حدیث نمبر: 12172
وَعَنْ عُبَادَةَ بْنِ الصَّامِتِ قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " كَيْفَ أَنْتَ إِذَا كُنْتَ فِي حُثَالَةٍ مِنَ النَّاسِ وَاخْتَلَفُوا حَتَّى يَكُونُوا هَكَذَا " وَشَبَّكَ بَيْنَ أَصَابِعِهِ ؟ قَالَ : اللَّهُ وَرَسُولُهُ أَعْلَمُ . قَالَ : " خُذْ مَا تَعْرِفُ وَدَعْ مَا تُنْكِرُ " . رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ ، وَفِيهِ مَنْ لَمْ أَعْرِفْهُ ، وَزِيَادُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ الْبَكَّائِيُّ وَثَّقَهُ ابْنُ حِبَّانَ وَضَعَّفَهُ جَمَاعَةٌ . ¤
محمد محی الدین

سیدنا عبادہ بن صامت رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” اس وقت تمہارا کیا عالم ہو گا ؟ جب تم ردّی لوگوں میں رہ جاؤ گے ، جو اختلاف کریں گے یہاں تک کہ وہ اس طرح ہو جائیں گے ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی انگلیاں ایک دوسرے میں داخل کر کے یہ بات ارشاد فرمائی ، سیدنا عبادہ رضی اللہ عنہ نے عرض کی : اللہ اور اس کا رسول زیادہ بہتر جانتے ہیں ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” تم اس چیز کو لے لینا ، جسے تم نیکی سجھو اور اسے چھوڑ دینا ، جسے تم برائی سمجھو ۔ “
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے اس کی سند میں ایسا راوی ہے جس سے میں واقف نہیں ہوں اور ایک راوی زیاد بن عبدالله بکائی ہے ، جسے ابن حبان نے ثقہ قرار دیا ہے اور ایک جماعت نے اسے ضعیف کہا: ہے ۔

حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الفتن - أعاذنا الله منها / حدیث: 12172
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ ضعیف