مجمع الزوائد ومنبع الفوائد
كتاب الفتن - أعاذنا الله منها— فتنوں کے بارے میں روایات ( اللہ تعالیٰ ہمیں ان سے محفوظ رکھے )
بَابٌ فِيمَا كَانَ مِنْ أَمْرِ ابْنِ الزُّبَيْرِ . وَيَزِيدُ بْنُ مُعَاوِيَةَ ، وَاسْتِخْلَافُ أَبِيهِ لَهُ ، وَأَيَّامُ الْحَرَّةِ ، وَغَيْرُ ذَلِكَ باب: صلح کے بارے میں اور اس کے بعد جو صورتحال ہوئی اس کے بارے میں جو کچھ منقول ہے
وَعَنِ الْقَاسِمِ بْنِ مُحَمَّدٍ قَالَ : جَاءَتْ أَسْمَاءُ بِنْتُ أَبِي بَكْرٍ مَعَ جِوَارٍ لَهَا ، وَقَدْ ذَهَبَ بَصَرُهَا ، فَقَالَتْ : أَيْنَ الْحَجَّاجُ ؟ فَقُلْنَا : لَيْسَ هُوَ هُنَا ، قَالَتْ : فَمُرُوهُ فَلْيَأْمُرْ لَنَا بِهَذِهِ الْعِظَامِ [ فَأِنِّي سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَنْهَى عَنِ الْمُثْلَةِ ، قُلْنَا إِذَا جَاءَ قُلْنَا لَهُ . قَالَتْ : فِإِذَا جَاءَ فَأَخْبِرُوهُ أَنِّي سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَقُولُ : " يَخْرُجُ فِي ثَقِيفَ كَذَّابٌ وَمُبِيرٌ " ] . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ ، وَفِيهِ يَزِيدُ بْنُ أَبِي زِيَادٍ ، وَالْأَكْثَرُ عَلَى ضَعْفِهِ ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ ثِقَاتٌ . ¤قاسم بن محمد بیان کرتے ہیں : سیدہ اسماء بنت ابوبکر رضی اللہ عنہما اپنی لڑکیوں کے ساتھ آئیں ان کی بینائی رخصت ہو چکی تھی ، انہوں نے دریافت کیا : حجاج کہاں ہے ؟ ہم نے کہا: وہ یہاں نہیں ہے ، انہوں نے کہا: تم اسے کہہ دینا کہ وہ یہ ہڈیاں ( یعنی سیدنا عبداللہ بن زبیر رضی اللہ عنہما کی میت ) ہمیں دینے کا حکم دیدے ، کیونکہ میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو مثلہ کرنے سے منع کرتے ہوئے سنا ہے ، راوی کہتے ہیں : ہم نے کہا: جب وہ آئے گا تو ہم اس سے یہ بات کہہ دیں گے ، سیدہ اسماء رضی اللہ عنہا نے فرمایا : جب وہ آئے تو اسے یہ بات بھی بتا دینا کہ میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے : ” ثقیف قبیلے میں ایک کذاب ( یعنی نبوت کا جھوٹا دعویدار ) اور ایک خون بہانے والا شخص نکلے گا ۔ “
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے اس کی سند میں ایک راوی یزید بن ابوزیاد ہے ، زیادہ تر لوگوں نے اسے ضعیف قرار دیا ہے ، اس روایت کے بقیہ رجال ثقہ ہیں ۔