مجمع الزوائد ومنبع الفوائد
كتاب الفتن - أعاذنا الله منها— فتنوں کے بارے میں روایات ( اللہ تعالیٰ ہمیں ان سے محفوظ رکھے )
بَابٌ فِي أَهْلِ الْمَعْرُوفِ وَأَهْلِ الْمُنْكَرِ . باب: نیکی والوں اور برائی والوں کا بیان
وَعَنْ قَبِيصَةَ بْنِ بُرْمَةَ الْأَسَدِيِّ قَالَ : كُنْتُ جَالِسًا عِنْدَ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَسَمِعْتُهُ يَقُولُ : " أَهْلُ الْمَعْرُوفِ فِي الدُّنْيَا أَهْلُ الْمَعْرُوفِ فِي الْآخِرَةِ ، وَأَهْلُ الْمُنْكَرِ فِي الدُّنْيَا أَهْلُ الْمُنْكَرِ فِي الْآخِرَةِ " . رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ وَالْبَزَّارُ ، وَفِيهِ عَلِيُّ بْنُ أَبِي هَاشِمٍ ، قَالَ أَبُو حَاتِمٍ : هُوَ صَدُوقٌ ، إِلَّا أَنَّهُ تَرَكَ حَدِيثَهُ مِنْ أَجْلِ أَنَّهُ يَتَوَقَّفُ فِي الْقُرْآنِ ، وَفِيهِ مَنْ لَمْ أَعْرِفْهُ . ¤سیدنا قبیصہ بن برمہ اسدی رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : ایک دن میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس بیٹھا ہوا تھا ، میں نے آپ کو یہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا : ” دنیا میں نیکیاں کرنے والے ، آخرت میں نیکیاں کرنے والے ہوں گے اور دنیا میں برائیاں کرنے والے ، آخرت میں برائیوں والے ہوں گے ۔ “
یہ روایت امام طبرانی نے اور امام بزار نے نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی علی بن ابوہاشم ہے ، ابوحاتم کہتے ہیں : یہ صدوق ہے ، البتہ اس کی حدیث کو اس لئے متروک قرار دیا گیا ، کیونکہ یہ قرآن کے بارے میں تؤقف سے کام لیتا تھا ، اس روایت کی سند میں ایسا راوی بھی ہے ، جس سے میں واقف نہیں ہوں ۔