مجمع الزوائد ومنبع الفوائد
كتاب الفتن - أعاذنا الله منها— فتنوں کے بارے میں روایات ( اللہ تعالیٰ ہمیں ان سے محفوظ رکھے )
بَابٌ فِي أَهْلِ الْمَعْرُوفِ وَأَهْلِ الْمُنْكَرِ . باب: نیکی والوں اور برائی والوں کا بیان
وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " أَهْلُ الْمَعْرُوفِ فِي الدُّنْيَا أَهْلُ الْمَعْرُوفِ فِي الْآخِرَةِ ، وَأَهْلُ الْمُنْكَرِ فِي الدُّنْيَا أَهْلُ الْمُنْكَرِ فِي الْآخِرَةِ " . رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الصَّغِيرِ وَالْأَوْسَطِ بِإِسْنَادَيْنِ ، فِي أَحَدِهِمَا يَحْيَى بْنُ خَالِدِ بْنِ حَيَّانَ الرَّقِّيُّ ، وَلَمْ أَعْرِفْهُ وَلَا وَلَدَهُ أَحْمَدَ ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ رِجَالُ الصَّحِيحِ ، وَفِي الْأَخِيرِ الْمُسَيَّبِ بْنُ وَاضِحٍ ، قَالَ أَبُو حَاتِمٍ : يُخْطِئُ كَثِيرًا ، فَإِذَا قِيلَ لَهُ لَمْ يَرْجِعْ . ¤سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” دنیا میں نیکیوں والے ، آخرت میں نیکیوں والے ہوں گے اور دنیا میں برائیوں والے ، آخرت میں برائیوں والے ہوں گے ۔ “
یہ روایت امام طبرانی نے معجم صغیر اور معجم اوسط میں دو اسناد کے ساتھ نقل کی ہے ، جن میں سے ایک سند میں ایک راوی یحیی بن خالد بن حیان رقی ہے اور میں اس سے واقف نہیں ہوں اور نہ ہی اس کے بیٹے أحمد سے واقف ہوں ، اس روایت کے بقیہ رجال صحیح کے رجال ہیں ، دوسری روایت میں ایک راوی مسیب بن واضح ہے ، ابوحاتم کہتے ہیں : یہ بہت زیادہ غلطی کرتا ہے اور جب اس کو غلطی پر تنبیہ کی جائے ، تو یہ رجوع نہیں کرتا ہے ۔