مجمع الزوائد ومنبع الفوائد
كتاب الفتن - أعاذنا الله منها— فتنوں کے بارے میں روایات ( اللہ تعالیٰ ہمیں ان سے محفوظ رکھے )
بَابٌ فِي أَيَّامِ الصَّبْرِ وَفِيمَنْ يَتَمَسَّكُ بِدِينِهِ فِي الْفِتَنِ . باب: صبر والے دنوں کا بیان اور اس شخص کا بیان جو فتنوں کے دوران اپنے دین کو مضبوطی سے تھامے رکھتا ہے
وَعَنْهُ قَالَ : لَيَأْتِيَّنَ عَلَيْكُمْ زَمَانٌ يَمُرُّ الرَّجُلُ بِالْقَبْرِ فَيَقُولُ : يَا لَيْتَنِي مَكَانَ هَذَا ، مَا بِهِ مِنْ حُبِّ لِقَاءِ اللَّهِ وَلَكِنْ شِدَّةُ مَا يَرَى مِنَ الْبَلَاءِ . قِيلَ : أَيُّ شَيْءٍ عِنْدَ ذَلِكَ خَيْرٌ ؟ قَالَ : فَرَسٌ شَدِيدٌ وَسِلَاحٌ شَدِيدٌ يَزُولُ بِهِ الرَّجُلُ حَيْثُ زَالَ . رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ بِإِسْنَادَيْنِ ، رِجَالُ أَحَدِهِمَا رِجَالُ الصَّحِيحِ ، غَيْرُ أَبِي الزَّعْرَاءِ الْكَبِيرِ وَثَّقَهُ ابْنُ حِبَّانَ وَضَعَّفَهُ غَيْرُهُ . ¤اُن کے حوالے سے یہ بات منقول ہے وہ فرماتے ہیں : ” تم پر ایسا زمانہ ضرور آئے گا کہ جس میں آدمی قبر کے پاس سے گزرے گا ، تو یہ کہے گا : کاش میں اس مردے کی جگہ ہوتا اور وہ اللہ تعالیٰ کی بارگاہ حاضری کے شوق کی وجہ سے یہ نہیں کہے گا ، بلکہ جس آزمائش کا اس نے سامنا کیا ہو گا ، اُس کی شدت کی وجہ سے یہ بات کہے گا ، عرض کی گئی : اس وقت کون سی چیز زیادہ بہتر ہو گی ؟ انہوں نے فرمایا : مضبوط گھوڑا ، مضبوط ہتھیار ، جس کے ذریعے آدمی جہاں چاہے جا سکے ۔ “
یہ روایت امام طبرانی نے دو اسناد کے ساتھ نقل کی ہے جن میں سے ایک کے رجال صحیح کے رجال ہیں ، صرف ابوزعراء کبیر کا معاملہ مختلف ہے ، ابن حبان نے اسے ثقہ قرار دیا ہے اور دیگر لوگوں نے اسے ضعیف کہا: ہے ۔