے رکھتا ہے
وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " كَيْفَ أَنْتَ يَا عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عَمْرٍو إِذَا كُنْتَ فِي حُثَالَةٍ مِنَ النَّاسِ ؟ " . قَالَ : فَذَاكَ مَا هُوَ يَا رَسُولَ اللَّهِ ؟ قَالَ : " ذَاكَ إِذَا مَرِجَتْ أَمَانَاتُهُمْ وَعُهُودُهُمْ فَصَارُوا هَكَذَا " وَشَبَّكَ بَيْنَ أَصَابِعِهِ . قَالَ : فَكَيْفَ أَصْنَعُ يَا رَسُولَ اللَّهِ ؟ قَالَ : " تَعْمَلُ بِمَا تَعْرِفُ ، وَتَدَعُ مَا تُنْكِرُ ، وَتَعْمَلُ بِخَاصَّةِ نَفْسِكَ ، وَتَدَعُ عَوَامَّ النَّاسِ " . رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ بِإِسْنَادَيْنِ ، رِجَالُ أَحَدِهِمَا رِجَالُ الصَّحِيحِ . ¤سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” اے عبداللہ بن عمرو ! اس وقت تمہارا کیا بنے گا ؟ ردّی لوگوں میں رہ جاؤ گے ، انہوں نے عرض کی : یا رسول اللہ ! وہ کیا صورت حال ہو گی ؟ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : اس وقت لوگوں کی امانتیں اور ان کے عہد ، ایک دوسرے میں داخل ہو جائیں گے اور وہ یوں ہو جائیں گے ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی انگلیاں ایک دوسرے میں داخل کر کے یہ بات ارشاد فرمائی ، انہوں نے عرض کی : یا رسول اللہ ! مجھے کیا کرنا چاہیے ؟ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : تم وہ عمل کرنا جسے تم نیکی سمجھو اور اسے ترک کر دینا ، جسے تم منکر ( یا برائی ) سمجھو اور تم بطور خاص اپنی ذات کے لئے عمل کرنا اور لوگوں کو ( ان کے حال پر ) چھوڑ دینا ۔ “
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں دو اسناد کے ساتھ نقل کی ہے ، جن میں سے ایک کے رجال صحیح کے رجال ہیں ۔