مجمع الزوائد ومنبع الفوائد
كتاب الفتن - أعاذنا الله منها— فتنوں کے بارے میں روایات ( اللہ تعالیٰ ہمیں ان سے محفوظ رکھے )
بَابُ افْتِرَاقِ الْأُمَمِ وَاتِّبَاعِ سُنَنِ مَنْ مَضَى . باب: ( اس امت کا ) مختلف گروہوں مین تقسیم ہونا اور پہلے ( کے امتوں ) کے طریقوں کی پیروی کرنا
حدیث نمبر: 12102
وَفِي رِوَايَةٍ : " فِرْقَةٌ أَقَامَتْ فِي الْمُلُوكِ وَالْجَبَابِرَةِ فَدَعَتْ إِلَى دِينِ عِيسَى ، فَأُخِذَتْ وَقُتِلَتْ بِالْمَنَاشِيرِ وَحُرِّقَتْ بِالنِّيرَانِ ، فَصَبَرَتْ حَتَّى لَحِقَتْ بِاللَّهِ " ، وَالْبَاقِي بِنَحْوِهِ . رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ بِإِسْنَادَيْنِ ، وَرِجَالُ أَحَدِهِمَا رِجَالُ الصَّحِيحِ ، غَيْرَ بُكَيْرِ بْنِ مَعْرُوفٍ ، وَثَّقَهُ أَحْمَدُ وَغَيْرُهُ وَفِيهِ ضَعْفٌ . ¤محمد محی الدین
ایک روایت میں یہ الفاظ ہیں : ” ایک گروہ بادشاہوں اور ظالم لوگوں کے درمیان مقیم ہوا ، اور سیدنا عیسیٰ علیہ السلام کے دین کی طرف دعوت دینے لگا ، اُن لوگوں کو پکڑا گیا اور آروں کے ذریعے کاٹ دیا گیا اور آگ میں جلا دیا گیا ، تو ان لوگوں نے صبر سے کام لیا ، یہاں تک کہ وہ اللہ کی بارگاہ میں حاضر ہو گئے ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ “ ۔ باقی روایت حسب سابق ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے دو اسناد کے ساتھ نقل کی ہے ، جن میں سے ایک کے رجال صحیح کے رجال ہیں ، صرف بکیر بن معروف کا معاملہ مختلف ہے ، جسے امام أحمد اور دیگر حضرات نے ثقہ قرار دیا ہے اور اس میں ضعف پایا جاتا ہے ۔