حدیث نمبر: 12101
وَعَنِ ابْنِ مَسْعُودٍ قَالَ : دَخَلَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَقَالَ : " يَا ابْنَ مَسْعُودٍ " . فَقُلْتُ : لَبَّيْكَ يَا رَسُولَ اللَّهِ - قَالَهَا ثَلَاثًا - . قَالَ : " تَدْرِي أَيُّ النَّاسِ أَفْضَلُ ؟ " . قُلْتُ : اللَّهُ وَرَسُولُهُ أَعْلَمُ . قَالَ : " فَإِنَّ أَفْضَلَ النَّاسِ أَفْضَلُهُمْ عَمَلًا إِذَا فَقِهُوا فِي دِينِهِمْ " . ثُمَّ قَالَ : " يَا ابْنَ مَسْعُودٍ " . قُلْتُ : لَبَّيْكَ يَا رَسُولَ اللَّهِ . قَالَ : " تَدْرِي أَيُّ النَّاسِ أَعْلَمُ ؟ " . قُلْتُ : اللَّهُ وَرَسُولُهُ أَعْلَمُ . قَالَ : " إِنَّ أَعْلَمَ النَّاسِ أَبْصَرُهُمْ بِالْحَقِّ إِذَا اخْتَلَفَ النَّاسُ ، وَإِنْ كَانَ مُقَصِّرًا فِي الْعَمَلِ ، وَإِنْ كَانَ يَزْحَفُ عَلَى اسْتِهِ زَحْفًا . وَاخْتَلَفَ مَنْ كَانَ قَبْلِي عَلَى ثِنْتَيْنِ وَسَبْعِينَ فِرْقَةً ، نَجَا مِنْهَا ثَلَاثَةٌ وَهَلَكَ سَائِرُهُنَّ ، فِرْقَةٌ وَازَتِ الْمُلُوكَ وَقَاتَلُوهُمْ عَلَى دِينِهِمْ وَدِينِ عِيسَى ابْنِ مَرْيَمَ ، وَأَخَذُوهُمْ وَقَتَلُوهُمْ وَقَطَّعُوهُمْ بِالْمَنَاشِيرِ . وَفِرْقَةٌ لَمْ يَكُنْ لَهُمْ طَاقَةٌ بِمُوَازَاةِ الْمُلُوكِ وَلَا بِأَنْ يُقِيمُوا بَيْنَ ظَهْرَانَيْهِمْ فَيَدْعُوهُمْ إِلَى اللَّهِ وَدِينِ عِيسَى ابْنِ مَرْيَمَ فَسَاحُوا فِي الْبِلَادِ وَتَرَهَّبُوا " . قَالَ : " وَهُمُ الَّذِينَ قَالَ اللَّهُ - عَزَّ وَجَلَّ - : " رَهْبَانِيَّةً ابْتَدَعُوهَا مَا كَتَبْنَاهَا عَلَيْهِمْ إِلَّا ابْتِغَاءَ رِضْوَانِ اللَّهِ " الْآيَةَ . فَقَالَ النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " مَنْ آمَنَ بِي وَصَدَّقَنِي وَاتَّبَعَنِي فَقَدْ رَعَاهَا حَقَّ رِعَايَتِهَا ، وَمَنْ لَمْ يَتَّبِعْنِي فَأُولَئِكَ هُمُ الْهَالِكُونَ " ،
محمد محی الدین

سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم تشریف لائے ، آپ نے فرمایا : ابن مسعود ! میں نے عرض کی : یا رسول اللہ ! میں حاضر ہوں ، یہ بات آپ نے تین مرتبہ دریافت کی : پھر آپ نے فرمایا : کیا تم جانتے ہو ؟ لوگوں میں سب سے زیادہ فضیلت رکھنے والا کون ہے ؟ میں نے عرض کی : اللہ اور اس کا رسول زیادہ بہتر جانتے ہیں ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : لوگوں میں سب سے زیادہ فضیلت رکھنے والا شخص وہ ہے ، جو عمل کے اعتبار سے سب سے زیادہ فضیلت رکھتا ہو ، جبکہ وہ لوگ دین کا علم رکھتے ہوں ، پھر آپ نے ارشاد فرمایا : اے ابن مسعود ! میں نے عرض کی : یا رسول اللہ ! میں حاضر ہوں ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : کیا تم جانتے ہو ؟ لوگوں میں سب سے زیادہ علم رکھنے والا کون ہے ؟ میں نے عرض کی : اللہ اور اس کا رسول زیادہ بہتر جانتے ہیں ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : لوگوں میں سب سے زیادہ علم رکھنے والا شخص اور حق کے بارے میں ان میں سب سے زیادہ بصیرت رکھنے والا شخص وہ ہے ، جو لوگوں کے اختلاف کے وقت ایسا کرتا ہوا ، اگرچہ اس کے عمل میں کمی پائی جاتی ہو ، اگرچہ وہ سرین کے بل گھسٹ کر چلتا ہو ، مجھ سے پہلے کے لوگ بہتر فرقوں میں تقسیم ہوئے تھے ، ان میں سے تین نے نجات پائی تھی اور باقی سب ہلاکت کا شکار ہو گئے تھے ( وہ تین فرقے یہ تھے : ) ایک گروہ ، وہ تھا کہ جس نے بادشاہوں کے خلاف بغاوت کی اور اپنے دین اور سیدنا عیسیٰ بن مریم علیہ السلام کے دین کے حوالے سے ان لوگوں کے ساتھ جنگ کی ، بادشاہوں نے انہیں پکڑا اور انہیں قتل کر دیا اور آروں کے ذریعے ان کے ٹکڑے ٹکڑے کر دیئے ، ان میں سے ایک ( یعنی دوسرا ) گروہ وہ تھا ، جو بادشاہوں کے خلاف لڑنے کی طاقت نہیں رکھتا تھا اور وہ ان کے درمیان ٹھہر بھی نہیں سکتا تھا ، وہ لوگوں کو اللہ کی طرف اور سیدنا عیسیٰ بن مریم علیہ السلام کے دین کی طرف دعوت دیتے تھے وہ مختلف علاقوں میں پھیل گئے اور انہوں نے رہبانیت اختیار کی ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : یہ وہی لوگ ہیں ، جن کے بارے میں اللہ تعالیٰ نے یہ ارشاد فرمایا ہے : ” اور رہبانیت کا آغاز ، انہوں نے کیا تھا ، یہ ہم نے ان پر لازم قرار نہیں دی تھی اور انہوں نے اُسے اللہ تعالیٰ کی رضامندی کے حصول کے لئے اختیار کیا تھا ۔ “ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : جو شخص مجھ پر ایمان لائے ، میری تصدیق کرے ، میری پیروی کرے ، تو اُس نے رہبانیت کا حقیقی خیال رکھا اور جس نے میری پیروی نہیں کی ، تو وہی لوگ ہلاکت کا شکار ہونے والے ہوں گے ۔ “

حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الفتن - أعاذنا الله منها / حدیث: 12101
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ ضعیف جداً
تخریج حدیث «اخرجه الطبراني فى المعجم الكبير (10357)»