حدیث نمبر: 12186
عَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " لَا يَزَالُ أَهْلُ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ بِخَيْرٍ مَا بَالُوا مَا انْتُقِصَ مِنْ أَمْرِ دِينِهِمْ فِي صَلَاحِ دُنْيَاهُمْ ، فَإِذَا لَمْ يُبَالُوا مَا انْتُقِصَ مِنْ أَمْرِ دِينِهِمْ فِي صَلَاحِ دُنْيَاهُمْ رُدَّتْ عَلَيْهِمْ وَقِيلَ لَهُمْ : لَسْتُمْ بِصَادِقِينَ " . رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ ، وَفِيهِ عَمْرُو بْنُ عَبْدِ الْغَفَّارِ وَهُوَ مَتْرُوكٌ . ¤
محمد محی الدین

سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” لا اله الا الله کے ماننے والے مسلسل بھلائی پر گامزن رہیں گے ، جب تک وہ اس چیز کا خیال رکھیں گے کہ ان کے دنیاوی معاملات ان کے دین میں کوئی کمی تو نہیں کر رہے ، اور جب وہ اس بات کی پرواہ نہیں کریں گے کہ ان کی دنیا کی بہتری کی وجہ سے ، ان کے دین میں کیا کمی ہو رہی ہے ؟ تو پھر انہیں لوٹا دیا جائے گا ( یا مسترد کر دیا جائے گا ) اور یہ کہا: جائے گا : تم لوگ بچے نہیں تھے ۔ “
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی عمرو بن عبدالغفار ہے اور وہ متروک ہے ۔

حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الفتن - أعاذنا الله منها / حدیث: 12186
درجۂ حدیث محدثین: ضعیف جداً