حدیث نمبر: 12220
وَعَنْ أَبِي ذَرٍّ قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " يَا أَبَا ذَرٍّ ، كَيْفَ أَنْتَ إِذَا كُنْتَ فِي حُثَالَةٍ مِنَ النَّاسِ ؟ " وَشَبَّكَ بَيْنَ أَصَابِعِهِ . قُلْتُ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، مَا تَأْمُرُنِي ؟ قَالَ : " اصْبِرِ اصْبِرْ ، خَالِقُوا النَّاسَ بِأَخْلَاقِهِمْ ، وَخَالِفُوهُمْ فِي أَعْمَالِهِمْ " . رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ ، وَفِيهِ يَزِيدُ بْنُ رَبِيعَةَ الرَّحْبِيُّ وَهُوَ مَتْرُوكٌ . ¤
محمد محی الدین

سیدنا ابوذر غفاری رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” اے ابوذر ! اس وقت تمہارا کیا بنے گا ؟ جب تم ردّی لوگوں میں باقی رہ جاؤ گے ؟ پھر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی انگلیاں ایک دوسرے میں داخل کر لیں ، میں نے عرض کی : یا رسول اللہ ! آپ مجھے کیا حکم دیتے ہیں ؟ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” تم صبر سے کام لینا ! تم صبر سے کام لینا ! لوگوں سے ان کے اخلاق کے حوالے سے ملتے جلتے رہنا اور لوگوں کے اعمال کے حوالے سے اُن کے برخلاف کرنا ۔ “
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی یزید بن ربیعہ رحبی ہے اور وہ متروک ہے ۔

حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الفتن - أعاذنا الله منها / حدیث: 12220
درجۂ حدیث محدثین: ضعیف جداً
تخریج حدیث «اخرجه الطبراني فى المعجم الاوسط (473)»