مجمع الزوائد ومنبع الفوائد
كتاب الفتن - أعاذنا الله منها— فتنوں کے بارے میں روایات ( اللہ تعالیٰ ہمیں ان سے محفوظ رکھے )
بَابٌ فِيمَا كَانَ مِنْ أَمْرِ ابْنِ الزُّبَيْرِ . وَيَزِيدُ بْنُ مُعَاوِيَةَ ، وَاسْتِخْلَافُ أَبِيهِ لَهُ ، وَأَيَّامُ الْحَرَّةِ ، وَغَيْرُ ذَلِكَ باب: صلح کے بارے میں اور اس کے بعد جو صورتحال ہوئی اس کے بارے میں جو کچھ منقول ہے
وَعَنْ عَقِيلِ بْنِ خَالِدٍ أَنَّ أَبَاهُ كَانَ مَعَ الْحَجَّاجِ لَمَّا قُتِلَ ابْنُ الزُّبَيْرِ ، فَبَعَثَهُ إِلَى أَسْمَاءَ بِنْتِ أَبِي بَكْرٍ فَقَالَ لَهُ : قُلْ لَهَا : يَقُولُ لَكِ الْحَجَّاجُ : اعْزِلِي مَا كَانَ مِنْ مَالٍ عَنْ مَالِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الزُّبَيْرِ . فَقَالَتْ : افْعَلْهَا يَا ابْنَ أَسْمَاءَ [ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ : " يَخْرُجُ مِنْ هَذَا الْحَيِّ مِنْ ثَقِيفٍ رَجُلَانِ أَحَدُهُمَا يَكْذِِبُ ، وَالْآخَرُ مُبِيرٌ . ¤ فَأَمَّا الْكَذَّابُ فَقَدْ عَرَفْنَاهُ وَمَا أَحْسَبُهُ إِلَّا الْمُبِيرُ . فَرَجَعْتُ إِلَيْهِ فَأَخْبَرْتُهُ ، فَلَمْ يَكْرَهْ ذَلِكَ ] . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ ، وَفِيهِ أَبُو زَيْدٍ عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ أَبِي الْغَمْرِ وَلَمْ أَعْرِفْهُ . ¤عقیل بن خالد بیان کرتے ہیں : اُن کے والد حجاج کے ساتھ تھے ، جب اس نے سیدنا عبداللہ بن زبیر رضی اللہ عنہما کو شہید کیا ، حجاج نے انہیں سیدہ اسماء بنت ابوبکر رضی اللہ عنہما کے پاس بھیجا اور ان سے کہا: تم اس خاتون سے یہ کہہ دینا کہ حجاج آپ سے یہ کہہ رہا ہے کہ عبداللہ بن زبیر رضی اللہ عنہما کا جو مال ہے ، اس کے مال میں سے اپنا مال الگ کر لیں ، تو سیدہ اسماء رضی اللہ عنہا نے فرمایا : کیا اسماء کے بیٹے نے ایسا کیا ہو گا ، میں نے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے : ” ثقیف قبیلے سے دو آدمی نکلیں گے ، جن میں سے ایک جھوٹ بولتا ہو گا ( یعنی نبوت کا جھوٹا دعوی کرے گا ) اور دوسرا خون بہانے والا ہو گا ۔ “ ( پھر سیدہ اسماء رضی اللہ عنہا نے فرمایا : ) جہاں تک نبوت کے جھوٹے دعویدار کا تعلق ہے تو اسے تو ہم جان چکے ہیں اور خون بہانے والے سے مراد ، میرے خیال میں یہی ( یعنی حجاج بن یوسف ) ہو گا ۔ راوی کہتے ہیں : میں واپس حجاج کے پاس آیا اور اسے اس بارے میں بتایا ، تو اس نے اس بات کو ناپسند نہیں کیا ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی ابوزید عبدالرحمن بن ابوغمر ہے اور میں اس راوی سے واقف نہیں ہوں ۔