حدیث نمبر: 12215
وَعَنْ عُتْبَةَ بْنِ غَزْوَانَ - وَكَانَ مِنَ الصَّحَابَةِ - أَنَّ نَبِيَّ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ : " مِنْ وَرَائِكُمْ أَيَّامُ الصَّبْرِ ، لِلْمُتَمَسِّكِ فِيهِنَّ يَوْمَئِذٍ بِمِثْلِ مَا أَنْتُمْ عَلَيْهِ لَهُ كَأَجْرِ خَمْسِينَ مِنْكُمْ " . قَالُوا : يَا نَبِيَّ اللَّهِ ، أَوَ مِنْهُمْ ؟ قَالَ : " بَلْ مِنْكُمْ " . قَالُوا : يَا نَبِيَّ اللَّهِ ، أَوَ مِنْهُمْ ؟ قَالَ : " بَلْ مِنْكُمْ " ، ثَلَاثَ مَرَّاتٍ أَوْ أَرْبَعًا . رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ وَالْأَوْسَطِ عَنْ شَيْخِهِ بَكْرِ بْنِ سَهْلٍ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ يُوسُفَ ، وَكِلَاهُمَا قَدْ وُثِّقَ وَفِيهِمَا خِلَافٌ . ¤
محمد محی الدین

سیدنا عتبہ بن غزوان رضی اللہ عنہ ، جو صحابہ کرام میں سے ایک ہیں ، وہ بیان کرتے ہیں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” تمہارے بعد صبر والے دن آئیں گے اور ان دنوں میں دین کو مضبوطی سے تھامنے والے شخص کو تم میں سے پچاس افراد کے اجر کی مانند اجر ملے گا ، لوگوں نے عرض کی : یا رسول اللہ ! کیا وہ ( پچاس ) افراد ان میں سے ہوں گے ؟ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : جی نہیں ! بلکہ ( وہ پچاس افراد ) تم میں سے ہوں گے ، لوگوں نے عرض کی : اے اللہ کے نبی ! کیا وہ ( پچاس افراد ) ان میں سے ہوں گے ؟ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : جی نہیں ! بلکہ تم میں سے ہوں گے “ یہ مکالمہ تین یا شاید چار مرتبہ ہوا ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر اور معجم اوسط میں ، اپنے استاد بکر بن سہل کے حوالے سے عبداللہ بن یوسف سے نقل کی ہے اور ان دونوں کی توثیق کی گئی ہے اور ان دونوں کے بارے میں اختلاف پایا جاتا ہے ۔

حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الفتن - أعاذنا الله منها / حدیث: 12215
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ ضعیف
تخریج حدیث «اخرجه الطبراني فى المعجم الكبير (117/17)»