حدیث نمبر: 12221
وَعَنْ ثَوْبَانَ عَنْ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ : " مَنْ أَحْدَثَ حَدَثًا أَوْ آوَى مُحْدِثًا أَوْ دَعَا إِلَى غَيْرِ أَبِيهِ أَوْ تَوَلَّى غَيْرَ مَوَالِيهِ فَعَلَيْهِ لَعْنَةُ اللَّهِ وَالْمَلَائِكَةِ وَالنَّاسِ أَجْمَعِينَ لَا يُقْبَلُ مِنْهُ صَرْفٌ وَلَا عَدْلٌ " ، وَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " كَيْفَ أَنْتُمْ فِي قَوْمٍ مَرِجَتْ عُهُودُهُمْ وَأَمَانَاتُهُمْ وَصَارُوا حُثَالَةً ؟ " وَشَبَّكَ بَيْنَ أَصَابِعِهِ . قَالُوا : فَكَيْفَ نَصْنَعُ يَا رَسُولَ اللَّهِ ؟ قَالَ : " اصْبِرُوا اصْبِرُوا ، وَخَالِقُوا النَّاسَ بِأَخْلَاقِهِمْ ، وَخَالِفُوهُمْ فِي أَعْمَالِهِمْ " . رَوَاهُ الْبَزَّارُ ، وَفِيهِ يَزِيدُ بْنُ رَبِيعَةَ وَهُوَ مَتْرُوكٌ ، وَقَالَ ابْنُ عَدِيٍّ : أَرْجُو أَنَّهُ لَا بَأْسَ بِهِ . ¤
محمد محی الدین

سیدنا ثوبان رضی اللہ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں : ” جو شخص کوئی بدعت ایجاد کرے ، یا کسی بدعتی کو پناہ دے ، یا اپنے باپ کے علاوہ ، یا اپنے آزاد کرنے والے آقا کے علاوہ کسی اور کی طرف خود کو منسوب کرے ، تو اس پر اللہ تعالیٰ فرشتوں اور لوگوں ، سب کی لعنت ہو گی ، اس شخص کی کوئی فرض یا نفل عبادت قبول نہیں ہو گی ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : اس وقت تمہارا کیا بنے گا ؟ جب تم ایسے لوگوں میں رہ جاؤ گے ، جن کے عہد اور ان کی امانتیں ایک دوسرے میں داخل ہو جائیں گے اور وہ لوگ ردّی ہو چکے ہوں گے ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی انگلیاں ایک دوسرے میں داخل کر کے یہ بات ارشاد فرمائی ، لوگوں نے عرض کی : یا رسول الله ! ہمیں کیا کرنا چاہیے ؟ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : تم صبر سے کام لینا ، تم صبر سے کام لینا ، تم لوگوں کے ساتھ اُن کے اخلاق کے مطابق پیش آنا اور اُن کے اعمال کے بارے میں اُن ( لوگوں ) کے برخلاف کرنا ۔ “
یہ روایت امام بزار نے نقل کی ہے اس کی سند میں ایک راوی یزید بن ربیعہ ہے اور وہ متروک ہے ، ابن عدی کہتے ہیں : مجھے یہ امید ہے کہ اس میں کوئی حرج نہیں ہو گا ۔

حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الفتن - أعاذنا الله منها / حدیث: 12221
درجۂ حدیث محدثین: ضعیف جداً
تخریج حدیث «اخرجه البزار فى المسند (3324)»