مجمع الزوائد ومنبع الفوائد
كتاب الفتن - أعاذنا الله منها— فتنوں کے بارے میں روایات ( اللہ تعالیٰ ہمیں ان سے محفوظ رکھے )
بَابٌ فِي أَيَّامِ الصَّبْرِ وَفِيمَنْ يَتَمَسَّكُ بِدِينِهِ فِي الْفِتَنِ . باب: صبر والے دنوں کا بیان اور اس شخص کا بیان جو فتنوں کے دوران اپنے دین کو مضبوطی سے تھامے رکھتا ہے
وَعَنْ عَبْدِ اللَّهِ - يَعْنِي ابْنَ مَسْعُودٍ - قَالَ : سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَقُولُ : " لَيَأْتِيَّنَ عَلَيْكُمْ زَمَانٌ تَغْبِطُونَ فِيهِ الرَّجُلَ بِخِفَّةِ الْحَاذِ كَمَا تَغْبِطُونَهُ الْيَوْمَ بِكَثْرَةِ الْمَالِ وَالْوَلَدِ ، حَتَّى يَمُرَّ أَحَدُكُمْ بِقَبْرِ أَخِيهِ فَيَتَمَعَّكُ كَمَا تَتَمَعَّكُ الدَّابَّةُ فِي مَرَاعِيهَا وَيَقُولُ : يَا لَيْتَنِي مَكَانَكَ ، مَا بِهِ شَوْقٌ إِلَى اللَّهِ وَلَا عَمَلٍ صَالِحٍ قَدَّمَهُ إِلَّا لِمَا نَزَلَ بِهِ مِنَ الْبَلَاءِ " . رَوَاهُ الْبَزَّارُ وَالطَّبَرَانِيُّ ، وَفِيهِ عَلِيُّ بْنُ يَزِيدَ الْأَلْهَانِيُّ وَهُوَ مَتْرُوكٌ . ¤سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں ، میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے : ” عنقریب تم لوگوں پر ایسا زمانہ آئے گا کہ اس زمانے میں تم ایسے شخص پر رشک کرو گے ، جس کی ذمہ داریاں کم ہوں ، بالکل اسی طرح جس طرح آج تم ایسے شخص پر رشک کرتے ہو ، جس کا مال اور اولاد زیادہ ہوتا ہے ، یہاں تک کہ ( اس زمانے میں ) تم میں سے کوئی ایک شخص اپنے بھائی کی قبر کے پاس سے گزرے گا ، تو مٹی کے ساتھ یوں لوٹ پوٹ ہو جائے گا ، جس طرح چراگاہ میں کوئی جانور مٹی میں لوٹ پوٹ ہو جاتا ہے اور وہ شخص یہ کہے گا : اے کاش ! میں تمہاری جگہ ہوتا ، وہ شخص اللہ تعالیٰ کی بارگاہ میں حاضری کے شوق کی وجہ سے یہ بات نہیں کہے گا ، یا اس نے کوئی ایسا نیک عمل نہیں آگے بھیجا ہو گا ، جس کی وجہ وہ یہ کہے گا ، بلکہ اس پر جو آزمائش نازل ہوئی ہو گی ، اس کی وجہ سے وہ یہ بات کہے گا ۔ “
یہ روایت امام بزار نے اور امام طبرانی نے نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی علی بن یزید الہانی ہے اور وہ متروک ہے ۔