حدیث نمبر: 12131
وَعَنْ أَبِي جَعْفَرٍ الْخَطْمِيِّ أَنَّ جَدَّهُ عُمَيْرَ بْنَ حَبِيبِ بْنِ حَمَاشَةَ ، وَكَانَ قَدْ أَدْرَكَ النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - عِنْدَ احْتِلَامِهِ ، أَوْصَى وَلَدَهُ فَقَالَ : يَا بُنَيَّ ، إِيَّاكَ وَمُجَالَسَةَ السُّفَهَاءِ ، فَإِنَّ مُجَالَسَتَهُمْ دَاءٌ ، وَمَنْ يَحْلُمْ عَنِ السَّفِيهِ يُسَرُّ ، وَمَنْ يُجِبْهُ يَنْدَمْ ، وَمَنْ لَا يَرْضَى بِالْقَلِيلِ مِمَّا يَأْتِي بِهِ السَّفِيهُ يَرْضَى بِالْكَثِيرِ ، وَإِذَا أَرَادَ أَحَدُكُمْ أَنْ يَأْمُرَ بِالْمَعْرُوفِ أَوْ يَنْهَى عَنِ الْمُنْكَرِ فَلْيُوَطِّنْ نَفْسَهُ عَلَى الصَّبْرِ عَلَى الْأَذَى وَيَثِقْ بِالثَّوَابِ مِنَ اللَّهِ - تَعَالَى - فَإِنَّهُ مَنْ وَثِقَ بِالثَّوَابِ مِنَ اللَّهِ - عَزَّ وَجَلَّ - لَمْ يَضُرَّهُ مَسُّ الْأَذَى . رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ ، وَرِجَالُهُ ثِقَاتٌ . ¤
محمد محی الدین

ابوجعفر خطمی بیان کرتے ہیں : ان کے دادا سیدنا عمیر بن حبیب بن حماشہ رضی اللہ عنہ ، جنہوں نے بلوغت کے وقت نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا زمانہ پایا ہے ، اُنہوں نے اپنے بیٹے کو تلقین کی اور یہ کہا: ” اے میرے بیٹے ! تم بے وقوف لوگوں کی ہمنشینی سے بچ کے رہنا ، کیونکہ ان کی ہمنشینی ، بیماری ہوتی ہے اور جو شخص بے وقوف شخص کے حوالے سے بردباری اختیار کرے ، وہ ٹھیک رہتا ہے ، جو شخص اُسے جواب دے وہ ندامت کا شکار ہوتا ہے ، اور جو شخص بے وقوف کی لائی ہوئی تھوڑی چیز سے راضی نہیں ہوتا ، وہ زیادہ سے راضی ہو جاتا ہے ، اور جب تم میں سے کوئی شخص نیکی کا حکم دے یا برائی سے منع کرے ، تو اپنے آپ کو تکلیف دہ چیز پر صبر کرنے کے لئے تیار کرے ، اور اللہ تعالیٰ کی طرف سے ملنے والے ثواب کی توقع رکھے ، کیونکہ جو شخص اللہ تعالیٰ کی طرف سے ملنے والے ثواب پر یقین رکھے گا ، تو تکلیف کا پہنچنا اُسے نقصان نہیں دے گا ۔ “
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے اور اس کے رجال ثقہ ہیں ۔

حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الفتن - أعاذنا الله منها / حدیث: 12131
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ صحیح