حدیث نمبر: 12099
وَعَنْ أَبِي الدَّرْدَاءِ وَأَبِي أُمَامَةَ وَوَاثِلَةَ بْنِ الْأَسْقَعِ وَأَنَسِ بْنِ مَالِكٍ قَالُوا : خَرَجَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَوْمًا عَلَيْنَا وَنَحْنُ نَتَمَارَى فِي شَيْءٍ مِنْ أَمْرِ الدِّينِ ، فَغَضِبَ غَضَبًا شَدِيدًا لَمْ يَغْضَبْ مِثْلَهُ ، ثُمَّ انْتَهَرَنَا فَقَالَ : " مَهْلًا يَا أُمَّةَ مُحَمَّدٍ ، إِنَّمَا هَلَكَ مَنْ كَانَ قَبْلَكُمْ بِهَذَا . ذَرُوا الْمِرَاءَ لِقِلَّةِ خَيْرِهِ ، ذَرُوا الْمِرَاءَ فَإِنَّ الْمُؤْمِنَ لَا يُمَارِي ، ذَرُوا الْمِرَاءَ فَإِنَّ الْمُمَارِيَ قَدْ نَمَتْ خَسَارَتُهُ ، ذَرُوا الْمِرَاءَ ، فَكَفَاكَ إِثْمًا أَنْ لَا تَزَالَ مُمَارِيًا ، ذَرُوا الْمِرَاءَ فَإِنَّ الْمُمَارِيَّ لَا أَشْفَعُ لَهُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ ، ذَرُوا الْمِرَاءَ فَأَنَا زَعِيمٌ بِثَلَاثَةِ أَبْيَاتٍ فِي الْجَنَّةِ فِي رِبَاضِهَا وَوَسَطِهَا وَأَعْلَاهَا لِمَنْ تَرَكَ الْمِرَاءَ وَهُوَ صَادِقٌ ، ذَرُوا الْمِرَاءَ فَإِنَّ أَوَّلَ مَا نَهَانِي عَنْهُ رَبِّي بَعْدَ عِبَادَةِ الْأَوْثَانِ الْمِرَاءُ وَشُرْبُ الْخَمْرِ ، ذَرُوا الْمِرَاءَ فَإِنَّ الشَّيْطَانَ يَئِسَ أَنْ يُعْبَدَ ، وَلَكِنَّهُ قَدْ رَضِيَ مِنْكُمْ بِالتَّحْرِيشِ ، وَهُوَ الْمِرَاءُ ، ذَرُوا الْمِرَاءَ ، فَإِنَّ بَنِي إِسْرَائِيلَ افْتَرَقُوا عَلَى إِحْدَى وَسَبْعِينَ فِرْقَةً ، وَالنَّصَارَى عَلَى اثْنَتَيْنِ وَسَبْعِينَ فِرْقَةً ، كُلُّهُمْ عَلَى الضَّلَالَةِ إِلَّا السَّوَادَ الْأَعْظَمَ " . قَالُوا : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، مَنِ السَّوَادُ الْأَعْظَمُ ؟ قَالَ : " مَنْ كَانَ عَلَى مَا أَنَا عَلَيْهِ أَنَا وَأَصْحَابِي ، مَنْ لَمْ يُمَارِ فِي دِينِ اللَّهِ ، وَمَنْ لَمْ يُكَفِّرْ أَحَدًا مِنْ أَهْلِ التَّوْحِيدِ بِذَنْبٍ غُفِرَ لَهُ " . ثُمَّ قَالَ : " إِنَّ الْإِسْلَامَ بَدَأَ غَرِيبًا وَسَيَعُودُ غَرِيبًا " . قَالُوا : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، وَمَنِ الْغُرَبَاءُ ؟ قَالَ : " الَّذِينَ يُصْلِحُونَ إِذَا فَسَدَ النَّاسُ ، وَلَا يُمَارُونَ فِي دِينِ اللَّهِ ، وَلَا يُكَفِّرُونَ أَحَدًا مِنْ أَهْلِ التَّوْحِيدِ بِذَنْبٍ " . رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ ، وَفِيهِ كَثِيرُ بْنُ مَرْوَانَ وَهُوَ ضَعِيفٌ جِدًّا . وَقَدْ تَقَدَّمَتْ أَحَادِيثُ الْمِرَاءِ فِي الْعِلْمِ . ¤
محمد محی الدین

