حدیث نمبر: 12089
وَعَنْ عَقِيلِ بْنِ خَالِدٍ أَنَّ أَبَاهُ كَانَ مَعَ الْحَجَّاجِ لَمَّا قُتِلَ ابْنُ الزُّبَيْرِ ، فَبَعَثَهُ إِلَى أَسْمَاءَ بِنْتِ أَبِي بَكْرٍ فَقَالَ لَهُ : قُلْ لَهَا : يَقُولُ لَكِ الْحَجَّاجُ : اعْزِلِي مَا كَانَ مِنْ مَالٍ عَنْ مَالِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الزُّبَيْرِ . فَقَالَتْ : افْعَلْهَا يَا ابْنَ أَسْمَاءَ [ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ : " يَخْرُجُ مِنْ هَذَا الْحَيِّ مِنْ ثَقِيفٍ رَجُلَانِ أَحَدُهُمَا يَكْذِِبُ ، وَالْآخَرُ مُبِيرٌ . ¤ فَأَمَّا الْكَذَّابُ فَقَدْ عَرَفْنَاهُ وَمَا أَحْسَبُهُ إِلَّا الْمُبِيرُ . فَرَجَعْتُ إِلَيْهِ فَأَخْبَرْتُهُ ، فَلَمْ يَكْرَهْ ذَلِكَ ] . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ ، وَفِيهِ أَبُو زَيْدٍ عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ أَبِي الْغَمْرِ وَلَمْ أَعْرِفْهُ . ¤
محمد محی الدین

عقیل بن خالد بیان کرتے ہیں : اُن کے والد حجاج کے ساتھ تھے ، جب اس نے سیدنا عبداللہ بن زبیر رضی اللہ عنہما کو شہید کیا ، حجاج نے انہیں سیدہ اسماء بنت ابوبکر رضی اللہ عنہما کے پاس بھیجا اور ان سے کہا: تم اس خاتون سے یہ کہہ دینا کہ حجاج آپ سے یہ کہہ رہا ہے کہ عبداللہ بن زبیر رضی اللہ عنہما کا جو مال ہے ، اس کے مال میں سے اپنا مال الگ کر لیں ، تو سیدہ اسماء رضی اللہ عنہا نے فرمایا : کیا اسماء کے بیٹے نے ایسا کیا ہو گا ، میں نے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے : ” ثقیف قبیلے سے دو آدمی نکلیں گے ، جن میں سے ایک جھوٹ بولتا ہو گا ( یعنی نبوت کا جھوٹا دعوی کرے گا ) اور دوسرا خون بہانے والا ہو گا ۔ “ ( پھر سیدہ اسماء رضی اللہ عنہا نے فرمایا : ) جہاں تک نبوت کے جھوٹے دعویدار کا تعلق ہے تو اسے تو ہم جان چکے ہیں اور خون بہانے والے سے مراد ، میرے خیال میں یہی ( یعنی حجاج بن یوسف ) ہو گا ۔ راوی کہتے ہیں : میں واپس حجاج کے پاس آیا اور اسے اس بارے میں بتایا ، تو اس نے اس بات کو ناپسند نہیں کیا ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی ابوزید عبدالرحمن بن ابوغمر ہے اور میں اس راوی سے واقف نہیں ہوں ۔

حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الفتن - أعاذنا الله منها / حدیث: 12089
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ ضعیف
تخریج حدیث «اخرجه الطبراني فى المعجم الكبير (97/24)»