حدیث نمبر: 12171
عَنْ عُبَادَةَ بْنِ الصَّامِتِ قَالَ : سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَقُولُ : " إِنَّهَا سَتَكُونُ فِتَنٌ لَا يَسْتَطِيعُ الْمُؤْمِنُ أَنْ يُغَيِّرَ فِيهَا بِيَدٍ وَلَا بِلِسَانٍ " . فَقَالَ عَلِيُّ بْنُ أَبِي طَالِبٍ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، هَلْ يَنْقُصُ ذَلِكَ مِنْ إِيمَانِهِمْ شَيْئًا ؟ قَالَ : " لَا ، إِلَّا كَمَا يَنْقُصُ الْقَطْرُ مِنَ السِّقَاءِ " . قَالَ : وَلِمَ ذَلِكَ ؟ قَالَ : " يَكْرَهُونَهُ بِقُلُوبِهِمْ " . رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ وَالْأَوْسَطِ ، وَفِيهِ طَلْحَةُ بْنُ زَيْدٍ الْقُرَشِيُّ وَهُوَ ضَعِيفٌ جِدًّا . ¤
محمد محی الدین

سیدنا عبادہ بن صامت رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے : ” عنقریب ایسے فتنے آئیں گے کہ مومن اُن میں ہاتھ یا زبان کے ذریعے ( منکر کو ) ختم کرنے کی استطاعت نہیں رکھے گا ، سیدنا علی بن ابوطالب رضی اللہ عنہ نے عرض کی : یا رسول اللہ ! کیا اس وجہ سے ان لوگوں کے ایمان میں کوئی کمی ہو گی ؟ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : جی نہیں ! صرف اتنی ہو گی ، جتنی ( ایک ) قطرہ ، مشکیزہ میں کمی کرتا ہے ، سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے دریافت کیا : اس کی وجہ کیا ہے ؟ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : وہ لوگ اُس ( منکر ) کو دل میں ناپسند کرتے ہوں گے ۔ “
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر اور معجم اوسط میں نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی طلحہ بن زید قرشی ہے اور وہ انتہائی ضعیف ہے ۔

حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الفتن - أعاذنا الله منها / حدیث: 12171
درجۂ حدیث محدثین: ضعیف جداً