سیدنا ابودرداء ، سیدنا ابوامامہ ، سیدنا واثلہ بن اسقع اور سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہم بیان کرتے ہیں : ” ایک دن نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم ہمارے پاس تشریف لائے ، ہم کسی دینی معاملے کے بارے میں بحث کر رہے تھے ، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم شدید غصے میں آ گئے ، آپ اس طرح پہلے کبھی اتنے غصے میں نہیں آئے تھے ، پھر آپ نے ہمیں جھڑکتے ہوئے ارشاد فرمایا : رک جاؤ ! اے محمد ( صلی اللہ علیہ وسلم ) کی امت ! تم سے پہلے کے لوگ اسی وجہ سے ہلاکت کا شکار ہوئے تھے ، بحث کو چھوڑ دو ، کیونکہ اس میں بھلائی کم ہے ، بحث کو چھوڑ دو ، کیونکہ مومن بحث نہیں کرتا ہے ، بحث کو چھوڑ دو ، کیونکہ بحث کرنے والے کا خسارہ بڑھتا رہتا ہے ، بحث کو چھوڑ دو ، کیونکہ تمہارے گنہگار ہونے کے لئے اتنا ہی کافی ہے کہ تم مسلسل بحث کرتے رہو ، بحث کو چھوڑ دو کیونکہ مسلسل بحث کرنے والے شخص کی ، قیامت کے دن میں شفاعت نہیں کروں گا ، بحث کو چھوڑ دو کیونکہ میں ، جنت میں تین مقامات پر گھر ملنے کی ضمانت دوں گا ، اس کے اطراف والے حصے میں ، اس کے درمیانی حصے میں اور اس کے بالائی حصے میں ( یہ ضمانت ، میں ) اُس شخص کو دوں گا ، جو بحث کو ترک کر دے گا ، جبکہ وہ سچا ہو ، بحث کو چھوڑ دو ! کیونکہ میرے پروردگار نے بتوں کی عبادت اور شراب نوشی کے بعد ، جس پہلی چیز سے مجھے منع کیا ہے ، وہ بحث کرنا ہے ، بحث کو چھوڑ دو ! کیونکہ شیطان اس بات سے مایوس ہو چکا ہے کہ اس کی عبادت کی جائے ، لیکن وہ تمہارے باہمی اختلاف سے بھی راضی ہو جائے گا ، اور وہ باہمی اختلاف بحث کی صورت میں ہوتا ہے ، تم بحث کو چھوڑ دو ! کیونکہ بنی اسرائیل اکہتر فرقوں میں تقسیم ہوئے تھے اور عیسائی بہتّر فرقوں میں تقسیم ہوئے تھے ، سواد اعظم کے علاوہ وہ سب گمراہی پر ہوں گے ۔ ( مطبوعہ نسخے میں
یہ روایت اسی طرح ہے ، لیکن شاید کسی کے سہو کی وجہ سے کچھ عبارت نقل ہونے سے رہ گئی ہے ، کیونکہ سواد اعظم والے کلمات تو امت محمدیہ کے بارے میں ہیں ) ۔ لوگوں نے عرض کی : یا رسول اللہ ! سواد اعظم کون ہیں ؟ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” وہ ( لوگ ) جو اُس چیز پر گامزن ہوں ، جس پر میں اور میرے اصحاب ہیں ، وہ شخص جو اللہ کے دین کے بارے میں بحث نہیں کرتا اور گناہ کے ارتکاب کی وجہ سے اہل توحید میں سے کسی کی تکفیر نہیں کرتا ، اس شخص کی مغفرت ہو جائے گی ۔ “ پھر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” اسلام کا آغاز غریب الوطنی کے عالم میں ہوا تھا ، اور یہ عنقریب دوبارہ غریب الوطن ہو جائے گا ، لوگوں نے عرض کی : یا رسول اللہ ! غریب الوطن لوگوں سے مراد کون ہیں ؟ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : وہ لوگ جو لوگوں کی خرابی کے وقت ٹھیک رہیں اور اللہ کے دین کے بارے میں بحث مباحثہ نہ کریں ، اور اہل توحید میں سے کسی کو کسی گناہ کی وجہ سے کافر قرار نہ دیں ۔ “
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی کثیر بن مروان ہے اور وہ انتہائی ضعیف ہے ۔ اس سے پہلے کتاب العلم میں بحث کرنے سے متعلق کچھ روایات گزر چکی ہیں ۔

حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الفتن - أعاذنا الله منها / حدیث: 12099
درجۂ حدیث محدثین: ضعیف جداً