مجمع الزوائد ومنبع الفوائد
كتاب الفتن - أعاذنا الله منها— فتنوں کے بارے میں روایات ( اللہ تعالیٰ ہمیں ان سے محفوظ رکھے )
بَابُ الْإِنْكَارِ بِالْقَلْبِ . باب: دل کے ذریعے انکار کرنا
وَعَنْهُ قَالَ : إِذَا رَأَيْتَ الْفَاجِرَ فَلَمْ تَسْتَطِعْ أَنْ تُغَيِّرَ عَلَيْهِ فَاكْفَهِرَّ فِي وَجْهِهِ . رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ بِإِسْنَادَيْنِ ، فِي أَحَدِهِمَا شَرِيكٌ وَهُوَ حَسَنُ الْحَدِيثِ ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ رِجَالُ الصَّحِيحِ . قُلْتُ : وَيَأْتِي حَدِيثٌ فِيمَنْ غَابَ عَنْ أَمْرٍ وَرَضِيَ بِهِ وَمِنْ شَهِدَهُ فَكَرِهَهُ . ¤ان کے حوالے سے یہ بات منقول ہے : وہ فرماتے ہیں : جب تم کسی گنہگار شخص کو دیکھو اور تم اس ( کے عمل ) کو ختم کرنے کی استطاعت نہ رکھتے ہو ، تو تم ماتھے پر بل ڈال کر اُس ( شخص ) کا سامنا کرو ۔
یہ روایت امام طبرانی نے دو اسناد کے ساتھ نقل کی ہے ، جن میں سے ایک سند میں ایک راوی شریک ہے اور وہ حسن الحدیث ہے ، اس روایت کے بقیہ رجال صحیح کے رجال ہیں ۔ ( علامہ ہیثمی فرماتے ہیں ) میں یہ کہتا ہوں : آگے چل کے اس شخص کے بارے میں حدیث آئے گی ، جو کسی معاملے کے پاس موجود نہیں ہوتا ، لیکن اس سے راضی ہوتا ہے اور جو شخص اس معاملے کے پاس موجود ہوتا ہے ، لیکن اُس کو ناپسند کرتا ہے ۔