حدیث نمبر: 12111
عَنْ أَبِي مُوسَى قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " وَالَّذِي نَفْسُ مُحَمَّدٍ بِيَدِهِ ، إِنَّ الْمَعْرُوفَ وَالْمُنْكَرَ لَخَلِيقَتَانِ يُنْصَبَانِ لِلنَّاسِ يَوْمَ الْقِيَامَةِ . فَأَمَّا الْمَعْرُوفُ فَيُبَشِّرُ أَصْحَابَهُ وَيُوعِدُهُمُ الْخَيْرَ . وَأَمَّا الْمُنْكَرُ فَيَقُولُ : إِلَيْكُمْ إِلَيْكُمْ ، وَمَا يَسْتَطِيعُونَ لَهُ إِلَّا لُزُومًا " . رَوَاهُ أَحْمَدُ وَالْبَزَّارُ ، وَرِجَالُهُمَا رِجَالُ الصَّحِيحِ ، وَرَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ . ¤
محمد محی الدین

سیدنا ابوموسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” اس ذات کی قسم ! جس کے دست قدرت میں محمد کی جان ہے ، نیکی اور برائی دو قسم کی مخلوق ہیں ، جنہیں لوگوں کے لئے قیامت کے دن نصب کیا جائے گا ، جہاں تک نیکی کا تعلق ہے ، تو وہ اپنے متعلقہ افراد کو خوشخبری دے گی اور ان کے ساتھ بھلائی کا وعدہ کرے گی ، اور جہاں تک برائی کا تعلق ہے ، تو وہ یہ کہے گی : تم خود کو سنبھالو ! تم خود کو سنبھالو ! اور وہ لوگ اس کے ساتھ ہی چمٹے رہیں گے ۔ “
یہ روایت امام أحمد اور امام بزار نے نقل کی ہے اور ان دونوں کے رجال صحیح کے رجال ہیں ، یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ۔

حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الفتن - أعاذنا الله منها / حدیث: 12111
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ صحیح
تخریج حدیث «اخرجه البزار فى المسند (3296) اخرجه احمد فى المسند (391/4)»