حدیث نمبر: 12214
وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " وَيْلٌ لِلْعَرَبِ مِنْ شَرٍّ قَدِ اقْتَرَبَ فِتَنًا كَقِطَعِ اللَّيْلِ الْمُظْلِمِ ، يُصْبِحُ الرَّجُلُ مُؤْمِنًا وَيُمْسِي كَافِرًا ، يَبِيعُ قَوْمٌ دِينَهُمْ بِعَرَضٍ مِنَ الدُّنْيَا قَلِيلٍ ، الْمُتَمَسِّكُ بِدِينِهِ كَالْقَابِضِ عَلَى الْجَمْرِ " . أَوْ قَالَ : " عَلَى الشَّوْكِ " ، وَفِي رِوَايَةٍ " بِخَبَطِ الشَّوْكِ " . قُلْتُ : رَوَاهُ أَبُو دَاوُدَ وَغَيْرُهُ مِنْ قَوْلِهِ : الْمُتَمَسِّكُ بِدِينِهِ إِلَى آخِرِهِ . رَوَاهُ أَحْمَدُ ، وَفِيهِ ابْنُ لَهِيعَةَ وَفِيهِ ضَعْفٌ ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ رِجَالُ الصَّحِيحِ . قُلْتُ : وَبَقِيَّةُ أَحَادِيثِ هَذَا الْبَابِ فِي بَابِ الصَّبْرِ . ¤
محمد محی الدین

سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” عربوں کے لئے اس برائی کے حوالے سے بربادی ہے ، جو قریب آ چکی ہے ، ایسے فتنے ہوں گے جو تاریک رات کے ٹکڑوں کی مانند ہوں گے ، ان میں آدمی صبح کے وقت مومن ہو گا تو شام کو کافر ہو جائے گا ، لوگ دنیاوی ساز و سامان کے عوض میں ، اپنا دین فروخت کر دیں گے ، اس وقت دین کو تھامنے والے لوگ تھوڑے ہوں گے اور دین کو تھامنے والے کی مثال یوں ہو گی ، جیسے مٹھی میں انگارہ لیا ہو ( راوی کو شک ہے ، شاید یہ الفاظ ہیں : ) کانٹے لیے ہوں ۔ “ ایک روایت میں یہ الفاظ ہیں : ” کانٹوں کی شاخ لی ہو ۔ “ ( علامہ ہیثمی فرماتے ہیں ) میں یہ کہتا ہوں
یہ روایت امام ابوداؤد اور دیگر حضرات نے نقل کی ہے ، جس میں یہ الفاظ ہیں : ” دین کو تھامنے والا شخص ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ “ ۔ اس کے بعد سے لے کر آخر تک کے الفاظ ہیں ۔
یہ روایت امام أحمد نے نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی ابن لہیعہ ہے ، اس میں ضعف پایا جاتا ہے ، اس روایت کے بقیہ رجال صحیح کے رجال ہیں ۔ ( علامہ ہیثمی فرماتے ہیں ) میں یہ کہتا ہوں اس باب سے متعلق باقی احادیث ، صبر سے متعلق باب میں آئیں گی ۔

حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الفتن - أعاذنا الله منها / حدیث: 12214
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ ضعیف
تخریج حدیث «اخرجه احمد فى المسند (390/3)»