مجمع الزوائد ومنبع الفوائد
كتاب الفتن - أعاذنا الله منها— فتنوں کے بارے میں روایات ( اللہ تعالیٰ ہمیں ان سے محفوظ رکھے )
بَابٌ فِي الْأَمْرِ بِالْمَعْرُوفِ وَالنَّهْيِ عَنِ الْمُنْكَرِ وَفِيمَنْ لَا تَأْخُذُهُ فِي اللَّهِ لَوْمَةُ لَائِمٍ . باب: نیکی کا حکم دینے برائی سے منع کرنے کا بیان
وَعَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ : دَخَلَ عَلَيَّ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَعَرَفْتُ فِي وَجْهِهِ أَنَّهُ قَدْ حَفَزَهُ شَيْءٌ ، فَتَوَضَّأَ ثُمَّ خَرَجَ فَلَمْ يُكَلِّمْ أَحَدًا . فَدَنَوْتُ مِنَ الْحُجُرَاتِ ، فَسَمِعْتُهُ يَقُولُ : " يَا أَيُّهَا النَّاسُ ، إِنَّ اللَّهَ يَقُولُ : مُرُوا بِالْمَعْرُوفِ وَانْهَوْا عَنِ الْمُنْكَرِ مِنْ قَبْلِ أَنْ تَدْعُوَنِي فَلَا أُجِيبُكُمْ وَتَسَلُونِي فَلَا أُعْطِيكُمْ وَتَسْتَنْصِرُونِي فَلَا أَنْصُرُكُمْ " . قُلْتُ : رَوَى ابْنُ مَاجَهْ بَعْضَهُ . رَوَاهُ أَحْمَدُ وَالْبَزَّارُ ، وَفِيهِ عَاصِمُ بْنُ عُمَرَ أَحَدُ الْمَجَاهِيلِ . ¤سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم میرے پاس تشریف لائے ، آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے چہرے سے مجھے اندازہ ہو گیا کہ آپ کو کوئی ناگوار صورت حال پیش آئی ہے ، آپ نے وضو کیا اور آپ نے کسی کے ساتھ بات چیت نہیں کی ، میں حجروں کے قریب ہوئی تو میں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا : ” اے لوگو ! بے شک اللہ تعالیٰ نے یہ ارشاد فرمایا ہے ، کہ تم لوگ نیکی کا حکم دو اور تم برائی سے منع کرو ، اس سے پہلے کہ تم لوگ مجھ سے دعا کرو اور میں تمہاری دعا قبول نہ کروں ، تم لوگ مجھ سے مانگو ، تو میں تمہیں عطا نہ کروں ، تم لوگ مجھ سے مدد مانگو ، تو میں تمہاری مدد نہ کروں ۔ “ ( علامہ ہیثمی فرماتے ہیں ) میں یہ کہتا ہوں : امام ابن ماجہ نے اس روایت کا کچھ حصہ نقل کیا ہے ۔
یہ روایت امام أحمد اور امام بزار نے نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی عاصم بن عمر ہے ، جو مجہول راویوں میں سے ایک ہے ۔