حدیث نمبر: 12187
وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " لَا تَزَالُ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ تَدْفَعُ عَنْ قَائِلِهَا مَا بَالَى قَائِلُوهَا مَا أَصَابَهُمْ فِي دُنْيَاهُمْ إِذَا سَلِمَ لَهُمْ دِينُهُمْ ، فَإِذَا لَمْ يُبَالِ قَائِلُوهَا مَا أَصَابَهُمْ فِي دِينِهِمْ بِسَلَامَةِ دُنْيَاهُمْ فَقَالُوا : لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ ، قِيلَ لَهُمْ : كَذَبْتُمْ " . رَوَاهُ الْبَزَّارُ ، وَفِيهِ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ عَجْلَانَ وَهُوَ ضَعِيفٌ جِدًّا . ¤
محمد محی الدین

سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” لا اله الا الله اپنے پڑھنے والے سے مسلسل ( عذاب یا ناراضگی ) کو پرے کرتا رہے گا ، جب تک اس کو پڑھنے والے اس چیز کا خیال رکھیں گے کہ انہیں جو دنیا نصیب ہو رہی ہے ، اس کے حوالے سے ان کا دین سلامت ہے ؟ لیکن جب اس کلمے کو پڑھنے والے ، اس بات کی پرواہ نہیں کریں گے کہ ان کی دنیا کی سلامتی کی وجہ سے ، اُن کے دین کا کتنا نقصان ہو رہا ہے ؟ اور پھر بھی وہ لا الہ الا اللہ پڑھیں گے ، تو ان سے کہا: جائے گا : تم غلط بیانی کر رہے ہو ۔ “
یہ روایت امام بزار نے نقل کی ہے اس کی سند میں ایک راوی عبداللہ بن محمد بن عجلان ہے اور وہ انتہائی ضعیف ہے ۔

حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الفتن - أعاذنا الله منها / حدیث: 12187
درجۂ حدیث محدثین: ضعیف جداً
تخریج حدیث «اخرجه البزار فى المسند (3619)»