مجمع الزوائد ومنبع الفوائد
كتاب الفتن - أعاذنا الله منها— فتنوں کے بارے میں روایات ( اللہ تعالیٰ ہمیں ان سے محفوظ رکھے )
بَابٌ مِنْهُ فِي اتِّبَاعِ سُنَنِ مَنْ مَضَى . باب: پہلے لوگوں کے طریقوں کی پیروی کرنا
عَنْ سَهْلِ بْنِ سَعْدٍ الْأَنْصَارِيِّ عَنِ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ : " وَالَّذِي نَفْسِي بِيَدِهِ لَتَرْكَبُنَّ سُنَنَ مَنْ كَانَ قَبْلَكُمْ مِثْلًا بِمِثْلٍ " . رَوَاهُ أَحْمَدُ وَالطَّبَرَانِيُّ بِنَحْوِهِ ، وَزَادَ : " حَتَّى لَوْ دَخَلُوا جُحْرَ ضَبٍّ لَاتَّبَعْتُمُوهُ " . قُلْنَا : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، الْيَهُودُ وَالنَّصَارَى ؟ قَالَ : " فَمَنْ إِلَّا الْيَهُودَ وَالنَّصَارَى " ; وَفِي إِسْنَادِ أَحْمَدَ ابْنُ لَهِيعَةَ ، وَفِيهِ ضَعْفٌ ، وَفِي إِسْنَادِ الطَّبَرَانِيِّ يَحْيَى بْنُ عُثْمَانَ عَنْ أَبِي حَازِمٍ ، وَلَمْ أَعْرِفْهُ ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِمَا ثِقَاتٌ . ¤سیدنا سہل بن سعد انصاری رضی اللہ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں : ” اس ذات کی قسم ! جس کے دست قدرت میں میری جان ہے ، تم اپنے پہلے کے لوگوں کی بالکل برابر ضرور پیروی کرو گے ۔ “
یہ روایت امام أحمد نے نقل کی ہے ، امام طبرانی نے اس کی مانند نقل کی ہے اور یہ الفاظ زائد نقل کئے ہیں : ” یہاں تک کہ اگر وہ لوگ گوہ کے بل میں داخل ہوئے تھے ، تو تم ان کی پیروی کرو گے ، لوگوں نے عرض کی : یا رسول اللہ ! کیا ( پہلے لوگوں سے مراد ) یہودی اور عیسائی ہیں ؟ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : یہودیوں اور عیسائیوں کے علاوہ اور کون ہوں گے ؟ “ ۔ امام أحمد کی سند میں ایک راوی ابن لہیعہ ہے ، اس میں ضعف پایا جاتا ہے ، امام طبرانی کی سند میں ایک راوی یحیی بن عثمان ہے جس نے ابوحازم کے حوالے سے یہ روایت نقل کی ہے ، میں اُس سے واقف نہیں ہوں ، ان دونوں روایات کے بقیہ رجال ثقہ ہیں ۔