مجمع الزوائد ومنبع الفوائد
كتاب الفتن - أعاذنا الله منها— فتنوں کے بارے میں روایات ( اللہ تعالیٰ ہمیں ان سے محفوظ رکھے )
بَابٌ فِي أَيَّامِ الصَّبْرِ وَفِيمَنْ يَتَمَسَّكُ بِدِينِهِ فِي الْفِتَنِ . باب: صبر والے دنوں کا بیان اور اس شخص کا بیان جو فتنوں کے دوران اپنے دین کو مضبوطی سے تھامے رکھتا ہے
حدیث نمبر: 12213
عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " يَا بَنِي هَاشِمٍ ، إِنَّكُمْ سَيُصِيبُكُمْ بَعْدِي جَفْوَةٌ ، فَاسْتَعِينُوا عَلَيْهَا بِأَرِقَّاءِ النَّاسِ " . رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ ، وَفِيهِ حُسَيْنُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ الْهَاشِمِيُّ ، وَقَدْ ضَعَّفَهُ الْجُمْهُورُ ، وَوَثَّقَهُ ابْنُ مَعِينٍ فِي رِوَايَةٍ وَضَعَّفَهُ فِي غَيْرِهَا ، وَرَوَاهُ الْبَزَّارُ بِاخْتِصَارٍ . ¤محمد محی الدین
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما روایت کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” اے بنو ہاشم ! عنقریب تمہیں میرے بعد زیادتی کا سامنا کرنا پڑے گا ، تو اس کے حوالے سے تم کمزور لوگوں سے مدد حاصل کرنا ۔ “
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی حسین بن عبداللہ ہاشمی ہے ، جسے جمہور نے ضعیف قرار دیا ہے ، ایک روایت کے مطابق یحیی بن معین نے اسے ثقہ کہا: ہے اور دوسری روایت کے مطابق انہوں نے اسے ضعیف کہا: ہے اس روایت کو امام بزار نے اختصار کے ساتھ نقل کیا ہے ۔