مجمع الزوائد ومنبع الفوائد
كتاب الفتن - أعاذنا الله منها— فتنوں کے بارے میں روایات ( اللہ تعالیٰ ہمیں ان سے محفوظ رکھے )
بَابٌ فِي أَيَّامِ الصَّبْرِ وَفِيمَنْ يَتَمَسَّكُ بِدِينِهِ فِي الْفِتَنِ . باب: صبر والے دنوں کا بیان اور اس شخص کا بیان جو فتنوں کے دوران اپنے دین کو مضبوطی سے تھامے رکھتا ہے
وَعَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَسْعُودٍ قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " إِنَّ مِنْ وَرَائِكُمْ أَيَّامَ الصَّبْرِ ، الصَّبْرُ فِيهِنَّ كَقَبْضٍ عَلَى الْجَمْرِ ، لِلْعَامِلِ فِيهَا أَجْرُ خَمْسِينَ " . قَالُوا : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، أَجْرُ خَمْسِينَ مِنْهُمْ أَوْ خَمْسِينَ مِنَّا ؟ قَالَ : " خَمْسِينَ مِنْكُمْ " . رَوَاهُ الْبَزَّارُ وَالطَّبَرَانِيُّ بِنَحْوِهِ ، إِلَّا أَنَّهُ قَالَ : " لِلْمُتَمَسِّكِ أَجْرُ خَمْسِينَ شَهِيدًا " . فَقَالَ عُمَرُ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، مِنَّا أَوْ مِنْهُمْ ؟ قَالَ : " مِنْكُمْ " ، وَرِجَالُ الْبَزَّارِ رِجَالُ الصَّحِيحِ ، غَيْرُ سَهْلِ بْنِ عَامِرٍ الْبَجَلِيِّ وَثَّقَهُ ابْنُ حِبَّانَ . ¤سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” تمہارے بعد صبر والے دن آئیں گے ، اُن میں صبر کرنا ، انگارہ ہاتھ میں لینے کے مترادف ہے اور ان دنوں میں عمل کرنے والے شخص کو پچاس افراد کا اجر ملے گا ، لوگوں نے عرض کی : یا رسول اللہ ! ان میں سے پچاس افراد کا ؟ یا ہم میں سے پچاس افراد کا اجر ؟ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : تم میں سے پچاس افراد کا ( اجر ) ۔
یہ روایت امام بزار نے نقل کی ہے ، امام طبرانی نے اس کی مانند نقل کی ہے ، تاہم انہوں نے یہ الفاظ نقل کے ہیں : ” مضبوطی سے تھامے رکھنے والے کے لئے ، پچاس شہیدوں کا اجر ہو گا ، سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے عرض کی : یا رسول اللہ ! وہ ( شہید ) ہم میں سے ہوں گے ؟ یا اُن میں سے ہوں گے ؟ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : تم میں سے ۔ “
یہ روایت امام بزار نے نقل کی ہے اور اس کے رجال صحیح کے رجال ہیں ، صرف سہل بن عامر بجلی کا معاملہ مختلف ہے ، جسے ابن حبان نے ثقہ قرار دیا ہے ۔