مجمع الزوائد ومنبع الفوائد
كتاب الفتن - أعاذنا الله منها— فتنوں کے بارے میں روایات ( اللہ تعالیٰ ہمیں ان سے محفوظ رکھے )
بَابُ افْتِرَاقِ الْأُمَمِ وَاتِّبَاعِ سُنَنِ مَنْ مَضَى . باب: ( اس امت کا ) مختلف گروہوں مین تقسیم ہونا اور پہلے ( کے امتوں ) کے طریقوں کی پیروی کرنا
وَعَنْ عَمْرِو بْنِ عَوْفٍ قَالَ : كُنَّا قُعُودًا حَوْلَ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فِي مَسْجِدٍ بِالْمَدِينَةِ ، فَجَاءَ جِبْرِيلُ - عَلَيْهِ السَّلَامُ - بِالْوَحْيِ ، فَتَغَشَّى رِدَاءَهُ ، فَمَكَثَ طَوِيلًا حَتَّى سُرِّيَ عَنْهُ ، ثُمَّ كَشَفَ رِدَاءَهُ فَإِذَا هُوَ يَعْرَقُ عَرَقًا شَدِيدًا وَإِذَا هُوَ قَابِضٌ عَلَى شَيْءٍ ، فَقَالَ : " أَيُّكُمْ يَعْرِفُ مَا يَخْرُجُ مِنَ النَّخْلِ ؟ " . قُلْنَا : نَحْنُ يَا رَسُولَ اللَّهِ ، بِآبَائِنَا أَنْتَ وَأُمَّهَاتِنَا ، لَيْسَ شَيْءٌ يَخْرُجُ مِنَ النَّخْلِ إِلَّا نَحْنُ نَعْرِفُهُ ، نَحْنُ أَصْحَابُ نَخْلٍ . ثُمَّ فَتَحَ يَدَهُ فَإِذَا فِيهَا نَوًى ، فَقَالَ : " مَا هَذَا ؟ " . فَقَالُوا : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، نَوًى . فَقَالَ : " نَوَى أَيِّ شَيْءٍ ؟ " . قَالُوا : نَوَى سَنَةٍ . قَالَ : " صَدَقْتُمْ ، جَاءَ جِبْرِيلُ - عَلَيْهِ السَّلَامُ - يَتَعَاهَدُ دِينَكُمْ ، لَتَسْلُكُنَّ سُنَنَ مَنْ قَبْلِكُمْ حَذْوَ النَّعْلِ بِالنَّعْلِ ، وَلَتَأْخُذُنَّ بِمِثْلِ أَخْذِهِمْ إِنْ شِبْرًا فَشِبْرٌ وَإِنْ ذِرَاعًا فَذِرَاعٌ وَإِنْ بَاعًا فَبَاعٌ ، حَتَّى لَوْ دَخَلُوا جُحْرَ ضَبٍّ دَخَلْتُمْ فِيهِ . أَلَا إِنَّ بَنِي إِسْرَائِيلَ افْتَرَقَتْ عَلَى مُوسَى - عَلَيْهِ السَّلَامُ - سَبْعِينَ فِرْقَةً كُلُّهَا ضَالَّةٌ إِلَّا فِرْقَةً وَاحِدَةً الْإِسْلَامُ وَجَمَاعَتُهُمْ . ثُمَّ إِنَّهَا افْتَرَقَتْ عَلَى عِيسَى عَلَيْهِ السَّلَامُ - عَلَى إِحْدَى وَسَبْعِينَ فِرْقَةً كُلُّهَا ضَالَّةٌ إِلَّا وَاحِدَةً الْإِسْلَامُ وَجَمَاعَتُهُمْ . ثُمَّ إِنَّكُمْ تَكُونُونَ عَلَى اثْنَتَيْنِ وَسَبْعِينَ فِرْقَةً كُلُّهَا فِي النَّارِ إِلَّا وَاحِدَةً الْإِسْلَامُ وَجَمَاعَتُهُمْ " . رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ ، وَفِيهِ كَثِيرُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ وَهُوَ ضَعِيفٌ ، وَقَدْ حَسَّنَ التِّرْمِذِيُّ لَهُ حَدِيثًا ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ ثِقَاتٌ . ¤سیدنا عمرو بن عوف رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : ہم مدینہ منورہ میں ، مسجد میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے اردگرد بیٹھے ہوئے تھے ، اسی دوران سیدنا جبرائیل علیہ السلام وحی لے کر آئے ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے چادر اوڑھ لی ، آپ خاصی دیر تک ٹھہرے رہے ، یہاں تک کہ جب آپ کی یہ کیفیت ختم ہوئی اور آپ نے چادر ہٹائی تو آپ کو بہت زیادہ پسینہ آ چکا تھا اور آپ نے کوئی چیز مٹھی میں لی ہوئی تھی ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے دریافت کیا : تم میں سے کون شخص اس چیز کو جانتا ہے جو کھجور کے درخت سے نکلتی ہے ؟ ہم نے عرض کی : یا رسول اللہ ! ہمارے ماں باپ آپ پر قربان ہوں ، کھجوروں میں سے جو چیز بھی نکلتی ہے ، ہم اس سے واقف ہیں ، کیونکہ ہم کھجوروں کا کام کرتے ہیں ، پھر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنا دست مبارک کھولا تو اس میں گٹھلی موجود تھی ، آپ نے دریافت کیا : یہ کیا ہے ؟ لوگوں نے عرض کی : یا رسول اللہ ! یہ گٹھلی ہے ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے دریافت کیا : یہ کسی چیز کی گٹھلی ہے ؟ لوگوں نے عرض کی : قحط سالی کے دنوں کی گٹھلی ہے ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : تم لوگوں نے ٹھیک کہا: ہے ، ابھی جبرائیل آئے اور وہ تمہارے دین کے بارے میں بیان کر رہے تھے کہ تم لوگ اپنے سے پہلے لوگوں کے طریقوں پر ضرور چلو گے ، جس طرح ایک جوتا ، دوسرے جوتے کے برابر ہوتا ہے ، اور تم ان چیزوں کو ضرور اختیار کرو گے ، جنہیں ان لوگوں نے اختیار کیا تھا ، بالشت در بالشت ، ذراع در ذراع ( درمیانی سب سے بڑی انگلی کے کنارے سے لے کر کہنی تک کی مقدار کو ” ذراع “ کہتے ہیں ) اور باغ در باغ ( دونوں بازوؤں کے پھیلاؤ کی مقدار کو ” باع“ کہتے ہیں ) یہاں تک کہ اگر وہ لوگ گوہ کے سوراخ میں داخل ہوئے تھے ، تو تم لوگ بھی اُس میں داخل ہو جاؤ گے ، البتہ یہ ہے کہ بنی اسرائیل ، سیدنا موسیٰ علیہ السلام کے بعد ستر فرقوں میں تقسیم ہو گئے تھے ، وہ تمام فرقے گمراہ تھے ، صرف ایک فرقے کا معاملہ مختلف ہے ، اور وہ اسلام اور اس کی جماعت تھے ، پھر عیسائی سیدنا عیسیٰ علیہ السلام کے بعد اکہتر فرقوں میں تقسیم ہو گئے ، سب فرقے گمراہ تھے ، صرف ایک کا معاملہ مختلف تھا ، اور وہ اسلام اور ان کی جماعت تھا ، اور تم لوگ بہتر فرقوں میں تقسیم ہو جاؤ گے ، سب جہنم میں جائیں گے ، صرف ایک فرقے کا معاملہ مختلف ہے ، وہ اسلام اور ان لوگوں کی جماعت ہے ۔ “
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی کثیر بن عبداللہ ہے اور وہ ضعیف ہے ، امام ترمذی نے اسے حسن الحدیث قرار دیا ہے ، اس روایت کے بقیہ رجال ثقہ ہیں ۔