کتب حدیث ›
مجمع الزوائد ومنبع الفوائد › ابواب
› باب: ان لوگوں کا بیان کہ جن کی دنیا ٹھیک ہو گی ، تو وہ دین کی پرواہ نہیں کریں گے
حدیث نمبر: 12186
عَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " لَا يَزَالُ أَهْلُ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ بِخَيْرٍ مَا بَالُوا مَا انْتُقِصَ مِنْ أَمْرِ دِينِهِمْ فِي صَلَاحِ دُنْيَاهُمْ ، فَإِذَا لَمْ يُبَالُوا مَا انْتُقِصَ مِنْ أَمْرِ دِينِهِمْ فِي صَلَاحِ دُنْيَاهُمْ رُدَّتْ عَلَيْهِمْ وَقِيلَ لَهُمْ : لَسْتُمْ بِصَادِقِينَ " . رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ ، وَفِيهِ عَمْرُو بْنُ عَبْدِ الْغَفَّارِ وَهُوَ مَتْرُوكٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” لا اله الا الله کے ماننے والے مسلسل بھلائی پر گامزن رہیں گے ، جب تک وہ اس چیز کا خیال رکھیں گے کہ ان کے دنیاوی معاملات ان کے دین میں کوئی کمی تو نہیں کر رہے ، اور جب وہ اس بات کی پرواہ نہیں کریں گے کہ ان کی دنیا کی بہتری کی وجہ سے ، ان کے دین میں کیا کمی ہو رہی ہے ؟ تو پھر انہیں لوٹا دیا جائے گا ( یا مسترد کر دیا جائے گا ) اور یہ کہا: جائے گا : تم لوگ بچے نہیں تھے ۔ “
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی عمرو بن عبدالغفار ہے اور وہ متروک ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی عمرو بن عبدالغفار ہے اور وہ متروک ہے ۔
حدیث نمبر: 12187
وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " لَا تَزَالُ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ تَدْفَعُ عَنْ قَائِلِهَا مَا بَالَى قَائِلُوهَا مَا أَصَابَهُمْ فِي دُنْيَاهُمْ إِذَا سَلِمَ لَهُمْ دِينُهُمْ ، فَإِذَا لَمْ يُبَالِ قَائِلُوهَا مَا أَصَابَهُمْ فِي دِينِهِمْ بِسَلَامَةِ دُنْيَاهُمْ فَقَالُوا : لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ ، قِيلَ لَهُمْ : كَذَبْتُمْ " . رَوَاهُ الْبَزَّارُ ، وَفِيهِ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ عَجْلَانَ وَهُوَ ضَعِيفٌ جِدًّا . ¤
محمد محی الدین
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” لا اله الا الله اپنے پڑھنے والے سے مسلسل ( عذاب یا ناراضگی ) کو پرے کرتا رہے گا ، جب تک اس کو پڑھنے والے اس چیز کا خیال رکھیں گے کہ انہیں جو دنیا نصیب ہو رہی ہے ، اس کے حوالے سے ان کا دین سلامت ہے ؟ لیکن جب اس کلمے کو پڑھنے والے ، اس بات کی پرواہ نہیں کریں گے کہ ان کی دنیا کی سلامتی کی وجہ سے ، اُن کے دین کا کتنا نقصان ہو رہا ہے ؟ اور پھر بھی وہ لا الہ الا اللہ پڑھیں گے ، تو ان سے کہا: جائے گا : تم غلط بیانی کر رہے ہو ۔ “
یہ روایت امام بزار نے نقل کی ہے اس کی سند میں ایک راوی عبداللہ بن محمد بن عجلان ہے اور وہ انتہائی ضعیف ہے ۔
یہ روایت امام بزار نے نقل کی ہے اس کی سند میں ایک راوی عبداللہ بن محمد بن عجلان ہے اور وہ انتہائی ضعیف ہے ۔
حدیث نمبر: 12188
وَعَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ تَمْنَعُ الْعَبْدَ مِنْ سُخْطِ اللَّهِ ، مَا لَمْ يُؤْثِرُوا سَفْقَةَ دُنْيَاهُمْ عَلَى دِينِهِمْ ، فَإِذَا فَعَلُوا ذَلِكَ ثُمَّ قَالُوا : لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ ، قَالَ اللَّهُ : كَذَبْتُمْ " . رَوَاهُ الْبَزَّارُ ، وَإِسْنَادُهُ حَسَنٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” لا اله الا اللہ بندے کو اللہ تعالیٰ کی ناراضگی سے روکے رکھتا ہے ، جب تک بندہ اپنے دنیاوی سودوں کو اپنے دین پر ترجیح نہیں دیتا ، جب وہ ایسا کر لے اور پھر وہ لا الہ الا اللہ پڑھے ، تو اللہ تعالیٰ فرماتا ہے : تم نے غلط بیانی کی ہے ۔ “
یہ روایت امام ابویعلیٰ نے نقل کی ہے اور اس کی سند حسن ہے ۔
یہ روایت امام ابویعلیٰ نے نقل کی ہے اور اس کی سند حسن ہے ۔